Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / پٹرول اور ڈیزل جی ایس ٹی دائرہ میں لایا گیا تو …

پٹرول اور ڈیزل جی ایس ٹی دائرہ میں لایا گیا تو …

حیدرآباد ۔ 15 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : پٹرول ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائرے میں شامل کرنے پر فی لیٹر پٹرول کی قیمت 40 روپئے ہوجائے گی ۔ اچھے دن آئیں گے کا نعرہ تب ہی شرمندہ خواب ہوسکتا ہے ۔ انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی نے ہر جلسہ عام میں اچھے دن آئیں گے کا نعرہ دیتے ہوئے عوام کا اعتماد حاصل کیا تھا ۔ اقتدار کے ساڑھے تین سال مکمل ہونے کے باوجود کسی بھی شہری کے اکاونٹ میں 15 لاکھ روپئے جمع نہیں ہوئے ۔ پہلے نوٹ بندی کے ذریعہ عوام کو پریشان کیا گیا پھر جی ایس ٹی کے ذریعہ گھریلو اخراجات میں اچانک 30 فیصد کا اضافہ کردیا گیا ۔ ’ ایک ملک ایک ٹیکس ‘ کے ذریعہ غریب عوام کی زندگیوں پر زیادہ مالی بوجھ عائد کردیا گیا ۔ مگر پٹرول و ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائرے میں شامل نہ کرتے ہوئے این ڈی اے حکومت عوام کے صبر کا امتحان لے رہی ہے ۔ نریندر مودی حکومت کے ساڑھے تین سال مکمل ہوگئے ہیں مگر غریب عوام کے لیے ابھی تک اچھے دن نہیں آئے ۔ جی ایس ٹی پر عمل آوری سے کئی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ مگر کوئی کمی نہیں ہوئی ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر روزانہ نظر ثانی کرتے ہوئے قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا گیا ہے ۔ مرکزی وزیر پٹرولیم دھرمندرا پردھان نے پٹرولیم اشیاء کو بھی جی ایس ٹی میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی ہے ، جس کو جی ایس ٹی کونسل نے مسترد کردیا ہے ۔ 2014-17 تک تین سال کے درمیان عالمی منڈی میں خام آئیل کی قیمت میں 50 فیصد کمی آئی ہے ۔ لیکن اس کی مناسبت سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں گھٹی نہیں ہے ۔ 2014 سے پٹرول پر اکسائز ڈیوٹی میں 54 فیصد ویاٹ پر 46 فیصد اور ڈیلر کے کمیشن میں 73 فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ ڈیزل پر اکسائز ڈیوٹی 154 فیصد ویاٹ پر 48 فیصد اور ڈیلر کمیشن میں 73 فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ اگر پٹرول و ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائرے میں شامل کیا جاتا ہے اور 28 فیصد ٹیکس عائد کیا جاتا ہے تو بھی ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں فی لیٹر پٹرول کی قیمت 43.44 روپئے فی لیٹر ہوگی اگر 12 فیصد ٹیکس عائد کیا جاتا ہے تو 38 روپئے فی لیٹر ہوگی ۔ اس طرح ڈیزل پر 28 فیصد ٹیکس عائد کرنے سے ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 48.88 روپئے ہوگی ۔ اگر اس کو 18 اور 12 فیصد کردیا جاتا ہے تو ڈیزل کی قیمتیں مزید گھٹ جائیں گی ۔ اکسائز ڈیوٹی کے نام سے مرکزی حکومت بھاری ٹیکس وصول کررہی ہے ۔ نومبر 2014 سے جنوری 2016 تک 9 مرتبہ اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ۔ اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کرنے سے مرکزی حکومت کے خزانے کو 2,42,000 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے جو 2014-15 کے درمیان 99 ہزار کروڑ تھی ۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے پٹرول پر 27 فیصد اور ڈیزل پر 16.75 فیصد ویاٹ وصول کیا جارہا ہے ۔ اتنی بھاری آمدنی سے مرکزی حکومت محروم ہونے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ جس کی وجہ پٹرول و ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائرے میں شامل نہیں کیا جارہا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT