Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / پٹیل کوٹہ تنازعہ پر شوروغل ،گجرات کے کانگریس ایم ایل ایز معطل

پٹیل کوٹہ تنازعہ پر شوروغل ،گجرات کے کانگریس ایم ایل ایز معطل

مہلوکین کو خراج ادا کرنے کانگریس کی تحریک التوا مسترد ۔ اپوزیشن لیڈر نے گودھرا واقعہ کا حوالہ دیا ۔ حکومت پر اَمن بگاڑ دینے کا الزام

گاندھی نگر ، 27 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) گجرات اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شنکرسنہہ وگھیلا کے سوا تمام کانگریس ایم ایل ایز کو آج دن بھر کیلئے معطل کردیا گیا جبکہ پٹیل برادری کی جانب سے کوٹہ ایجی ٹیشن پر ایوان میں کافی شوروغل دیکھنے میں آیا۔ اسپیکر گنپت واسوا نے ایوان میں موجود کانگریس ایم ایل ایز کو معطل کردیا جو اپنی نشستوں سے کھڑے ہوکر حکومت کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے اور اسے جاریہ ایجی ٹیشن سے غلط انداز میں نمٹنے کا موردِالزام ٹھہرایا۔ دریں اثناء وگھیلا بدستور اپنی نشست پر بیٹھے رہے۔ جب اسپیکر نے اپنے فیصلے کا اعلان کیا تو کانگریس ایم ایل ایز تیزی سے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور اپنا احتجاج جاری رکھا۔ اس پر اسپیکر نے مارشلوں کو حکم دیا کہ انھیں ایوان سے باہر کردیں اور کارروائی کو مختصر وقفے تک کیلئے ملتوی کردیا۔ قبل ازیں ایوان کو تین مرتبہ ملتوی کرنا پڑا جبکہ کانگریس ارکان نے پٹیل کمیونٹی کوٹہ ایجی ٹیشن کے دوران پولیس مظالم کے مسئلے پر نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ ایوان کو انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد ملتوی کردیا جائے

جو اس احتجاج میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ اب تک نو افراد بشمول ایک پولیس ملازم اس تشدد میں ہلاک ہوئے جو 25 اگسٹ کو ہاردک پٹیل کی حراست کے بعد پھوٹ پڑا، جو اپنی برادری کو ریزرویشن کیلئے او بی سی کوٹہ میں شامل کرنے کیلئے ایجی ٹیشن کی قیادت کررہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر وگھیلا نے مطالبہ کیا کہ مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد فوری ایوان کی کارروائی ملتوی کردینا چاہئے۔ ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے وگھیلا نے کہا کہ جب 27 فبروری 2002ء کو گودھرا ٹرین آتشزدگی واقعہ پیش آیا تھا، اُس وقت کے چیف منسٹر (نریندر مودی) نے اس واقعہ میں مرنے والے 59 افراد کو خراج عقیدت ادا کرنے کے بعد ایوان کی کارروائی کو معطل کردینے کیلئے تحریک التوا پیش کی تھی۔ وگھیلا نے کہا، ’’آج میں ایوان میں تحریک التوا اُن لوگوں کیلئے پیش کرنا چاہتا ہوں جو تشدد کے دو یوم کے دوران پولیس مظالم میں مارے گئے ہیں۔ ہمیں انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کی اجازت دینا چاہئے

اور پھر ایوان کو ملتوی کردیا جانا چاہئے‘‘۔ تاہم ریاستی وزیر نتن پٹیل نے اپوزیشن کے مطالبے کو مسترد کردیا۔ جام نگر کے کانگریس ایم ایل اے راگھوجی پٹیل نے بھی 25 اگسٹ کو جی ایم ڈی سی گراؤنڈ پر پٹیل ریالی پر پولیس لاٹھی چارج کے بعد جاری بدامنی کا مسئلہ اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ بے سمت ریاستی حکومت نے گجرات کے امن کو لیت و لعل میں ڈال دیا ہے۔ پٹیل نے موجودہ صورتحال کیلئے ریاستی حکومت کو موردِالزام بھی ٹھہرایا اور الزام عائد کیا کہ بے قصور لوگوں کو پولیس نے بے رحمانہ انداز میں پیٹا ہے۔ جب حکومت نے اُن کے مطالبے کو مسترد کردیا تو کانگریس ایم ایل ایز نے نعرے بازی شروع کردی جیسے ’’لاٹھی، گولی کی سرکار نہیں چلے گی‘‘، ’’آتنک وادی سرکار نہیں چلے گی‘‘۔ کانگریس ارکان کی جانب سے اس طرح نعرے بازی کے نتیجے میں ایوان کی کارروائی بار بار ملتوی ہوتی رہے، یہاں تک کہ اپوزیشن کے ایم ایل ایز دن بھر کیلئے معطل کردیئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT