Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / پکوان گیس پر رقم کی راست منتقلی اسکیم کا پھر نفاذ عوام سے مذاق

پکوان گیس پر رقم کی راست منتقلی اسکیم کا پھر نفاذ عوام سے مذاق

حکومت اور وزارت پٹرولیم ، وقت برباد کررہے ہیں ، شہریوں کا اظہار خیال

حکومت اور وزارت پٹرولیم ، وقت برباد کررہے ہیں ، شہریوں کا اظہار خیال
حیدرآباد ۔ 20 ۔ نومبر : ( نمائندہ خصوصی ) : بی جے پی نے عام انتخابات سے قبل آدھار کارڈ اور رقم کی راست منتقلی اسکیم کا مضحکہ اڑایا تھا اور اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور آدھار کارڈ کے نظریہ کو عام کرنے والے نندن نیلکنی پر شدید تنقید کرتے ہوئے آدھار کارڈ اور یو پی اے کی مختلف اسکیمات خاص طور پر سبسیڈی اسکیم کو فضول قرار دیا تھا ۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت کو آدھار کارڈ کی اہمیت و افادیت کا اندازہ ہوگیا ہے ۔ اس لیے وہ یو پی اے حکومت میں شروع کردہ تمام اسکیمات کو آدھار کارڈ سے مربوط کرنے کے لیے مجبور ہوگئی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزراء آدھار کارڈ اور رقم کی راست منتقلی اسکیم کی اہمیت جتانے لگے ہیں اور اسی نتیجہ میں پھر ایک بار عوام کو پکوان گیس سیلنڈرس حاصل کرنے کے لیے 960 روپئے ادا کرنے پڑ رہے ہیں ۔ اس بارے میں دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں واقع گیس ایجنسیز سے ایل پی جی سیلنڈرس حاصل کرنے والے صارفین سے کہا جارہا ہے کہ مرکزی حکومت نے پکوان گیس پر سبسیڈی پھر سے بنکوں میں جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایسے میں انہیں ایل پی جی سیلنڈرس کے لیے ساری رقم بہ یک وقت جمع کرنی ہوگی اور سبسیڈی کی رقم اندرون ہفتہ ان کے بنک اکاونٹس میں جمع کردی جائے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ 952 روپئے کی بجائے 960 روپئے صارفین سے وصول کئے جارہے ہیں ۔ اس رقم میں سے 486 روپئے صارفین کے بنک اکاونٹس میں اندرون ہفتہ جمع کی جائے گی ۔ اس بارے میں عوام کافی پریشان اور تذبذب کا شکار ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر سبسیڈی کی رقم واپس ہی کرنی ہے تو وصول کیوں کی جارہی ہے ۔ وٹے پلی کی ایک گھریلو خاتون نے وزارت پٹرولیم کے اس اقدام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت عوام کے ساتھ مذاق کررہی ہے کبھی آدھار کارڈ اور راست رقم کی منتقلی اسکیم کی اس نے مخالفت کی تھی اب وہی ان اسکیمات کے گن گا رہی ہے ۔ سبسیڈی کی رقم عوام سے حاصل کر کے اسے پھر دوبارہ بنکوں میں منتقل کرنا وقت کی خرابی اور بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مودی حکومت نے اچھے دن کے وعدے کیے تھے ۔ اچھے دن آنے تو دور کی بات ہے برے دن مزید برے ہوتے جارہے ہیں ۔ مہنگائی میں کمی کے دعوے ہورہے ہیں لیکن شہر کی سبزی منڈیوں سے لے کر رعیتو بازار میں ٹماٹر کو چھوڑ کر کوئی دوسری ترکاری فی کیلو 30 روپئے سے کم نہیں ۔ واضح رہے کہ پرانا شہر میں اگرچہ انڈین ، بھارت اور ایچ پی کی گیس ایجنسیاں ہیں لیکن زیادہ تر لوگ Indian اور ایچ پی کے پکوان گیس استعمال کرتے ہیں ۔ انجینئرنگ کے طالب علم محمد عفان احمد کا کہنا ہے کہ حکومت جو دل میں آیا کے مصداق اقدامات کررہی ہے کبھی سبسیڈی کی رقم بنکوں میں راست منتقلی سے گریز کررہی ہے تو کبھی صارفین سے سبسیڈی کی رقم وصول کرتے ہوئے بنکوں میں منتقل کررہی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت خود اس معاملہ میں الجھن کا شکار ہے ۔ اس طالبہ کے خیال میں عالمی سطح پر پٹرول کی قیمت میں زبردست گراوٹ آئی ہے ایسے میں حکومت کو نہ صرف پکوان گیس بلکہ پٹرول کی قیمتوں میں کم از کم 14 روپئے کم کرنی چاہئے ۔ بھارگوی گیس ایجنسی مادنا پیٹ کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ وزارت پٹرولیم کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ وزارت پٹرولیم نے رقم کی راست منتقلی ( سبسیڈی ) اسکیم میں تبدیلیاں کرتے ہوئے ان لوگوں تک بھی اسے توسیع دی ہے جو آدھار کارڈ نہیں رکھتے تاہم ایسے صارفین کے لیے بینک اکاونٹ کا ہونا ضروری ہے ۔ گذشتہ ہفتہ تبدیل شدہ یہ اسکیم ملک کے 54 اضلاع بشمول حیدرآباد میں شروع ہوگئی ہے اور ملک کے دیگر حصوں میں اس پر یکم جنوری 2015 سے عمل آوری ہوگی ۔ ایسے صارفین جنہوں نے مذکورہ اسکیم کے متعارف کئے جانے کے بعد سے بنکوں کے ذریعہ سبسیڈی حاصل کی ہے ۔ انہیں کسی قسم کا مسئلہ درپیش نہیں ہے لیکن کئی ایسے صارفین ہیں جو گیس سبسیڈی نہ ملنے کی شکایت کرتے ہیں وہ mylpg.in پر اپنی سبسیڈی کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں ۔ ایسے صارفین جو آدھار کارڈ نہیں رکھتے سبسیڈی کی رقم راست ان کے بنک اکاونٹس میں منتقل کی جائے گی ۔ جہاں تک آدھار کارڈ کا سوال ہے عوام کو چاہئے کہ وہ پکوان گیس کے لیے رقم کی راست منتقلی اسکیم کو آدھار سے مربوط کیا جائے یا نہ کیا جائے اس کے قطع نظر آدھار کارڈ ضرور بنالیں اس لیے کہ مختلف سہولتوں اسکیمات اور رعایتوں ( سبسیڈی ) بشمول وظیفوں کے حصول اور جائیدادوں کے رجسٹریشن کے لیے بھی ضروری ہے اور مستقبل قریب میں شائد آدھار کارڈ کو پاسپورٹ کے لیے بھی لازمی قرار دیا جائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT