Thursday , February 22 2018
Home / مضامین / پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

رند سرشار
ہندوستان کے مو جودہ صدر جمہوریہ آنزئیبل رام ناتھ کووند نے اپنے عہدہ کا حلف لینے کے بعد جو پہلی تقریر کی اس میں انہوں نے ان قائدین کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے ہندوستان کے عوام کی خدمت کی مگر تعجب تو یہ ہے کہ ان میں جواہر لال نہرو کا نام شامل نہ تھا جو ہندوستان کے پہلے وزیراعظم اور ایک عظیم مجاہد آزادی رہے ہیں، یوں تو موجودہ حکومت اور اس کے سربراہ نریندر مودی یہ کوشش کر رہے ہیں کہ جواہر لال نہرو کا نام ہندوستان کی تاریخ ہی سے مٹادیا جائے مگر یہ تو آنے والی نسلیں ہی فیصلہ کریں گی کہ نہرو اور مودی کے کارناموں کا کس طرح کیسا نام لیا جائے۔
ہندوستان کے عوام کو توقع تھی کہ صدر جمہوریہ ، ایک سیاسی پارٹی کی مصلحتوں سے اوپر رہ کر غیر جانبداری سے فیصلہ کریں گے ۔ اس تقریر کے بعد یو پی حکومت نے دین دیال اپادھیا کی صد سالہ تقریب کے موقع پر ان کی تعریف میں ایک کتابچہ شائع کیا اور اس کو یو پی کے دس لاکھ اسکولی بچوں کے نصاب بھی شامل کردیا۔ ان میں ان لوگوں کے نام شامل ہیں جنہوں نے ہندوستان کے جدوجہد آزادی میں نہ حصہ لیا اور نہ جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔ خود نریندر مودی اور ان کے مددگار امیت شاہ اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو آزادی کے بعد پیدا ہوئے اور بہت سرخروی کے ساتھ سارے ہندوستان میں سر اُٹھائے ہوئے ڈراتے گھوم رہے ہیں اور ہندوستان کے عوام انہیں ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں ، مگر ہندوستان کے پیچیدہ سماج کو سمجھنے کیلئے جہاں مختلف مذاہب اور مختلف زبانیں بول نے والے لوگ رہتے ہیں۔ ایک وسیع النظر آدمی کی ضرورت ہوتی ہے مگر موجودہ حکومت کے حواریوں میں اس کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ لمحہ بہ لمحہ ہونے والی تبدیلیوں میں جو مختلف عوام کام کرتے ہیں، ان کے مطابق ایک ملک کی پالیسی کا متعین کرنے کیلئے بڑے گہرے شعور کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مشہور مورخ جرگن ماشیلی نے لکھا کہ تاریخ کی تدوین اس لئے بھی ضروری ہے کہ ایک ملک کے ان حالات کا مقابلہ کیا جائے جو ملک میں ڈکٹیٹرشپ قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ملک کے عوام ایسی غلطی پھر نہ کریں کہ ایک ڈکٹیٹر کو ہم پر مسلط ہو اور اس کیلئے ضروری ہے ، ایک ایسے شخص کے ہاتھ حکومت آئے جو ہمارے دستور کی حفاظت کرے۔

پنڈت جواہر لال نہرو اگر سیاست داں نہ بھی ہوتے وہ دنیا کے ایک عظیم مفکر اور مورخ کی حیثیت سے عالمی شہرت کے حامل ہوتے۔ ہندوستانی عوام اور اپنے ملک کو سمجھنے کیلئے انہوں نے انتھک کوشش کی ۔ ان کی کتاب ’’تلاشِ … ‘‘ “Discovery of India” اور جیل میں رہ کر انہوں نے اپنی بیٹی اندرا گاندھی کے نام جو خطوط انہوں نے لکھے ہیں جو “Bunch of Thoughs” کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوئے ہیں۔ اُن کو پڑھنے کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہندوستان کی ہزاروں سالہ تاریخ سے لیکر برٹش راج تک بے پناہ معلومات حاصل کی تھیں۔ انہوں نے خود لکھا ہے کہ پہلے پہل جب وہ اپنی تعلیم ختم کر کے یوروپ سے ہندوستان آئے ہوئے انہوں نے ایک یوروپین کی حیثیت سے ہندوستان کو سمجھنے کی کوشش کی مگر انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آیا اس لئے وہ سارے برصغیر کے شمال و جنوب ، مشرق اور مغرب کا مسلسل دورہ شروع کیا ۔ یہاں کے مشہور شہروں کو دیکھا پھر کھیت و کھلیانوں کی سیر کی۔ افتادہ دیہاتوں میں گھو تے رہے ، یہاں کے دریاؤں کی سیر کی ۔ ہمالیہ کے دامن میں گھومتے رہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ہمالیہ کو دیکھ کر میں بدمست ہوجاتا ہوں۔ ہندوستان میں مندروں ، مسجدوں ، گرجا گھروں اور گردواروں کو دیکھتے رہے۔ چونکہ بچپن میں ایسے ماحول میں ان کی تربیت ہوئی تھی جہاں اردو کا بول بالا تھا ۔ ان کی شادی کا دعوت نامہ بھی اردو میں چھاپا گیا تھا ۔
اُن کے والد موتی لال نہرو اردو اور فارسی زبان کے عالموں میں سے تھے ، ان کا خاندان کشمیری پنڈت تھا۔ موتی لال نہرو کے والد بزرگوار پنڈت گنگا دھر نہرو دہلی کے کوتوال تھے ۔ 1857 ء کے غدر کے بعد وہ دہلی چھوڑ کر آگرہ آگئے ۔ موتی لال نہرو نے آگرہ میں وکالت شروع کی اور پھر آگرہ چھوڑ کر الہ آباد آئے اور ایک بڑے وکیل کی حیثیت سے مشہور ہوئے اور بے پناہ دولت کمائی ۔ الہ آباد میں انہوں نے رہنے کے لئے ایک وسیع عمارت تعمیر کی جس کا نام انہوں نے ’’آنند بھون‘‘ رکھا۔ جواہر لال نہرو بڑی منتوں اور آرزوؤں کے بعد پیدا ہوئے ۔ موتی لال نہرو کی پہلی بیوی زجگی کے دوران چل بسیں اور بچہ بھی وضع حمل کے دوران فوت ہوگیا ۔ بعد ازاں موتی لال نہرو نے دہلی کے ایک کشمیری پنڈت اور ان کی لڑکی سروپ رانی سے شادی کی، اُن سے بھی ایک لڑکا کمسنی میں چل بسا۔ اب موتی لال نہرو بچہ کیلئے تڑپ رہے تھے ، اپنے ایک دوست کے مشورے پر وہ دہلی کے ایک پہنچے ہوئے بزرگ کے پاس گئے اور التجا کی کہ وہ دعا کریں کہ ان کو اولاد ہو مگر درویش نے کہا کہ ان کو اولاد نہیں ہوگی مگر موتی لال نہرو نے پھر التجاکی کہ دعا کریں فقیر نے پھر دعا کی اور کہا کہ وہ اپنی ساری ریاضتیں موتی لال کیلئے صرف کردی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ دوسرے دن اس درویش کی موت ہوگئی ۔ اس کے کچھ ہی دن بعد 8 فروری 1884 ء کی رات ساڑھے گیارہ بجے موتی لال کوایک بچہ پیدا ہوا اور اس بچہ کا نام جواہر لال نہرو رکھا گیا ۔ نہرو کی شادی 8 فروری 1918 ء میں ایک لڑکی سے ہوئی جو ان سے دس برس چھوٹی تھی ۔ بچپن میں وہ صرف اردو ہی بولتے اور بہترین تقریر کرتے تھے ۔ منشی مبارک علی آنند بھون کے ایک اہم ملازم تھے ، جنہوں نے جواہر لال نہرو کی بچپن میں تربیت کی تھی ۔ اس وجہ سے ان میں اتنی وسیع النظری پیدا ہوئی تھی۔ جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے کہ نہرو کو پہلے پہل ہندوستان کو سمجھنے میں بڑی دشواری محسوس ہوئی ۔ اس زمانے میں مومن داس کرم چند گاندھی جنوبی افریقہ چھوڑ کر ہندوستان واپس آگئے تھے اور انہوں نے سنیاس لے لیا تھا ۔ صرف ایک دھوتی اور ایک کپڑا اوڑھے اور ہاتھ میں لاٹھی لئے سارے ہندو ستان میں گھومنے لگے۔ گاندھی جی جہاں جاتے اُن کے ساتھ ہزاروں افراد جن میں ہندو ، مسلم، سکھ ، عیسائی ، بدھسٹ ہزاروں کی تعداد میں ان کے ساتھ چلنے لگتے۔ جواہر لال نہرو کو جب اس کی خبر دی تو وہ فوراً گجرات میں گاندھی جی کے آشرم پہنچ گئے ، ان سے پہلی ملاقات ہی میں نہرو نے اپنا سوٹ اتار دیا اور گاندھی ٹوپی اور کھادی کا کرتا پائجامہ پہننے لگے بعد میں شیروانی کو انہوں نے قومی لباس قرار دیا ۔ نہرو نے لکھا ہے کہ مہاتما گاندھی سے پہلی ملاقات کے بعد ہی مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ پلٹ کر واپس آنا دشوار ہوگیا اور انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی ہندوستانی عوام کو ضرورت ہے ۔ وہ سیاست میں داخل ہوگئے۔

مشہور جرمن مورخ جرگن مابرلن کا لکھا ہے کہ تاریخ کی تدوین کیلئے ایک گہری اور عمیق نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاریخ کی اہمیت ایک قوم کے بننے اور بگاڑنے میں اہم کر دار ادا کرتی ہے اس لئے کہ ایک ہی شخص کسی ملک کا سربراہ ہو جو سماج میں ہونے والی ہر روز تبدیلیوں کو سمجھنے کی فراست رکھتا ہو تاکہ ان کرداروں کے مقابلہ کیا جاسکے جو ملک کی فاشزم کی طرف لے جانا چاہتے ہیں تاکہ ہندوستان کے دستور کی حفاظت ہوسکے۔ ساری کوششوں کے باوجود ہندوستانی تاریخ نہرو کو فراموش ہی نہیں کرسکتی۔ وہ گزشتہ صدی کے ایک عظیم اور باوقار قائد بن کے ابھرے تھے جنہوں نے نو آزاد ممالک کے کروڑوں عوام کو متحد کیا تاکہ کروڑوں عوام جو صدیوں سے بھوک پیاس ، بیروزگاری ، فاقہ کشی سے مر رہے تھے اور سامراجوں نے انہیں صدیوں سے لوٹا تھا ، ان کی آواز اٹھائی ، ایشیا کا ایک تیسرا متحدہ محاذ قائم کیا جائے تاکہ سامراجی طاقتوں کا مقابلہ کیا جاسکے ۔ ان کا خیال تھا کہ عوامی اتحاد میں ایشیاء کے کروڑوں عوام کی ایک مضبوط سامراجی طاقتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکتا ہے۔
یوروپ کے مسلسل دوروں کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ ہندوستان کی آزادی اور اس کی حفاظت جب تک نہیں کی جاسکتی جبکہ سارے ایشیاء کے عوام کو متحد نہ کیا جائے۔ 1926 ء میں بروسیلز میں ہونے والے ایک کانفرنس میں شرکت کی یہ وقت وہ تھا جبکہ یوروپ میں فاشزم ان کی اور جرمنی میں سر ا ٹھا رہا تھا اور دوسری طرف کمیونزم کی زبردست تحریکیں یوروپ اور خاص طور پر 1955 ء میں انہوں نے بنڈنگ کانفرنس کے انعقاد میں اہم رول ادا کیا جس کی وجہ سے حقیقی طور پر دنیا میں تیسرا محاذ قائم ہوا اور ایک نئی آئیڈیالوجی پیدا ہوئی۔ اس کانفرنس میں ایشیاء اور افریقہ کے 29 ممالک کے مندوبین شریک تھے ۔ ان لوگوں نے سر جوڑ کر بٹھاکر کس طرح ایک دوسرے سے اتحاد اور اتفاق پیدا کیا جائے ۔ موجودہ تاریخ ایک ایسے انسان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہی ہے ۔ یہ ایک عجیب ٹریجیڈی ہے ۔ ہم کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہم آپس میں اتحاد پیدا کریں تاکہ ایک کشادہ اور وسیع النظر سماج کی تشکیل ہو اور نئی نسل کو معلوم ہو کہ نریندر مودی کے بجائے ہمیں جواہر لال نہرو کی آج بھی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT