Friday , October 19 2018
Home / Top Stories / پٹرول کی قیمت فی لیٹر 100 روپئے ہوجانے کا اندیشہ

پٹرول کی قیمت فی لیٹر 100 روپئے ہوجانے کا اندیشہ

ملک میں 40 روپئے کی بجائے 83 روپئے فی لیٹر پٹرول کی فروخت ‘ مودی حکومت عوام کو بیوقوف بنانے میں کامیاب

ہندوستان میں جاریہ سال پٹرول کی طلب یومیہ 300,000 بیارل ہونے کی پیش قیاسی ۔ 2017 میں پٹرول کی یومیہ طلب 130,000 بیارل تھی ۔ خام تیل کی عالمی قیمت میں اضافہ کے ساتھ ہی مودی حکومت کی تشویش بھی بڑھ رہی ہے ۔

نئی دہلی 15 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت نے عالمی سطح پر خام تیل ( کروڈ آئیل ) کی قیمتوں میں کمی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف اور صرف عوام کو کنگال کردیا ہے ۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوتی ہے تو اس کا اثر ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بھی یقینا مرتب ہوتا ہے تاہم ہندوستان میں مودی حکومت میںپچھلے چار برسوں کے دوران ایسا نہیں ہوا ۔ ایک ایسا بھی وقت آیا جب عالمی بازار میں خام تیل کی قیمت 110 ڈالرس فی بیارل سے گھٹ کر 26 ڈالرس فی بیارل ہوگئی تھی ۔ اس وقت ہندوستان میں پٹرول 25 – 28 روپئے اور ڈیزل 30 – 35 روپئے فی لیٹر فروخؒ کیا جاسکتا تھا لیکن نریندر مودی حکومت نے جو معاشی محاذ پر ہمیشہ عوام کو نقصان پہونچتی رہی ہے پٹرول ار ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی بلکہ قیمتوں کے تعین کا اختیار تیل کمپنیوں کو دے دیا ۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران بھی عالمی سطح پر خام تیل کی جو قیمت تھی اس کے تحت مودی حکومت ہندوستانی صارفین کو بآسانی پٹرول اور ڈیزل بالترتیب 28 اور 30 روپئے میں فروخؒ کرسکتی تھی ۔ اس طرح عوام کو راحت ہوتی لیکنایسا نہیں کیا گیا ۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے ذریعہ عوام کی معیشت اور کاروباری طبقہ کی حالت دگرگوں کردی ۔ اب ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان میں آنے والے چند ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت 100 روپئے فی لیٹر سے زائد ہوجائیگی کیونکہ فی الوقت ملک کے بعض شہروں میں پٹرول 83 روپئے فی لیٹر فروخت کیا جا رہا ہے ۔ اس طرح کے شہروں میں اماروتی ( 82.96 ) اورنگ آباد ( 80.23 ) کاکناڈا ( 80.14 ) کولہاپور ( 82.21 ) کرنول ( 80.20 ) ناگپور ( 81.72 ) ناندیڑ ( 83.21 ) ناسک ( 82.13 ) نیلور ( 80.22 ) شولاپور ( 82.35 ) تھانے ( 81.88 ) روپئے فی لیٹر شامل ہیں۔

حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں 78.31 روپئے فی لیٹر پٹرول فروخؒ کیا جا رہا ہے ۔ مودی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کی تاریخ مئی 2014 سے عالمی بازار میںخام تیل کی قیمتوں اور ہندوستان میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کا جائزہ لیں تو بخوبی اندازہ ہوگا کہ مودی حکومت نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی طرح عوام کو بیوقوف بنانے میں غیر معمولی کامیاب رہی حالانکہ عوام کو مودی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر اتر آنے کا بہترین موقع تھا تاہم مودی حکومت نے خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ کے برعکس ملک میں پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے عوام کی توجہ ہٹانے کئی ایک سیاسی کھیلوں کا آغاز کیا ۔

ان عناصر کو ابھارا گیا جنہوں نے گاؤ کشی ‘ لو جہاد ‘ گھر واپسی اورم ندر ۔ مسجد جیسے مسائل کو اچھالتے ہوئے حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹادی ۔ آثار و قرائن سے یہی ظاہر ہورہا ہے کہ پٹرول اشیا کی قیمتوں میں بہت جلد بے تحاشہ اضافہ ہوگا اور فی لیٹر پٹرول کیلئے عوام کو 100 روپئے سے زائد رقم ادا کرنی پڑیگی ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ مودی کو پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کئے جانے کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے حالانکہ جس وقت وہ گجرات کے چیف منسٹر تھے اس وقت انہوں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی شدید مخالفت کی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ یو پی اے حکومت کی ناکامی ‘ پارلیمانی جمہوریت کی توہین اور عام آدمی پر بوجھ ہے ۔ مودی نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا تھا کہ’ سردار ۔ اثر دار نہیں ہیں ‘ ۔ حالانکہ ڈاکٹر سنگھ کی معیاد میں خام تیل کی قیمت 110 ڈالرس فی بیارل ہوگئی تھی ۔ یو اے پی پہلی معیاد کے دوران خام تیل کی قیمت فی بیارل 120 ڈالرس ہوگئی تھی ۔ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد 26 مئی 2014 کو وہ فی بیاریل 108.05 ڈالرس فی بیارل ہوئی تو ستمبر 2017 میں یہ قیمت محض 52.73 ڈالرس فی بیارل ہوگئی ایسے میں حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ 28.85 روپئے فی لیٹر پٹرول فروخت کرتی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ پٹرول کی قیمتوں میں 50 فیصد کا اضافہ کردیا ۔ عالمی سطح پر پٹرول قیمتوں میں کمی سے مودی حکومت کی وزارت فینانس کو بجٹ کے نظم میں و آر بی آئی افراط زر پر قابو پانے میں مدد ملی ۔ اب جبکہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت تقریبا 73 ڈالرس فی بیارل ہوگئی ہے مودی حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کرکے اسے فی لیٹر 100 روپئے تک پہنچا سکتی ہے ۔ ویسے بھی مغربی ایشیا میںجغرافیائی کشیدگی ( شامی بحران ) پر امریکہ اور روس کے شدید اختلافات کے نتیجہ میں برینٹ خام تیل کی قیمتوںمیں اضافہ ہوکر وہ تقریبا 73 ڈالرس فی بیارل ہوگئی اور آئندہ دنوں میں اس میں بے تحاشہ اضافہ کا خدشہ ہے ۔ یہ قیمت 80 تا 100 ڈالرس فی بیارل تک پہنچ جائے گی ۔ عالمی مارکٹ میں تیل کی قیمتوں پر امریکہ ‘ چین تجارتی جنگ کے اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT