Monday , November 20 2017
Home / ہندوستان / پہلوخان زدوکوب کے ذریعہ ہلاکت مقدمہ : 6 ملزم بری

پہلوخان زدوکوب کے ذریعہ ہلاکت مقدمہ : 6 ملزم بری

جئے پور ۔ 14 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) چھ افراد جنہیں زدوکوب کے ذریعہ 55 سالہ پہلوخان کو ہلاک کرنے کا مقدمہ زیردوران ہے، اس سے جاریہ سال کے اواخر میں بڑے پیمانے پر ملک گیر برہمی پیدا ہوئی تھی۔ راجستھان پولیس نے 6 ملزمین کو بے قصور قرار دیا۔ پولیس کا دعویٰ ہیکہ شہادتوںکی بنیاد پر ملزمین کو بے قصور قرار دیا گیا ہے حالانکہ مہلوک کے فرزند نے اس کو ’’غداری‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ارکان خاندان ایک اور تحقیقات کی خواہش کریں گے۔ دیگر 9 ملزمین تاہم مجرمانہ الزامات کا سامنا کررہے ہیں جو پہلوخان کی ہلاکت سے متعلق ہیں۔ اے ڈی جی (سی آئی ڈی ۔ سی بی) پنکج کمار سنگھ نے کہا کہ 6 افراد کو تحقیقات کے بعد جو پہلوخان مقدمہ کی تھیں، بے قصور قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موقع واردات پر جو افراد موجود تھے، ان کے بیانات، تصویروں اور موبائیل فون ریکارڈس کی بنیاد پر ان ملزمین کو بے قصور قرار دیا گیا ہے۔ حکم چند، اوم پرکاش، سدھیر یادو، راہول سائنی، نوین شرما اور جگمل یادو کو بے قصور قرار دیا گیا ہے۔ قبل ازیں 6 افراد کو ان افراد میں شامل قرار دیا گیا تھا جنہوں نے پہلو خان پر حملہ کیا تھا۔ پہلوخان کی زدوکوب کے ذریعہ ہلاکت کا مقدمہ (سی آئی ڈی ۔ سی بی) نے جولائی میں ان تحقیقات سے یکم ؍ ستمبر کو الوار پولیس نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے دستبرداری اختیار کرلی تھی۔ اس تبدیلی پر صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے پہلوخان کے فرزند ارشاد نے جو حملہ کے وقت ان کے ساتھ تھا، کہا کہ خاندان آخری سانس تک انصاف کے حصول کیلئے جدوجہد کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ غداری ہے۔ ہم نے ملزمین کے نام سنے ہیں جنہوں نے حملہ میں شرکت کی تھی۔ اب انہیں بے قصور کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔
ہم دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ کریں گے۔ پہلوخان اور دیگر پر مبینہ طور پر گاؤ دہشت گردوں نے یکم ؍ اپریل کو الور میں حملہ کیا تھا جبکہ وہ راجستھان میں مویشی خریدنے کے بعد ہریانہ جارہے تھے۔ ڈیری فارم چلانے والا پہلوخان دو دن بعد زخموں سے جانبر نہ ہوسکا تھا۔

 

TOPPOPULARRECENT