Tuesday , April 24 2018
Home / Top Stories / پوٹن کی شاندار کارکردگی ، ریکارڈ چوتھی بار روس کے صدر منتخب

پوٹن کی شاندار کارکردگی ، ریکارڈ چوتھی بار روس کے صدر منتخب

 

ماسکو ۔ 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ولادیمیر پوٹن کے ساتھ وہی ہوا جس کی توقع کی جارہی تھی۔ وہ ایک بار پھر (چوتھی بار) چھ سالہ میعاد کیلئے روس کے صدر منتخب ہوگئے کیونکہ انہیں صدارتی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے لیکن مغربی ممالک سے چونکہ ان کے تعلقات اتنے خوشگوار نہیں ہیں جتنے ہونے چاہئے تھے لہٰذا مبارکبادی کے پیغامات بھی صرف ان کے قریبی حلیف ممالک کی جانب سے وصول ہوئے ہیں۔ یاد رہیکہ پوٹن وہی قائد ہیں جنہوں نے روس پر 20 سالوں کی حکمرانی کی لیکن اس بار انہوں نے 76.61 ووٹس اپنے حق میں کرتے ہوئے انتخابات میں جیت کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے کیونکہ اس سے قبل ان کی کارکردگی کبھی بھی اتنی شاندار نہیں رہی تاہم انہوں نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ وہ روس کے تاحیات صدر ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ ہر ملک کی اپوزیشن کا یہ دعویٰ ہوتا ہیکہ رائے دہی کے دوران دھاندلی کی گئی ہے بالکل ویسا ہی الزام روس کی اپوزیشن نے بھی پوٹن پر عائد کیا ہے کہ رائے دہی میں دھاندلی اور بے ایمانی ہوئی ہے۔ پوٹن کا اقتدار اب 2024ء تک تو یقینی ہوچکا ہے اور اس طرح روس میں اسٹالن کے بعد پوٹن سب سے زیادہ طویل مدت کیلئے اقتدار پر رہنے والے دوسرے روسی قائد بن گئے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر تردید کی کہ وہ تاحیات روس کے صدر بننا نہیں چاہتے۔
کچھ روز قبل پوٹن نے چین کے صدر ژی جن پنگ کو ان کے (ژی) چین کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی تھی اور اب ژی جن پنگ کی باری تھی جنہوں نے روسی صدر پوٹن کو ایک بار پھر صدارت کی باگ ڈور سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ چین روس کے ساتھ اپنی باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا خواہاں ہے۔ اس وقت بھی روس اور چین کی حکمت عملی کی شراکت داری اس بہترین سطح پر ہے جس نے نئی تاریخ رقم کی ہے اور بین الاقوامی تعلقات استوار کرنے دیگر ممالک کیلئے ایک مثال بھی قائم کی ہے۔ پوٹن نے اس موقع پر اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ایسا سمجھتے ہیں کہ میں 2030ء میں بھی صدارتی انتخابات لڑوں گا، تو یہ آپ کی غلطی ہے۔ کیاں میں یہاں اس وقت تک رہوں گا جب تک میری عمر 100 سال نہیں ہوجاتی؟ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس نتائج نے ایک بات کی توثیق تو کردی ہے اور وہ یہ کہ عوام کو میری صلاحیتوں اور میری پالیسیوں پر پورا پورا اعتماد ہے۔ کریملن سے قریب ایک چوک میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات کہی۔ ووٹرس کا تناسب 76 فیصد ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے جس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ ہر ووٹر نے مکان میں بیٹنھے کو ترجیح نہ دیتے ہوئے پولنگ بوتھ پر پہنچنا بہتر سمجھا۔ رائے دہی کے روز ایک تہوار جیسا سماں تھا جہاں سیلفیاں لی جارہی تھیں۔ فوڈ فیسٹیولس اور بچوں کو مختلف تفریحی پروگرام سے محظوظ کرنے والے ہاں موجود تھے تاہم یہ شکایتں مل رہی ہیں کہ خانگی کمپنیوں کے ملازمین کو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے پولنگ اسٹیشن آنے کی اجازت بڑی مشکل سے دی گئی۔ انتخابات کے نتائج میں رنراپ گروڈنین نے رائے دہی میں بے ایمانی اور دھاندلی کی شکایت کی۔ اب تک جن قائدین نے پوٹن کو مبارکباد پیش کی ہے ان میں چین کے صدر ژی جن پنگ، ونیزویلا اور بولیویا کے صدور بھی شامل ہیں۔ چین تو روس کے ساتھ اب مستحکم تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے۔ جہاں تک برطانیہ کا سوال ہے تو اس نے حال ہی میں پوٹن پر سابق ڈبل ایجنٹ سرگی اسکریپال کو زہر دیکر ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور 23 روسی سفارتی عہدیداروں کو لندن چھوڑنے کی ہدایت کی تھی جس پر روس نے بھی ’’جیسے کو تیسا‘‘ والا رویہ اختیار کیا۔

TOPPOPULARRECENT