Thursday , January 18 2018
Home / ہندوستان / پھولن دیوی کے قاتل کو سزائے عمر قید اور ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ

پھولن دیوی کے قاتل کو سزائے عمر قید اور ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ

نئی دہلی۔/14اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) ڈاکو سے سیاستداں بننے والی پھولن دیوی جس کا 2001 ء میں قتل کردیا گیا تھا جس کے لئے واحد ملزم شیر سنگھ رانا کو دہلی کی عدالت نے سزائے عمر قید سنائی ہے جبکہ ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج بھرت پراشر نے عوام سے کھچا کھچ بھری عدالت میں سزا کا اعلان کیا جہاں ملزم کے رشتہ داروں ک

نئی دہلی۔/14اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) ڈاکو سے سیاستداں بننے والی پھولن دیوی جس کا 2001 ء میں قتل کردیا گیا تھا جس کے لئے واحد ملزم شیر سنگھ رانا کو دہلی کی عدالت نے سزائے عمر قید سنائی ہے جبکہ ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج بھرت پراشر نے عوام سے کھچا کھچ بھری عدالت میں سزا کا اعلان کیا جہاں ملزم کے رشتہ داروں کے علاوہ اس کے حامیوں کی بھی کثیر تعداد موجود تھی اور فیصلہ سننے کے بعد وہ لوگ آبدیدہ ہوگئے۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جرمانہ کی رقم ادا نہ کرنے پر رانا کو مزید ایک سال جیل میں گزارنا ہوگا۔ یاد رہے کہ 8اگسٹ کو عدالت نے رانا کو قصور وار ٹھہرایاتھا جبکہ دیگر دس ملزمین کو پھولن دیوی کے سنسنی خیز قتل میں ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر بری کردیا تھا۔ جس وقت پھولن دیوی کا قتل ہوا اس وقت وہ رکن پارلیمان تھیں اور اشوکا روز میں واقع ان کی رہائش گاہ کے قریب نقاب پوش حملہ آوروں نے قریب سے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

37سالہ پھولن دیوی 25جولائی 2001ء کو لوک سبھا کی کارروائی میں شرکت کے بعد دوپہر کے کھانے کیلئے اپنے مکان پہنچی تھیں لیکن انہیں کھانا نصیب نہیں ہوسکا۔ استغاثہ نے قبل ازیں رانا کیلئے سزائے موت کی تجویز پیش کی تھی اور یہ کہا تھا کہ وہ ایک منصوبہ بند قتل تھا جس کی تیاری کافی دنوں سے جاری تھی۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ رانا سزا کا مستحق ہے کیونکہ وہ سماج کیلئے خطرہ ہے جبکہ رانا کے وکیل نے استغاثہ کے استدلال کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ پولیس پھولن دیوی کے قتل کے پس پشت وجوہات کا پتہ چلانے میں سراسر ناکام ہوگئی ہے۔ رانا نے عدالت سے خواہش کی تھی کہ اسے معاف کردیا جائے اور کہا تھا کہ آپ ( جج ) اس وقت بھگوان کی کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں وہ بھگوان کے منہ سے نکلنے والا حکم ہے لہذا مجھے معاف کردیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT