Wednesday , December 19 2018

پٹرول و ڈیزل کو جی ایس ٹی میں شامل کرنے کی مخالفت

تلنگانہ کو مالی نقصان کا امکان ، وزیر فینانس تلنگانہ ایٹالہ راجندر
حیدرآباد ۔ 13 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : ریاستی وزیر فینانس ایٹالہ راجندر نے پٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی میں شامل کرنے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرکزی حکومت پٹرول ، ڈیزل اور شراب کو جی ایس ٹی کے دائرے کار میں شامل کرتی ہے تو ریاست تلنگانہ کو بہت بڑا مالی نقصان ہوگا ۔ ایک پروگرام کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ایٹالہ راجندر نے کہا کہ پٹرول ڈیزل اور شراب کو ہرگز جی ایس ٹی کے دائرے میں نہیں لانا چاہئے اگر ایسا کیا گیا تو تلنگانہ کے بشمول دوسری ریاستوں کا مالی موقف انتہائی کمزور ہوجائے گا ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے حد اضافہ پر عوام کی تشویش پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایٹالہ راجندر نے کہا کہ ریاستوں کو ویاٹ میں کمی کرنے کا مشورہ دینے کے بجائے مرکزی حکومت اکسائز ڈیوٹی میں کٹوتی کرتے ہوئے عوام کو راحت پہونچائے ۔ تلنگانہ حکومت فلاحی اسکیمات پر سالانہ 40 ہزار کروڑ روپئے خرچ کررہی ہے ۔ ریاستی حکومت ویاٹ میں کمی کرنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ اس لیے مرکزی حکومت سے اکسائز ڈیوٹی گھٹا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی ہونے کے باوجود مرکزی حکومت بار بار اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کرتے ہوئے عوام پر مالی بوجھ عائد کررہی ہے ۔ اکسائز ڈیوٹی میں کمی کرتے ہوئے عوام کو راحت پہونچانا مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے 15 ویں فینانس کمیشن کے اصول و ضوابط میں تبدیلیاں لانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہماری تشویش سے مرکزی حکومت کو واقف کرادیا ہے ۔ مختلف ریاستوں کے وزرائے فینانس نے بھی 15 ویں فینانس کمیشن کے اصول و ضوابط کی مخالفت کی ہے ۔ تلنگانہ کے وزیر فینانس نے کہا کہ پٹرولیم اشیاء کو جی ایس ٹی کے دائرے کار میں شامل کیا گیا تو اس کی سخت مخالفت کی جائیگی ۔ ابھی تک 52 فیصد ویاٹ کو جی ایس ٹی میں شامل کرلیا گیا ہے ۔ 48 فیصد ویاٹ ہی ریاست کو وصول ہورہا ہے جس میں پٹرول ، ڈیزل ، شراب وغیرہ شامل ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT