Thursday , December 14 2017
Home / دنیا / پوپ فرانسیس کا نومبر میں دورہ میانمار

پوپ فرانسیس کا نومبر میں دورہ میانمار

ینگون ۔ 12 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) پوپ فرانسیس اپنے دورہ میانمار کے دوران قیام امن کیلئے متعلقہ حکام سے بات کرینگے۔ کیتھولک چرچ کے ایک نمائندہ نے آج یہ بات بتائی۔ یاد رہیکہ پوپ فرانسیس کے اس دورہ کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے کیونکہ وہ ایک ایسے وقت میانمار کا دورہ کررہے ہیں جب روہنگیا مسلمان کی ایک بڑا تعداد یعنی تقریباً 520,000 اکثریتی بدھ فرقہ کے ظلم و جبر اور قتل عام سے خوفزدہ ہوکر پڑوسی ملک بنگلہ دیش فرار ہوچکی ہے۔ راکھین اسٹیٹ میں سب سے زیادہ تباہی مچائی گئی جبکہ میانمار کی فوج کا استدلال ہیکہ وہ صرف روہنگیا دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کررہی ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کو قبل ازیں پوپ فرانسیس نے برادرس اور سسٹرس (بھائی اور بہن) کہا تھا۔ اس وقت روہنگیا مسلمانوں کی تائید یا ہمدردی میں کچھ بھی کہنا اکثریتی بدھ فرقہ کی ناراضگی مول لینا ہے اور بدھسٹ عوام بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا اس وقت روہنگیا مسلمانوں کیساتھ آخر ہمدردی کا اظہار کیوں کررہی ہے۔ میانمار میں بدھسٹوں اور مسلمانوں کے علاوہ عیسائیوں کی بھی قابل لحاظ آبادی ہے جو زیادہ تر شمال کے دوردراز علاقوں میں آباد ہیں جیسا کہ بنگلہ دیش میں ہے جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے لیکن عیسائیوں کی بھی قابل لحاظ آبادی ہے۔ دریں اثناء میانمار میں کیتھولک چرچ کے ایک ترجمان نے کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہیکہ پوپ فرانسیس 27 تا 30 نومبر اپنے دورہ کے دوران روہنگیا بحران کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT