Saturday , January 20 2018
Home / کھیل کی خبریں / پُرجوش پاکستان کے ردھم کا آج میزبان آسٹریلیا کی طاقت سے مقابلہ

پُرجوش پاکستان کے ردھم کا آج میزبان آسٹریلیا کی طاقت سے مقابلہ

اڈیلیڈ ، 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ورلڈ کپ میں پچھڑنے کے بعد پُرجوش واپسی کرنے والے پاکستان کی بھرپور کوشش رہے گی کہ یہ ردھم ٹوٹنے نہ پائے جب وہ طاقتور میزبان آسٹریلیا کا جاریہ ٹورنمنٹ کے تیسرے کوارٹرفائنل میں کل یہاں سامنا کریں گے۔ لگاتار چار کامیابیوں کے بل بوتے پر جن میں سے ایک طاقتور جنوبی افریقی ٹیم کے خلاف شامل ہے، پاکستان نے ابت

اڈیلیڈ ، 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ورلڈ کپ میں پچھڑنے کے بعد پُرجوش واپسی کرنے والے پاکستان کی بھرپور کوشش رہے گی کہ یہ ردھم ٹوٹنے نہ پائے جب وہ طاقتور میزبان آسٹریلیا کا جاریہ ٹورنمنٹ کے تیسرے کوارٹرفائنل میں کل یہاں سامنا کریں گے۔ لگاتار چار کامیابیوں کے بل بوتے پر جن میں سے ایک طاقتور جنوبی افریقی ٹیم کے خلاف شامل ہے، پاکستان نے ابتدائی دو شکستوں سے سنبھل کر ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی میں کامیاب ہوا ہے۔ مصباح الحق نے اپنی ذمے دارانہ بیٹنگ کے ذریعے ٹیم کو اُبھارنے میں نمایاں رول ادا کیا ہے اور اب کپتان کو اس ٹورنمنٹ کا سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے کیونکہ انھیں آسٹریلیا سے ٹکرانا ہے، جنھیں پاکستانیوں نے پرتھ میں 2005ء کی اپنی جیت کے بعد سے اُن کی سرزمین پر نہیں ہرایا ہے۔ عام حالات بری طرح ایشیائی قوم کے خلاف ہیں جیسا کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف وطن سے دور اپنے گزشتہ سات مقابلے ہارے ہیں۔

تاہم پاکستان ناقابل قیاس ٹیم ہونے کے ناطے آسٹریلیا کی برتری کو زوال پذیر کرسکتے ہیں بشرطیکہ اُن کے بولرز اپنی ذمے داری عمدگی سے نبھائیں۔ آٹھ ورلڈ کپ میچوں میں دونوں ٹیموں نے چار، چار میچز جیتے اور آخری میچ میں پاکستان ہی رہا جو 2011ء ایڈیشن میں کولمبو میں فاتح بن کر اُبھرا تھا۔ طویل قامت لیفٹ آرم پیس بولر محمد عرفان سے کولہے کی انجری کے سبب محرومی اس میچ سے قبل کوئی اچھی تبدیلی نہیں ہوئی اور مصباح کو توقع رہے گی کہ وہاب ریاض اور سہیل خان بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ پیش کریں۔ پاکستان کو وکٹ کیپر ۔ بیٹسمن سرفراز احمد سے بھی امیدیں ہوں گی، جنھوں نے لازمی جیت والے مقابلے میں آئرلینڈ کے خلاف سنچری اسکور کی اور ٹاپ آرڈر میں اپنے اچھے تسلسل کو جاری رکھا۔

مصباح نے کہا کہ اُن کے کھلاڑی اس میچ کیلئے ذہنی طور پر پوری طرح تیار ہیں۔ ’’میرے خیال میں چار لگاتار کامیابیاں آپ کو ایک ٹیم کے طور پر کافی اعتماد دیتی ہیں ، سب کھلاڑی کافی ہشاش بشاش ہیں اور ردھم ہمارے ساتھ ہے اور یہی بہترین وقت ہے کہ ایسی اچھی ٹیم کے خلاف کھیلیں کیونکہ ہم بھی بہتر محسوس کررہے ہیں،‘‘ مصباح نے یہ بات کہی۔ پاکستانی کپتان نے مزید کہا، ’’ہر کوئی انھیں فیورٹ کہہ رہا ہے اور اگر کوئی دیگر ٹیم انھیں ہرائے تو اسے اپ سٹ کہتے ہیں، لہٰذا ہماری طرف سے اگر ہم ایسا کرسکیں تو یہ پاکستان کرکٹ کیلئے بہت اچھا ہے‘‘۔ تاریخ چار مرتبہ کے چمپینس آسٹریلیا کے حق میں لیکن اس ٹورنمنٹ میں اُن کی مہم ابھی تک ملی جلی رہی ہے۔ انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف وہ اپنی کامیابیوں میں غالب رہے

لیکن شریک میزبان نیوزی لینڈ کے خلاف انھیں بیٹنگ کے حیران کن بکھراؤ سے دوچار ہونا پڑا اور آخرکار وہ ایک وکٹ سے میچ ہار گئے۔ آسٹریلیا کے کوچ ڈارن لیمن نے امید ظاہر کی کہ کھلاڑی کچھ بہتر مظاہرہ پیش کریں گے کیونکہ بڑا مرحلہ آچکا ہے۔ لیمن نے کہا: ’’یہاں سے ہمارے لئے کوئی بہانے نہیں ہوں گے۔ ہمیں بس اسی طرز کی کرکٹ کھیلنا ہوگا جیسے ہم اس ٹورنمنٹ کے زیادہ تر حصے میں کھیلتے آئے ہیں۔ یہ واقعی کھلاڑیوں کو کاٹ دار رکھنے کا معاملہ ہے اور انھوں نے اس میں اپنی مہارت دکھائی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ سمجھنے اور سیکھنے پر آمادہ عظیم کھلاڑی ہیں جو ہمیشہ اپنے کھیل کو بہتر بنانے کوشاں رہتے ہیں۔
میچ کا آغاز : صبح 9:00 بجے (IST )

TOPPOPULARRECENT