Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / پٹیل برادری کا احتجاج ترقی کے گجرات ماڈل کی ناکامی

پٹیل برادری کا احتجاج ترقی کے گجرات ماڈل کی ناکامی

٭     2002 فرقہ وارانہ فسادات میں فوج کو جلدی طلب نہیں کیا گیا
٭     مذہب کی بنیاد پر مردم شماری کی اجرائی سیاسی اغراض پر مبنی
٭     این ڈی اے حکومت کی پالیسیوں سے سماجی منافرت میں اضافہ
٭     سی پی ایم جنرل سکریٹری سیتارام یچوری کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 27 اگسٹ ( پی ٹی آئی ) سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے آج کہا کہ گجرات میں ترقی یافتہ پٹیل برادری کی جانب سے او بی سی کوٹہ کے مطالبہ پر جاری احتجاج سے ترقی کے گجرات ماڈل سے متعلق بی جے پی کے دعووں کا افشا ہوگیا ہے اور یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ سبھی طبقات کی ترقی کے دعوے بھی کھوکھلے ثابت ہوگئے ہیں۔ یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحفظات کے مطالبات ایسے وقت پیدا ہوتے ہیں جب معیار زندگی میں بہتری کے مواقع ‘ روزگار اور تعلیم کے مواقع کم ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ترقی یافتہ سمجھی جانے والی پٹیل برادری کی جانب سے اگر تحفظات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو یہ ثبوت ہے کہ گجرات ماڈل سبھی طبقات کی ترقی پر مبنی نہیں ہے ۔ اس احتجاج سے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کئے جانے والے تمام دعوے اور گذشتہ دو سال سے خود ساختہ گجرات ماڈل کے تعلق سے جو پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے اس کی قلعی کھل گئی ہے ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ پٹیل برادری میں زبردست ناراضگی پائی جاتی ہے مسٹر یچوری نے کہا کہ اس سے صاف طور پر دکھتا ہے کہ گجرات ماڈل سے بہت ہی کم افراد کو فائدہ ہوا ہے اور ساری آبادی یا پھر سماج کے کچھ بڑے طبقات کو بھی کوئی فائدہ نہیںہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ گجرات ماڈل کی ناکامی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ گجرا تمیں تشدد پر قابو پانے کیلئے فوج کو طلب کرلیا گیا ہے لیکن اس وقت کی گجرات حکومت نے 2002 کے فرقہ وارانہ فسادات میں فوج کو طلب کرنے میں اتنی جلدی نہیں دکھائی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ 2002 کو یاد کرنے کی ضرورت ہے جب اس وقت کی حکومت نے فوج کو ایک طویل طویل وقت تک طلب نہیں کیا تھا جتنی جلدی اب کیا گیا ہے ۔ اب گجرات حکومت کو محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ثبوت ہے کہ اس وقت کس طرح کا رول ادا کیا گیا تھا ۔ گجرات میں پٹیل برادری کی جانب سے کوٹہ کا مطالبہ کرتے ہوئے شدت سے احتجاج شروع کیا گیا ہے جو پر تشدد موڑ اختیار کرگیا ہے اور اس میں اب تک جملہ 10 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہاں بڑے شہروں میں تشدد پر قابو پانے کیلئے فوج کو طلب کرلیا گیا ہے ۔ انہوں نے این ڈی اے حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس نے بہار کے مجوزہ اسمبلی انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کیلئے رائے شماری کے مذہب پر مبنی اعداد و شمار جاری کئے ہیں۔ سی پی ایم جنرل سکریٹری نے مزید ادعا کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اسی فیصلہ سازی کے مفلوج ہوجانے کا اظہار کر رہے ہیں جو صورتحال سابقہ منموہن سنگھ حکومت میں پیدا ہوئی تھی ۔ انہوں نے این ڈی اے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسی پالیسی اختیار کر رہی ہے جس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ تقسیم میں تیزی پیدا ہو رہی ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مردم شماری کا جو ڈاٹا مذہب کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے اس کا وقت ایسا ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات میں کچھ فائدہ حاصل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ حالات کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش ہے ۔ انہں نے ریمارک کیا کہ انہیں ایسا یاد نہیں پڑتا کہ اس سے قبل کبھی ایسا ہوا کہ مردم شماری کے دفتر کو وہ ڈاٹا جاری کرنے سے روک دیا گیا تھا جو تیار ہوچکا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ بہار اسمبلی انتخابات کا وقت قریب آ رہا ہے اور ایسے وقت میں وزارت داخلہ کی جانب سے ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے یہ ڈاٹا جاری کیا جا رہا ہے جو کسی طرح کے تجزیہ وغیرہ سے عاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر تیار کردہ ڈاٹا چار سال قبل تیار ہوگیا تھا لیکن این ڈی اے حکومت نے اسے اب جاری کیا ہے ۔ ذات پر مبنی ڈاٹا کو ابھی تک جاری نہیں کیا گیا ہے ۔ بہار میں برسر اقتدار جے ڈی یو نے بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت پر تنقید کی تھی کہ اس نے ذات پات کی بنیاد پر ڈاٹا جاری کرنے کی بجائے مذہب کی بنیاد پر ڈاٹا جاری کیا تھا ۔ انہوں نے وزیر اعظم کے بیرونی دوروں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اب تک مودی 24 ممالک کے دورے کرچکے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ہزاروں کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری آئیگی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے ۔انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بھی سخت تنقید کی ۔

TOPPOPULARRECENT