Tuesday , November 21 2017
Home / اداریہ / پٹرولیم اشیا کی قیمتیں اور حکومت

پٹرولیم اشیا کی قیمتیں اور حکومت

کیا بات کوئی اس بت عیار کی سمجھے
بولے ہے جو مجھ سے تو اشارات کہیں اور
پٹرولیم اشیا کی قیمتیں اور حکومت
مرکز کی نریندر مودی حکومت ایسا لگتا ہے کہ عوام کی توجہ کو مختلف سمتوں میں بانٹ کر اپنے ایجنڈہ کو پورا کرنے میں مصروف ہے ۔ وہ ملک میں ایسے مسائل کو ہوا دینے میںلگی ہوئی ہے جن سے عام آدمی کا کوئی راست تعلق نہیں ہوتا ۔ وہ مذہبی نوعیت کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ملک میں نفرت اور بے چینی کا ماحول پیدا کر رہی ہے ۔ اس کا ایسے کاموں سے اصل مقصد بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے اور ان کو ایسا مسائل میںالجھنا ہے جن سے نہ ملک کو کوئی فائدہ ہوسکتا ہے اور نہ ملک کے عوام کو ۔ مودی حکومت نے وقفہ وقفہ سے متنازعہ مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے اپنے وعدوں اور ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹائی ہے ۔ اس نے لوک سبھا انتخابات کے دوران وعدہ کیا تھا کہ بیرون ملک رکھے ہوئے کالے دھن کو واپس لایا جائیگا اور پھر ہر ہندوستانی کے بینک اکاؤنٹ میں دس تا پندرہ لاکھ روپئے مفت جمع کروائے جائیں گے ۔ انتخابات کے بعد یہ اعتراف کرلیا گیا کہ یہ محض ایک انتخابی جملہ تھا ۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ مودی اور ان کے حواریوں نے تو اس جملہ سے فائدہ اٹھالیا اور مرکز میں اقتدار حاصل کرلیا لیکن عوام کو حالات کی مار سہنے کیلئے چھوڑ دیا گیا ۔ بی جے پی اور مودی نے مہنگائی پر قابو پانے کا عوام سے وعدہ کیا تھا لیکن سابقہ حکومت میں جو قیمتیں تھیں ان میں صد فیصد سے زیادہ اضافہ ہوگیا ۔ 80 روپئے کیلو بکنے والی دالوں کی قیمتیں 200 روپئے فی کیلو کے آس پاس پہونچ گئیں۔ عوام کو اس کا بھی احساس کرنے کا موقع نہیں دیا گیا اور انہیں دوسرے مسائل میں الجھا دیا گیا ۔ پٹرول کی قیمتوں میں عالمی منڈی میں زبردست گراوٹ آئی تھی لیکن حکومت نے اس سے بچنے والی ساری دولت سے خزانہ بھر لیا اور عوام کو اس کا فائدہ دینے سے گریز کیا ۔ اب قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے تو بوجھ راست عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے ۔ جن دنوں گراوٹ آئی تھی ان دنوں حکومت نے فائدہ اٹھالیا اور اس فائدہ میں کمی کرنے کیلئے حکومت تیار نہیںہے ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کل رات پھر بھاری اضافہ کردیا گیا ہے وجہ بین الاقوامی مارکٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قرار دیا گیا ہے ۔ اس وقت بھی حکومت نے توجہ ہٹانے کی حکمت عملی کو اختیار کرتے ہوئے یہ اضافہ کیا ہے ۔
پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہا ہے ۔ اب جبکہ اضافہ بھی زیادہ ہوا ہے اور اس وقت عوام کی ناراضگی پیدا ہونے کے اندیشے ہیں تو اس سے قبل حکومت نے توجہ ہٹانے کا انتظام بھی پہلے ہی سے کر رکھا ہے ۔ اس نے جہاں مقبوضہ کشمیر میں سرجیکل حملوں پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے عوام میں ایک موضوع چھوڑ دیا تھا وہیں اب یکساں سیول کوڈ اور تین طلاق جیسے مسائل پر سارے ملک کو الجھا دیا ہے ۔ جب ملک بھر میں ان مسائل پر عوامی سطح پر بھی مباحث چل رہے ہیں حکومت نے خاموشی سے اپنا ایجنڈہ آگے بڑھا دیا اور اس نے پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کروادیا ۔ اس اضافہ پر حکومت کا یہی موقف ہوگا کہ ان قیمتوں پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور بین الاقوامی مارکٹ کی قیمتوں کے مطابق یہ اضافہ ہو رہا ہے لیکن جس وقت قیمتوں میں کمی ہوئی تھی اس وقت حکومت نے اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے صارفین کو ملنے والی راحت سے اپنے خزانے بھر لئے تھے اب بھی اگر حکومت چاہتی تو اپنے محاصل اور اکسائز ڈیوٹیز میں قدرے کمی کرتے ہوئے عوام پر بوجھ عائد کرنے سے گریز کیا جاسکتا تھا ۔ مودی حکومت نے عوام کو ہونے والا فائدہ تو خود حاصل کرلیا اور مالیاتی بوجھ راست عوام پر منتقل کردیا ۔ یہ حکومت کا دوہرا معیار ہے اور توجہ ہٹا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کی حکمت عملی ہے ۔ اس پر ملک کی ذمہ دار اپوزیشن جماعتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ حکومت سے جواب طلب کرے اور ملک کے عوام میں بھی اس تعلق سے شعور بیدار کرنے کی کوشش کی جائے ۔
مودی حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کا وعدہ کیا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور اب بھی پٹرولیم اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور خاص طور پر ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کرتے ہوئے حکومت نے مزید مہنگائی کے راستے کھول دئے ہیں۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا اثر روز مرہ کے استعمال کی تقریبا ہر شئے پر ہوتا ہے اور یہ قیمتیں اور بھی بڑھ جائیں گی ۔ ملک کی یہ حکمت عملی عوام کو بیوقوف بنانے اور انہیں گمراہ کرنے کے مترادف ہے ۔ انہیں لا یعنی مسائل میں الجھا کر حکومت اپنے مالیاتی عزائم کو پورا کرنے میں جٹی ہوئی ہے ۔ ملک کے عوام کو چاہئے کہ وہ حکومت کی اس طرح کی کوششوں کے خلاف ہوشیار ہوجائیں اور صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے حکومت کی ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے آگے آئیں۔ عوام کو اپنے حقوق کیلئے آگے آنا ہی ہوگا تاکہ حکومت کو راہ راست پر لایا جاسکے اور توجہ ہٹانے کی اس کی حکمت عملی کو ناکام بنایا جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT