Thursday , January 18 2018
Home / سیاسیات / پڑوسی ممالک سے روابط حساس مسئلہ ، نئے وزیر دفاع کا تاثر

پڑوسی ممالک سے روابط حساس مسئلہ ، نئے وزیر دفاع کا تاثر

لکھنؤ۔ 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات حساس مسئلہ ہونے کا ادعا کرتے ہوئے نئے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے آج کہا کہ وہ ملک کو دشمنوں کے مقابلے میں دفاع سے محروم ملک بنانا نہیں چاہتے۔ انہوں نے راجیہ سبھا انتخابات کے لئے اپنے پرچہ جات نامزدگی داخل کرنے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع آج صحافت کے س

لکھنؤ۔ 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات حساس مسئلہ ہونے کا ادعا کرتے ہوئے نئے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے آج کہا کہ وہ ملک کو دشمنوں کے مقابلے میں دفاع سے محروم ملک بنانا نہیں چاہتے۔ انہوں نے راجیہ سبھا انتخابات کے لئے اپنے پرچہ جات نامزدگی داخل کرنے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع آج صحافت کے سامنے اپنے دفاع سے محروم ہیں، لیکن میں اپنے ملک کو اس کے دشمنوں کے مقابلے میں اپنے دفاع سے محروم ملک بننے نہیں دوں گا۔ سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور اس کے پڑوسی ممالک سے تعلقات ایک حساس مسئلہ ہیں۔ منوہر پاریکر نے کہا کہ وہ وزیر دفاع بن چکے ہیں۔ انہیں 11 بجکر 33 منٹ شب پر اس کا پتہ چلا۔ انہوں نے صحافت سے گزارش کی کہ ان کو کچھ مہلت دی جائے۔ مطالعہ کرنے کا وقت دیا جائے تاکہ وہ ہندوستان کے اس کے پڑوسی ممالک سے تعلقات کا جائزہ لے سکیں، کیونکہ یہ ایک احساس مسئلہ ہے۔ پاریکر نے کہا کہ انہیں اپنی وزارت سے مانوس ہونے کیلئے کچھ وقت لگے گا۔ میرا کام مقررہ نشانہ کی تکمیل کرنا ہے۔ چاہے اس کے لئے دفاعی افواج کے ذریعہ ہندوستان کو مستحکم کیوں نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ معلومات کے فقدان کی وجہ سے کیونکہ وہ چیف منسٹر گوا تھے، وزیر دفاع نہیں بلکہ وہ کبھی مرکز میں بھی نہیں رہے، اس لئے انہیں مکمل طور پر اپنی وزارت کو سمجھنے کیلئے کم از کم ایک ہفتہ کی مہلت دی جانی چاہئے۔ وہ اس کے بعد وزیراعظم سے کہیں گے کہ وہ ہر سوال کا جواب دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک میں اپنی وزارت کا مکمل طور پر مطالعہ نہ کرلوں اور اس کے لئے وقت لگے گا۔ اس سے پہلے وہ سوالات کے جواب نہیں دے سکتے۔ ایک ہفتہ بعد وہ ہر سوال کا جواب دیں گے۔ انتخابات کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاریکر نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ انہیں راجیہ سبھا میں اترپردیش کی نمائندگی کا موقع ملا ہے۔ راجیہ سبھا میں اس ریاست سے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد مجھے فخر کا احساس ہوتا ہے۔ اس ریاست نے ملک کو کئی بڑے قائدین دیئے ہیں۔ یہ رام اور کرشن کی سرزمین ہے۔ یہیں سے ہندوستان کی تاریخ کا آغاز ہوتا ہے۔ انہیں اس ریاست کی نمائندگی کا موقع ملا ہے جس کے لئے وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں۔انہوں نے تیقن دیا کہ وہ اپنی بھرپور صلاحیت کے ساتھ ملک کی خدمت کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT