Wednesday , December 13 2017
Home / اداریہ / پٹرول قیمتیں ‘ حکومت اور عوام

پٹرول قیمتیں ‘ حکومت اور عوام

لے کے چٹکی میں نمک آنکھ میںجادو بھر کے
وہ مچلتے ہیں کہ ہم زخم جگر دیکھیں گے
پٹرول قیمتیں ‘ حکومت اور عوام
ہندوستان میں پٹرولیم اشیا کی قیمتیں ہمیشہ ہی ایک حساس اور اہم مسئلہ رہی ہیں۔ حکومت ماضی میں بارہا یہ ادعا کرتی رہی ہے کہ وہ پٹرول ‘ ڈیزل ‘ پکوان گیس ‘ کیروسین وغیرہ پر سبسڈی فراہم کر رہی ہے اور اس کو ہزاروں کروڑ روپئے کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ جس وقت عالمی مارکٹ میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تھا اس وقت حکومت نے یہ بوجھ خود برداشت کرنے کی بجائے اس کو عوام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اندرون ملک پٹرول کی قیمتوں کو بین الاقوامی مارکٹ کی قیمتوں سے مربوط کردیا گیا تھا اور جو بھی اضافہ ہوتا اسے راست عوام پر منتقل کردیا جاتا ۔ اس طرح اس معاملہ میں حکومت نے اپنے رول سے دستبرداری اختیار کرلی تھی ۔ جیسے جیسے بین الاقوامی مارکٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہونی شروع ہوئی حکومت نے بالواسطہ طور پر دوبارہ اپنا رول بحال کرلیا ہے ۔ جس وقت قیمتوں میں اضافہ ہو رہا تھا اس وقت تک یہ بوجھ راست عوام پر منتقل کیا جاتا رہا لیکن جب قیمتوں میں کمی ہونی شروع ہوگئی تو اس کے فوائد عوام تک پہونچانے کی بجائے حکومت اپنے خزانے بھرنے پر توجہ دے رہی ہے اور عوام مسلسل بوجھ برداشت کرتے جا رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں مہنگائی پر بھی قابو پانے میں مدد نہیں مل رہی ہے ۔ جس وقت پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ہوتا گیا تھا اس کے اثرات کے نتیجہ میں دوسری اشیا کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا گیا تھا اور یہ بوجھ بھی عوام نے برداشت کیا تھا لیکن اب قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو نہیں پہونچایا جا رہا ہے بلکہ حکومت یہ فائدہ ہڑپ کرتی جا رہی ہے ۔ اگر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوںمیں کمی کو راست عوام تک پہونچایا جاتا ہے تو اس کے نتیجہ میں دوسری اشیا کی قیمتوں میں بھی کمی آسکتی ہے ۔ ریل کے کرایوں پر اثر ہوسکتا ہے اور ریاستوں میں سرکاری ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر بھی نظرثانی کی ضرورت پیدا ہوسکتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ عوام کیلئے اچھے دن لانے کا وعدہ کرنے والی نریندر مودی حکومت عوام کے برے دنوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اپنے لئے اچھے دن لانا چاہتی ہے ۔ جہاں تک عوام کا مسئلہ ہے وہ صرف خاموشی سے یہ بوجھ برداشت کرتے جا رہے ہیں ۔ عوام کی خاموشی سے ہی حکومت کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں اور وہ اپنی من مانی کرنے پر مصر ہے ۔
موجودہ حالات میں خام تیل کی جو قیمتیں بین الاقوامی مارکٹ میں ہیں ان کو دیکھا جائے تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر کم از کم 25 روپئے تک کی کمی ہونی چاہئے ۔ حکومت نے جو کئی برس تک عوام کو سبسڈی فراہم کرنے کا رونا رویا تھا وہ اس سے زیادہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے میں مصروف ہے جبکہ ملک کے عوام کی معاشی حالت بھی حکومت سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔ جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں سرکاری سطح پر کرپشن کا سلسلہ چل رہا ہے اور اس کے اثرات سے بھی ملک کا عام آدمی محفوظ نہیں ہے اگر وہاں حکومت بھی اس طرح سے اپنے محاصل اور ٹیکسیس میں اضافہ کے ذریعہ عوام کو راحت پہونچانے سے گریز کرتی ہے تو پھر عام آدمی کس سے امید رکھ سکتا ہے ؟ ۔ بین الاقوامی مارکٹ میں یو پی اے کے دورحک ومت میں پٹرولیم اشیا کی قیمتیں 100 ڈالرس فی بیاریل تک پہونچ گئی تھیں۔اس وقت ملک میں پٹرول کی قیمت فی لیٹر 80 روپئے کے آگے ہوگئی تھیں لیکن اب بین الاقوامی مارکٹ میں فی بیاریل خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوگئی ہے اور یہ قیمت صرف 30 ڈالرس فی بیاریل کے آس پاس ہوگئی ہیں۔ ایسے میں یہ ایک تہائی کمی ہے ۔ لیکن ملک میں مختلف شہروں میں پٹرول 65 روپئے فی لیٹر کے آس پاس فروخت ہو رہا ہے ۔ مقامی ٹیکسیس کی وجہ سے معمولی سا فرق ہوتا ہے لیکن مرکزی حکومت اس پر اکسائز ڈیوٹی میں مسلسل اضافہ کرتی جا رہی ہے جس کے نتیجہ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو نہیں پہونچ پا رہا ہے ۔ بین الاقوامی مارکٹ کا بوجھ ملک کے عوام نے برداشت کیا تھا اور اب راحت حکومت حاصل کر رہی ہے ۔
اپوزیشن جماعتیں بھی ایسا لگتا ہے کہ اس مسئلہ پر توجہ دینے میں ناکام رہی ہیں۔ حکومت کو اس تعلق سے حکومت کو توجہ دلانے کی ضرورت ہے ۔ اس تعلق سے ملک کے عوام میں بھی شعور بیدار کیا جانا چاہئے ۔ اب جبکہ پارلیمنٹ کا سشن اختتامی مراحل میں ہے کم از کم اب اپوزیشن جماعتوں کو اس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں موضوع بحث بناتے ہوئے حکومت کو جھنجھوڑنے کا فریضہ انجام دینے کی ضرورت ہے تاکہ بین الاقوامی مارکٹ میں تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی کا فائدہ کچھ حد تک تو ملک کے عوام کو پہونچ سکے ۔ اپوزیشن جماعتوں کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ مرکزی محاصل سابق میں کس حد تک عائد کئے جاتے تھے اور اب ان کی شرح کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT