پکوان گیس سبسڈی ‘ 10 کروڑ افراد پہل اسکیم سے مربوط

نئی دہلی 5 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) تقریبا 10 کروڑ پکوان گیس صارفین گیس کے حصول پر ملنے والی سبسڈی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی اسکیم سے جڑ گئے ہیں۔ ان صارفین کو سبسڈی بینک اکاؤنٹس میں آتی ہے اور پھر وہ کمپنیوں سے گیس مارکٹ قیمت پر خریدتے ہیں۔ اس طرح بلیک مارکٹنگ کو روکنے میں مدد ملی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے صرف دو مہینوں میں اس ح

نئی دہلی 5 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) تقریبا 10 کروڑ پکوان گیس صارفین گیس کے حصول پر ملنے والی سبسڈی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی اسکیم سے جڑ گئے ہیں۔ ان صارفین کو سبسڈی بینک اکاؤنٹس میں آتی ہے اور پھر وہ کمپنیوں سے گیس مارکٹ قیمت پر خریدتے ہیں۔ اس طرح بلیک مارکٹنگ کو روکنے میں مدد ملی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے صرف دو مہینوں میں اس حد صارفین کو اسکیم سے جوڑنے پر نہ صرف صارفین بلکہ عہدیداروں کو بھی مبارکباد دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے نتیجہ میں بلیک مارکٹنگ کا خاتمہ ہوگا اور سبسڈی مزید موثر انداز میں عوام تک پہونچے گی ۔ قوم کی تعمیر میں سبسڈی کا عوام تک پہونچنا اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔

مودی نے کہا کہ انہیں یہ جان کر مسرت ہوئی ہے کہ زائد از 10 کروڑ شہریوں کو پہل یوجنا سے جوڑ دیا گیا ہے ۔ یہ ایک قابل تعریف لمحہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دس کروڑ افراد کے اس اسکیم سے منسلک ہوجانے سے یہ اسکیم دنیا میں راست نقد رقم منتقل کرنے والی سب سے بڑی اسکیم ہوگئی ہے ۔ راست فوائد منتقلی اسکیم برائے پکوان گیس کو اب پہل یا پرتیکشا ہستانترک لابھ کا نام دیا گیا ہے ۔ ملک میں جملہ 15.3 کروڑ پکوان گیس صارفین ہیں اور ان کے منجملہ 65 فیصد اس اسکیم سے جڑ گئے ہیں۔ چین ‘ میکسیکو اور برازیل میں بھی اس طرح کی اسکیمات ہیں

لیکن وہاں ایسی اسکیم سے مربوط صارفین کی تعداد 2.2 کروڑ سے زائد نہیں ہے ۔ اس اسکیم کے تحت پکوان گیس صارفین کو مارکٹ قیمت پر فروخت کی جاتی ہے اور سبسڈی جو اب تک دی جاتی تھی وہ برقرار رکھتے ہوئے راست طور پر صارفین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کردی جاتی ہے ۔ وزیر تیل دھرمیندر پردھان نے کہا کہ یہ اسکیم ملک کے 54 اضلاع میں 15 نومبر 2014 کو شروع کی گئی تھی جبکہ مابقی ملک بھر میں یکم جنوری 2015 کو شروع کی گئی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کا مقصد سبسڈی والے پکوان گیس سلینڈرس کی بلیک مارکٹنگ اور دوسرے مقاصد کیلئے استعمال کو روکنا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں حکومت کو سبسڈی پر آنے والے اخراجات میں 10 تا 15 فیصد تک کٹوتی کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT