Monday , May 21 2018
Home / شہر کی خبریں / پچھڑے طبقات اور اقلیتی طبقات کے اتحاد پر ملک میں نیا سیاسی انقلاب ممکن

پچھڑے طبقات اور اقلیتی طبقات کے اتحاد پر ملک میں نیا سیاسی انقلاب ممکن

سیاست میں ڈاکٹر شیام سندر کی کتاب کا رسم اجراء ، جناب زاہد علی خاں و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔22ڈسمبر(سیاست نیوز) ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب زاہدعلی خان نے کہاکہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات کے متعلق بابا صاحب بھیم رائو امبیڈکر اور ڈاکٹر شیام سندر جیسی شخصیتوں نے کبھی نہیںسونچا ہوگا۔ ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر نے پسماندہ طبقات کا ایک عظیم پلیٹ فارم تیار کیاتھا جسکو ریزہ ریزہ کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ پچھڑے اور اقلیتی طبقات اگر متحد ہوجاتے ہیںتو پھر سارے ملک میںایک نیا سیاسی انقلاب برپا ہوجائے گا اور اس کے لئے نہ صرف مسلمانوں بلکہ دلتوں میں بھی شعو ر بیداری مہم کی ضرورت ہے ۔ جمعہ کی شب ادارہ سیاست کے گولڈن جوبلی ہال میںبھیم سینا کے زیر اہتمام سید مسعود کی ڈاکٹر شیام سندر کی زندگی پر لکھی کتاب کی رسم اجرائی تقریب سے صدراتی خطاب کرتے ہوئے جناب زاہد علی خان نے مزید کہاکہ تقسیم کرو او راقتدار جمائو کی پالیسی فرقہ پرست طاقتوں نے اپنائی ہوئی ہے جس کو عملی جامہ پہناتے ہوئے دلتوں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کرنے میںبھی انہیںکامیابی حاصل ہے ۔ پدم شری نارا روی کمار کے ہاتھوں کتاب کی رسم اجرائی عمل میںآئی ۔پروفیسر انور خان ‘ مسٹر پریم کمار ‘سید ذولفقار ہاشمی سابق رکن اسمبلی بیدر‘جنرل سکریٹری بی اے ایم ایس ای ایف خیرات ولاس نے بھی تقریب رسم اجرائی سے خطاب کیا ۔ مولانا حسین شھید نے کاروائی چلائی اور مصنف کتاب سیدمسعود نے ڈاکٹر شیام سندر کی زندگی کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف ان کی حکمت عملی ‘ دلتوں میںاتحاد کے لئے بھیم سینا کا قیام ‘ اور دلت مسلم اتحاد کے لئے ڈاکٹر شیام سندر کی کاوشوں کو اپنی تقریر کا موضوع بحث بنایا۔ سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے جنا ب زاہد علی خان نے کہاکہ مگر حالیہ دنوں میںگجرات میںپیش آئے اسمبلی انتخابات میں دلت طبقے سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدوار جگنیش میوانی کی جیت ملک کی سیاست پر اثر انداز ہورہی ہے۔ انہو ںنے کہاکہ مذکورہ دلت امیدوار جس اسمبلی حلقہ سے کامیاب ہوا ہے وہاں پر اکثریت مسلمانوں کی ہے اور مسلم رائے دہندوں نے فرقہ پرست طاقتوں کی دھمکیوں اور انجام کی پرواہ کیے بغیر اپنا ووٹ جگنیش کے حق میں دیا اور وہ کامیاب ہوگئے۔ انہو ںنے کہاکہ مسلمانوں کے خلاف دلتوں کو استعمال کرنے اور ملک کے امن وسکون کو درہم برہم کرنے کے لئے کی جارہی سازشوں کا مقصد 2019کے عام لوک سبھا انتخابات ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اس بات کافیصلہ کرنا چاہئے کہ جو ہمارے درمیان میںرہے اور ہماری نمائندگی کل ایوانوں میںکرے ایسی ہی سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ دلت سماج کی سونچ وفکر میںانقلابی تبدیلی کے لئے ہمیں ایک او رڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر اور ڈاکٹر شیام سند ر بنانا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ آج فرقہ پرست طاقتیں شیواجی مہاراج کو اپنا ہیرو مانتے ہیںجبکہ شیواجی فرقہ پرست نہیںبلکہ ایک سکیولر حکمران تھے اور شیواجی کے دور حکومت میںتمام اہم عہدوں پر مسلمان ہی فائز تھے ۔ انہوں نے گجرات کی سلطنت پر حملے کے دوران شیواجی کی جانب سے اپنی فوج کو دئے گئے حکم کے حوالے سے کہاکہ شیواجی نے اس وقت اپنی فوج کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہاتھاکہ کسی بھی دوسرے مذہبی مقام کی بے حرمتی نہ کی جائے اور کوئی مذہب کتاب یا اس کے پرچے ملتے تو اس کا احترام کیاجانا چاہئے۔جناب زاہدعلی خان نے کہاکہ ڈاکٹر امبیڈکر او رشیام سندر جیسے لوگوں نے ان حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے دلتوں او رمسلمانو ںکے درمیان میںاتحاد کو فروغ دینے کی کوشش کی مگر آج فرقہ پرست طاقتیں اسی اتحا د کو ختم کرنے کی سازشوں میںمصروف ہیں ۔ جناب زاہدعلی خان نے مزیدکہاکہ ہمیںدلتوںکو گلے لگانے کی ضرورت ہے او ردلتوں کوبھی چاہئے کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کے ہاتھوں کا ہتھیار بنے بغیرظلم وزیادتی او رانصافیوں کاشکار لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں او رایک نیااتحاد قائم کریں۔ انہوں نے اس موقع پر 1984میںسکھوں کے خلاف برپا کئے گئے تشدد کا بھی حوالہ دیا او رکہاکہ سکھوں کے ساتھ بھی بے شمار زیادتیاں کی گئی ہیں ۔تلنگانہ کے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا بھی اس موقع پر ذکر کیا۔ اور کہاکہ پولیس ایکشن کے بعد غیرعلاقائی لوگوں کو لاکر یہاں پر بسادیاگیا اورہماری تہذیب سے ناواقف لوگوں کے ساتھ ہمیںجوڑنے کاکام بھی کیاگیا۔یہاں تک کہ اربن لینڈ سیلنگ‘ زرعی لینڈ سیلنگ اور نت نئے قوانین کے ذریعہ مسلمانوں کو بے گھر اور زمینات سے محروم قوم بنادیاگیا۔ جناب زاہدعلی خان نے کہاکہ دلتوں اور مسلمانوں کے ماضی کا احیاء عمل میںلانے کے لئے ایک عظیم متحدہ پلیٹ فارم بناکر پسماندہ طبقات کے ساتھ انصاف کو یقینی بنانے اور اپنے نمائندوں کو ایوانوں میںبھیجنے کی حکمت عملی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT