Saturday , December 15 2018

پوٹین کی آمد، آج مودی سے ملاقات

نئی دہلی ، 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) روسی صدر ولادیمیر پوٹین آج رات دیر گئے یہاں پہنچ گئے تاکہ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ سالانہ چوٹی بات چیت منعقد کی جائے جس کا مقصد پہلے سے قریبی کلیدی روابط کو بالخصوص نیوکلیائی توانائی، ہائیڈروکاربنس اور دفاع کے شعبوں میں آگے بڑھاناہے۔ پوٹین جن کے ہمراہ تجارتی شخصیتوں کے بشمول اعلیٰ سطح کا وفد ہ

نئی دہلی ، 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) روسی صدر ولادیمیر پوٹین آج رات دیر گئے یہاں پہنچ گئے تاکہ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ سالانہ چوٹی بات چیت منعقد کی جائے جس کا مقصد پہلے سے قریبی کلیدی روابط کو بالخصوص نیوکلیائی توانائی، ہائیڈروکاربنس اور دفاع کے شعبوں میں آگے بڑھاناہے۔ پوٹین جن کے ہمراہ تجارتی شخصیتوں کے بشمول اعلیٰ سطح کا وفد ہے، اُن کا استقبال وزیر پٹرولیم دھرمیندر پردھان و دیگر نے کیا۔

چوٹی کانفرنس کے بعد 15 تا 20 معاہدات پر دستخط کا امکان، پوٹن کا دورہ ہند

کئی اہم شعبوں جیسے نیوکلیئر توانائی، ہائیڈرو کاربن اور دفاع میں باہمی تعلقات میں توسیع پر صدر روس ولادیمیر پوٹن اور وزیراعظم ہند نریندر مودی کی چوٹی کانفرنس کے دوران توجہ مرکوز کی جائے گی جس کا آغاز کل سے ہورہا ہے اور جس کا مقصد دونوں ممالک کی پہلے ہی سے جاری دفاعی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ مودی کے ساتھ بات چیت کے دوران دونوں قائدین دوبدو بات چیت کریں گے اور وفود کی سطح پر بعدازاں بات چیت ہوگی۔ امکان ہیکہ پوٹن گہرے معاشی روابط اپنے آزمودہ حلیف کے ساتھ اضافہ کرنے پر زور دیں گے تاکہ روس اور اس کے مغربی حلیفوں کے یوکرین کے مسئلہ پر روس پر عائد تحدیدات کو بے اثر کیا جاسکے۔ دونوں ممالک چوٹی کانفرنس کے بعد 15 تا 20 معاہدات پر دستخط کے منتظر ہیں۔ 2000 سے ماسکو اور نئی دہلی میں باری باری سے چوٹی کانفرنس منعقد کی جاتی رہی ہے۔ دورہ سے پہلے پوٹن نے ہندوستان کو ’’مراعات یافتہ دفاعی شراکت دار‘‘ قرار دیا اور کہا کہ نئے نیوکلیئر پلانٹس کی تعمیر کے علاوہ فوجی اور ٹیکنیکل تعاون چوٹی کانفرنس کے موضوعات میں سرفہرست ہیں۔ روس سیال قدرتی گیس ہندوستان کو برآمد کرنے سے گہری دلچسپی رکھتا ہے

اور بحرمنجمد شمالی میں تیل اور گیس کی تلاش میںاو این جی سی کے ساتھ شراکت داری کرنا چاہتا ہے۔ ہندوستان میں برقی توانائی کی قلت ہے۔ اسی وجہ سے یہ امریکہ اور چین کے بعد تیسرا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ہے۔ گیس اور تیل کی تلاش کے بڑے پراجکٹس میں ہندوستان کی عظیم تر شراکت داری ہے۔ دونوں ممالک کے قائدین اس مسئلہ پر بھی بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ روس تیل پیدا کرنے والے عالمی ممالک میں ایک بڑآ ملک ہے جس کے پاس قدرتی گیس کے بھی بھاری ذخائر ہیں۔ نیوکلیئر توانائی کے شعبہ میں امکان ہیکہ روس 20 تا 24 نیوکلیئر توانائی پیداواری کارخانے ہندوستان میں قائم کرنے پر آمادہ ہوجائے گا۔

ماضی میں اس نے 14 تا 16 کارخانے قائم کرنے سے اتفاق کیا تھا۔ دونوں ممالک امکان ہیکہ بحیثیت مجموعی توانائی کے شعبہ میں باہمی تعاون کا ایک لائحہ عمل تیار کریں گے۔ روسی سفیر برائے ہندوستان الیگژینڈر کاڈاکن نے کہا کہ دونوں ممالک 5 اور 6 نیوکلیئر توانائی کارخانے جلد ہی کوڈنکلم نیوکلیئر توانائی عمارت میں قائم کریں گے۔ اس سلسلہ میں ایک ٹیکنیکل معاہدہ پوٹن کے ہندوستان میں قیام کے دوران ہی طئے پائے گا۔ نیوکلیئر توانائی کے پلانٹس کے قیام کے سلسلہ میں واجبات کے سلسلہ میں امریکہ و مغربی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے سخت اختلافات ہیں۔ مغربی ممالک اور امریکہ نیوکلیئر توانائی تحفظ کے سلسلہ میں واجبات کی ذمہ داری ہندوستان پر ہی عائد کرنا چاہتے ہیں جبکہ روس کے ساتھ اس قسم کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT