Saturday , November 25 2017
Home / Editorial News / پھانسی کی سزا اور قانون

پھانسی کی سزا اور قانون

ہندوستان کا قانون ایک معتبر دستاویزی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی مذاق یا تضحیک کا متحمل ہی نہیں ہوسکتا۔ قانون اور عدلیہ نے ہندوستان کی عوامی زندگی میں امن و سکون کی برقراری کو یقینی بنانے میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اور دیتے آرہے ہیں۔ سپریم کورٹ  نے 1993ء کے سلسلہ وار بمبئی بم دھماکوں کے مرتکب ملزم یعقوب میمن کی درخواست رحم یا درخواست کفارہ کو مسترد کردیا ہے۔ اس ملک کے مفلوک الحال عوام کے حالات بتاتے ہیں کہ یہاں مجرمین کو سزا ملنے تک قانون کے رکھوالوں کے حوصلے پست ہوتے ہیں۔ یعقوب میمن کا بمبئی بم دھماکوں کے کیس میں صرف ایک مشتبہ رول کے ملزم کی حیثیت سے تھا، مگر شریک ملزم اور معافی یافتہ گواہوں نے اسے پھانسی کے دار تک پہونچانے کا کام کیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے درخواست مسترد کردینے کے بعد نریندر مودی حکومت کو ایک موقع یہ مل گیا ہے کہ وہ خود کو دہشت گردوں کے خلاف سخت گیر حکومت ثابت کرنے کا ثبوت دینے کی کوشش کرے گی۔

سابق میں افضل گرو اور اجمل قصاب کو دی گئی سزائے موت کے معاملے میں بھی سیاسی مقصد براری کو اولیت دی گئی تھی جبکہ پنجاب کے دہشت گردوں کو بھی سزائے موت دی جاچکی ہے مگر ان پر اب تک عمل آوری نہیں کی گئی ۔ راجیو گاندھی کے قاتلوں کو بھی سزائے موت ملی ہے ، انہیں عمر قید کی سزا میں تبدیل کیا گیا اور اجمل قصاب، افضل گرو اور اب یعقوب میمن کی سزا کی تعمیل میں تاخیر نہیں کرنا سیاست دانوں کی اپنی سیاسی چمتکاری سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔ یعقوب میمن کے شخصی وکیل کا کہنا ہے کہ ان کی پھانسی کی سزا پر تعمیل کا فیصلہ روکا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اس کے لئے ہنوز کوئی قانونی اختیار وضع نہیں ہوا ہے۔ اس میں ان کے ارکان خاندان کے دوسرے رکن کی جانب سے اگر درخواست رحم پیش کی جاتی ہے تو اس کی سماعت ہوگی۔ اگرچیکہ یعقوب میمن کو 30 جولائی کو پھانسی دینے کا امکان ہے۔ سپریم کورٹ میں درخواست رحم کے ساتھ ایک درخواست احتساب بھی پیش کی گئی ہے جس کا قانون کے ہاتھوں ’’انصاف کے قتل‘‘ کو روکنا ہے، مگر اب سپریم کورٹ کی استرداد کے بعد حکومت مہاراشٹرا کو ان کی پھانسی کی تاریخ اور وقت کا فیصلہ کرنا ہے۔ ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے اصل ملزم ٹائیگر میمن ہنوز مفرور ہے۔ یعقوب میمن نے ان کے اشاروں پر کام کیا ہے تو یہ بمبئی سلسلہ وار دھماکہ کیس کے پہلے ملزم ہوں گے جنہیں پھانسی کی سزا دی جائے گی۔ ناگپور سنٹرل جیل میں محروسم میمن کو پھانسی دینے سے قبل جیل حکام کو 14 دن قبل نوٹس دینی ہوتی ہے تاکہ ان کے ارکان خاندان کو اطلاع دی جاسکے اور ان کی آخری خواہش کی تکمیل ہوسکے جبکہ سپریم کورٹ میں داخل کردہ درخواست کفارہ اپنی زندگی بچانے کی جدوجہد کی آخری قانونی کوشش تھی۔

سپریم کورٹ نے قبل ازیں بھی ان کی درخواست نظرثانی کی سماعت کی تھی۔ صدرجمہوریہ کی جانب سے بھی درخواست رحم مسترد کردی گئی ہے۔ ممبئی میں دہشت گرد حملوں کے واقعات کا سلسلہ 1993ء کے بعد سے ہوا ہے جس میں ہندوستانی اقلیتوں کے رول پر بھی شبہ ظاہر کیا گیا۔ 12 مارچ 1993ء کے بعد بمبئی میں 6 ڈسمبر 2002ء کوگھاٹ کوپر میں دھماکہ ہوا ، 27 جنوری 2003ء کو وِلے پارلے، 16 مارچ 2003ء کو ملند، 28 جولائی 2003ء کو گھاٹ کوپر اور 25 اگست 2003ء کو گیٹ وے آف انڈیا، زاویری بازار میں بھی دھماکے ہوئے تھے۔ 11 جولائی 2006ء کو ٹرینوں میں دھماکے ہوئے جس میں 209 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 26 نومبر 2008ء کا ممبئی دہشت گرد حملہ آخری سب سے بڑا حملہ تھا جس کے بعد سکیورٹی کے انتظامات کو عصری بنایا گیا لیکن اس کے بعد 13 جولائی 2011ء کو ہوئے تین بم دھماکے نے سکیورٹی کی ناقص انتظامات کی قلعی کھول دی تھی۔ ہندوستان میں قانون کے ذریعہ مجرموں کو سزا دینے کے لئے جب اپنی مطلب کی کارروائیاں ہوتی ہیں تو اس سے جرائم پر قابو پانے میں کامیابی نہیں مل سکتی۔ اب یعقوب میمن کی سزائے موت سے متعلق سنگین اور سنجیدہ سوالات اُٹھیں گے اور یہ سزائے موت سراسر سیاسی مقصد براری کا حصہ کہلائے گی۔

TOPPOPULARRECENT