Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / پٹرول و ڈیزل پر بھاری ٹیکس کے خلاف 20 ستمبر سے ملک گیر احتجاج

پٹرول و ڈیزل پر بھاری ٹیکس کے خلاف 20 ستمبر سے ملک گیر احتجاج

دارالحکومت دہلی سے آغاز ۔ کانگریس 17 ستمبر سے پٹرول پمپس پر دستخطی مہم شروع کرے گی ۔ پارٹی ترجمان اجئے ماکین کا اعلان
نئی دہلی 15 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آج کہا کہ وہ پٹرول اور ڈیزل پر سنٹرل اکسائز ڈیوٹی میں بے تحاشہ اضافہ کے خلاف ایک ملک گیر احتجاج شروع کریگی ۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ سنٹرل اکسائز ڈیوٹی میں من مانی اضافہ کے نتیجہ میں ان اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے ۔ مرکز کی بی جے پی حکومت پر عام آدمی کو لوٹنے اور عوام کی جیبیں کاٹ کر خود نفع کمانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر ترجمان اجئے ماکین نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انتہائی سخت گیر ٹیکس نظام کو ختم نہیں کیا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ ہر 100 روپئے کے پٹرول میں 51.78 پیسے ٹیکس حاصل کیا جا رہا ہے جبکہ 100 روپئے کے ڈیزل پر 44.40 روپئے کا ٹیکس حاصل کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت پٹرول اور ڈیزل پر عائد ٹیکس اور حکومت کو حاصل ہونے والے نفع پر وائیٹ پیپر جاری کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی اس مطالبہ کی تائید میں ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع کریگی ۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر احتجاج کا آغاز 20 ستمبر کو نئی دہلی سے کیا جائیگا ۔ مسٹر ماکین نے کہا کہ کانگریس پارٹی پٹرول اور ڈیزل پر بھاری ٹیکسیس عائد کرتے ہوئے اور سرکاری خزانہ کو بھرنے کیلئے عام آدمی پر بوجھ عائد کرنے کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاج کریگی ۔ مسٹر ماکین نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی جانب سے 17 ستمبر سے پٹرول پمپس پر دستخطی مہم شروع کی جائیگی اور 20 ستمبر کو ایک بڑا احتجاج شروع کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ہر دستیاب فورم میں ٹیکسیس کو کم کرنے کی جدوجہد شروع کرے گی اور بی جے پی کو چیلنج کریگی کہ وہ فیول کی قیمتوں پر عائد ٹیکسیس اور اس پر حاصل ہونے والے نفع پر وائیٹ پیپر جاری کرے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم عوام کیلئے پوری شدت سے جدوجہد کریں گے اور اس وقت تک کرینگے جب تک انتہائی خطرناک ٹیکس نظام سے دستبرداری اختیار نہیں کرلی جاتی ۔ دہلی کانگریس سربراہ نے کہا کہ عوام کی جیبوں کو کاٹنا بی جے پی کی حکومت کا طرہ امتیاز بن چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو لوٹنا ‘ عوام پر بوجھ عائد کرکے نفع حاصل کرنا اور ان کی انتہائی محنت سے کمائی ہوئی رقم کو کھینچنا بی جے پی حکومت کا اصل مقصد بن گیا ہے ۔ جہاں عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے وہیں ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں مودی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں طوفان ہاروی اور طوفان ارما کا بہانہ پیش کیا ہے وہیں اس نے عام آمدی کی بچت پر ڈاکہ ڈالا ہے اور گذشتہ 3.5 سال میں پٹرول اور ڈیزل پر سنٹرل اکسائز ڈیوٹی میں 11 مرتبہ اضافہ کیا ہے ۔ مسٹر ماکین نے الزام عائد کیا کہ مئی 2014 کے بعد سے پٹرول پر اکسائز ڈیوی میں 133.47 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ڈیزل پر اکسائز ڈیوٹی میں 400.86 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ بی جے پی کے مرکز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک 11 مرتبہ سنٹرل اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں مودی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے خام تیل کی قیمتوں میں 52 فیصد کی کمی آئی ہے جبکہ ملک میں پٹرول کی قیمتوں میں تین سال میں زبردست اضافہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سال 2016-17 میں مرکزی و ریاستی خزانوں کو پٹرولیم اشیا سے 5.24 لاکھ کروڑ روپئے کی آمدنی ہو رہی ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT