Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / پھلوں کو پکانے کیلئے کیلثیم کاربائیڈ کا استعمال مضرت رساں

پھلوں کو پکانے کیلئے کیلثیم کاربائیڈ کا استعمال مضرت رساں

حیدرآباد۔/2مارچ، ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں پھلوں کو جلد سے جلد پکانے ( کھانے کے قابل بنانے ) کیلئے کیلثیم کاربائیڈ کے استعمال سے صحت پر مرتب ہونے والے مضر و نقصان رساں اثرات سے عوام و تاجران میوہ میں شعور بیدار کرنے میں سماجی ذمہ داری کے طور پر میڈیا ( صحافت ) سے اپنا ذمہ دارانہ رول ادا کرتے ہوئے حکومت کے اقدامات میں بھرپور تعاون کرنے کی پرنسپال سکریٹری محکمہ صحت و طبابت مسٹر راجیشور تیواری نے پرزور خواہش کی۔ ریاستی ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق مختلف اقسام کے میووں کو جلد کھانے کے قابل بنانے ( پکانے کیلئے ) میں تاجران میوہ کی جانب سے کیلثیم کاربائیڈ کا استعمال کرنے سے گریز کی تلقین و بیداری پیدا کرنے میں صحافتی نمائندوں کے ساتھ محکمہ صحت و طببات اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی جانب سے مشترکہ طور پر آج سکریٹریٹ میں مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا ۔ اس موقع پر اظہا ر خیال کرتے ہوئے پرنسپال سکریٹری محکمہ صحت و طبابت مسٹر راجیشور تیواری نے کیلثیم کاربائیڈ کے استعمال سے مرتب ہوئے مضر و نقصان رساں اثرات کے تعلق سے پرنٹ میڈیا میں مضامین کی اشاعت اور الیکٹرانک میڈیا میں اسکرولنگس کے علاوہ مباحث منعقد کرکے اپنا تعاون کرنے کی صحافتی نمائندوں سے پرزور خواہش کی اور کہا کہ عوام کو میووں کی خریدی سے قبل ہوشیاری کا مظاہرہ کرنے کاربائیڈ کے ذریعہ نہ پکائے جانے کی تصدیق کرلینے کی سخت ضرورت ہے اور تاجرین میوہ کو بھی اپنی دوکانات پر کاربائیڈ کا استعمال نہ کئے ہوئے میوہ جات کا اظہار کرتے ہوئے اطلاع تحریر کرکے عوام کو واقف کروانے کی مسٹر راجیشور تیواری نے ضروری ہدایات دیںاور ساتھ ہی ساتھ تاجران میوہ اور میوے کے بڑے کاروبار کرنے والے ٹریڈرس اگر کاربائیڈ کا استعمال کرنے کی صورت میں قانون فوڈ سیکوریٹی کے تحت سخت کارروائی کرنے کا بھی انتباہ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میوؤں کی دکانات سے حاصل کئے جانے والے نمونے لیاب کو روانہ کرکے ٹسٹ کروانے پر کیلثیم کاربائیڈ کا استعمال کرنے کی تصدیق ہونے پر ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ میں کیسس درج کروائے جائیں گے اور کیس کی سماعت میں کاربائیڈ کا استعمال کیا جانا ثابت ہونے پر چھ ماہ کی جیل سزا کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میووں کو پکانے میں کاربائیڈ کا استعمال ہونے یا نہ ہونے کے تعلق سے معلومات کے حصول کیلئے بہت جلد محکمہ صحت و طبابت کی جانب سے ایک نئی ویب سائیٹ کا آغاز کیا جائے گا۔ مسٹر راجیشور تیواری نے بتایا کہ گڈی انارم فروٹ مارکٹ میں 60لاکھ روپئے کے مصارف سے تعمیر کئے جانے والے ایتھلن چیمبرس ماہ مارچ کے اختتام تک مکمل ہوجائے گا اور قابل استعمال ہوگا۔ اس کے علاوہ خانگی شعبہ کے تحت بھی مزید 6 ایتھیلن چیمبرس کی تعمیر بھی مکمل کی جائے گی اور زرعی مارکٹ کمیٹیوں میں مزید گرین چیمبرس قائم کرنے کے اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ اس کیلئے خانگی شعبہ کی ہمت افزائی کی جائے گی۔ اس موقع پر کمشنر محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ نے اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے کاربائیڈ کے استعمال سے ہونے والے نقصانات کے تعلق سے محکمہ کی جانب سے تلگو اور اردو زبان میں ممکنہ تشہیر کرنے کے ساتھ مارکٹوں میں ہورڈنگس وغیرہ بھی لگادی جائیں گی۔ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے میڈیا سے مشورے و تجاویز پیش کرنے کی پرزور خواہش کی اور کہا کہ اس سلسلہ میں میڈیا کو اپنی اولین ترجیح دینے و حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ شریمتی شیوا لیلاڈائرکٹر انسٹی ٹیوٹ آف پریونٹیو میڈیسن ( آئی پی ایم ) نے کاربائیڈ استعمال کے موضوع پر پاور پریزنٹیشن کیا۔ اس موقع پر مسٹر ناگیا کامبلے جوائنٹ ڈائرکٹر محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے علاوہ آئی پی ایم کے دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT