Saturday , April 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / پہلی ملاقات

پہلی ملاقات

… گزشتہ سے پیوستہ …
واپس لوٹ کر جیسے ہی راہب کو خادم نے نام کی اطلاع دی، اس کی آنکھیں حیرت و انبساط کی ملی جلی کیفیت سے چمک اٹھیں۔ جذبات کی ترنگ میں وہ کھڑا ہوگیا اور خادم کو حکم دیا ’’جاؤ بغیر کسی تاخیر کے اسے میرے خلوت کدے میں بلالاؤ‘‘۔
راہب کا یہ حکم سن کر خادم کو انتہائی اچنبھا ہوا، سکتے کی کیفیت میں وہ تھوڑی دیر تک کھڑا رہا اور سوچتا رہا کہ سو برس کی روایات کے خلاف یہ بالکل اجنبی حکم کیا واقعتاً تعمیل کے لئے ہے یا یونہی زبان سے نکل گیا ہے؟
اس کی یہ کیفیت دیکھ کر راہب نے پھر زور دیتے ہوئے کہا ’’جاؤ!۔تمھیں پس و پیش کیوں ہو رہا ہے۔ میں جان بوجھ کر اپنے دستور کی خلاف ورزی کر رہا ہوں، حکم کی تعمیل کرو، اظہار حیرت کا یہ موقع نہیں ہے‘‘۔
حضرت ابوبکر اپنے تئیں اس اُمید میں کھڑے تھے کہ پوچھ گچھ کا مرحلہ طے ہو جانے کے بعد اب یہاں رات بسر کرنے کی اجازت مل جائے گی۔ جونہی قدموں کی آہٹ ملی، وہ راہب کا فیصلہ سننے کے لئے گوش برآواز ہو گئے۔
خادم کے چہرے سے حیرت و استعجاب کی پُراسرار خموشی ٹپک رہی تھی۔ آتے ہی اس نے خبر دی: ’’اب میرے لئے تمہاری شخصیت سرتاسر ایک معمہ بن گئی ہے۔ کلیسا کی ایک صدی کی لمبی تاریخ میں تم پہلے انسان ہو، جسے ہمارے تارک الدنیا شیخ نے اپنی خلوت خاص میں باریاب ہونے کی اجازت دی ہے، بلکہ تمہاری سحر طراز شخصیت نے انھیں سراپا اشتیاق بنا دیا ہے۔ وہ نہایت بے تابی کے ساتھ اپنے خلوت کدہ میں تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ جلدی چلو، ورنہ ایک لمحہ کی تاخیر بھی جذبہ شوق کے لئے گراں بار بن جائے گی‘‘۔
حضرت ابوبکر مجسمہ حیرت بنے ہوئے اٹھے اور اس کے پیچھے پیچھے راہب کے حجرہ خاص میں داخل ہوئے۔
بوڑھا راہب جس کی بھنویں سفید ہوکر لٹک گئی تھیں اور ہڈیوں کے ڈھانچہ کے سوا سر سے پا تک جسم انسانی کا کہیں کوئی گداز حصہ نظر نہیں آرہا تھا، خیرمقدم کے لئے کھڑا تھا۔ حجرہ میں قدم رکھتے ہی ایک مدھم سی آواز کان میں آئی: ’’اگر تم وہی ہو، جس کی چند نشانیاں میرے پاس محفوظ ہیں تو آج تمہارے دیدار کا شرف حاصل کرکے میں ہمیشہ اپنی خوش نصیبی پر فخر کروں گا‘‘۔ یہ کہتے ہوئے اپنی لٹکی ہوئی پلکوں کو آنکھوں کے روزن سے ہٹایا اور چراغ کی تیز روشنی میں سر سے پا تک ایک بار سارے جسم کا جائزہ لیا۔ کبھی کتاب کے بوسیدہ ورق پر انگلی رکھتا، کبھی چہرے کے خدوخال کا مطالعہ کرتا۔ نوشتۂ کتاب اور صحیفۂ رخ کا کافی دیر تک تقابلی جائزہ کے بعد ایک مرتبہ عالم بے خودی میں آواز دی: ’’زحمت نہ ہو تو اپنے داہنے ہاتھ کی کلائی ذرا میری آنکھوں کے قریب کردو‘‘۔کلائی پر تجسس کی نگاہ ڈالتے ہی اس کے جذبات قابو سے باہر ہوگئے، اپنے لرزتے ہوئے ہونٹ سے انگلیوں کا بوسہ لیتے ہوئے کہا: ’’اجازت دو کہ میں تمھیں ’’امیر المؤمنین ابوبکر صدیق کہہ کر پکاروں‘‘۔
تحیر آمیز لہجے میں حضرت ابوبکر نے کہا ’’سمجھ میں بات نہیں آتی کہ صرف ایک رات بسر کرنے کے سوال پر کتنا بکھیڑا پھیلا دیا ہے تم نے؟۔ کبھی ہم سے مکہ کا جغرافیہ پوچھتے ہو، کبھی میرا اور میرے باپ کا نام دریافت کرتے ہو، کبھی کئی سو برس پرانا کاغذ لے کر میرے چہرے اور جسم کے نشانات کا جائزہ لیتے ہو اور اب تم نے مجھے ایسے نام سے موسوم کرنے کی اجازت چاہی ہے، جس نام سے میرے باپ نے موسوم ہی نہیں کیا۔ تم ہی سوچو! آخر یہ کیا تماشہ ہے؟ درماندہ انسانوں کے ساتھ اس طرح کا مذاق تارک الدنیا راہب کو ہرگز زیب نہیں دیتا۔ سیدھے سادے انداز میں ایک رات بسر کرنے کی اجازت دینی ہو تو دے دو، ورنہ آسمان کا شامیانہ ہمارے لئے بہت کافی ہے‘‘۔ یہ کہہ کر حضرت ابوبکر واپس لوٹنا ہی چاہتے تھے کہ راہب نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔ ’’ہائے افسوس! آسمانی بشارت سن کر آزردہ خاطر ہو گئے۔ معاذ اللہ! روئے زمین کی ایک محترم ہستی سے میں کبھی مذاق نہیں کرسکتا۔ تمہارے مقدر کے جو نوشتے میرے پاس محفوظ ہیں، میں نے انھیں پڑھ کر سنایا ہے، مذاق نہیں کیا ہے۔
راہب نے کہا: ’’آج میری باتوں کا شاید تم یقین نہ کرسکو، لیکن سن لو کہ مکہ کے افق سے رسالت کا وہ خورشید انور بہت جلد طلوع ہونے والا ہے، جس کے جلو میں ایک روشن ستارہ کی طرح تم قیامت تک درخشاں رہو گے۔ آسمانی صحائف میں گیتی کے آخری پیغمبر کے جلوہ گر ہونے کی جو نشاندہی کی گئی ہے، اس کی واضح علامتیں میں تمہاری شخصیت کے آئینے میں پڑھ رہا ہوں۔ تمہارے دمکتے ہوئے چہرے کی تو بات ہی کیا ہے، تمہارے داہنے ہاتھ کا یہ تل بھی ہماری کتاب میں موجود ہے۔ عبرانی زبان سے واقف ہو تو اپنا سراپا تم خود ہی ان آسمانی نوشتوں میں پڑھ لو۔ بہرحال اب تم ایک غریب الدیار مسافر نہیں ہو، تجلیات قدس کے نگار خانوں کے وارث و نگراں ہو۔ اس خانقاہ کی دیواروں کا سایہ تو کیا چیز ہے، تم چاہو تو میری سفید پلکوں میں رات گزار سکتے ہو‘‘۔
ایک ہنگامہ خیز تحیر کے ہجوم میں حضرت ابوبکر راہب کے خلوت کدہ سے اٹھے اور کلیسا کے ایک حجرے میں آکر لیٹ گئے۔ ساری رات راہب کی گفتگو بزم خیال میں گردش کرتی رہی۔ ذہن میں طرح طرح کے تصورات کا طوفان امنڈتا رہا، ایک لمحہ کے لئے بھی انھیں نیند نہیں آئی۔ صبح کو جب رخصت ہونے لگے تو راہب کی الوداعی ملاقات کا منظر بڑا ہی دردناک تھا۔ اشکبار آنکھوں سے پیشانی کا بوسہ لیتے ہوئے بوڑھے راہب کا یہ جملہ مکہ کی واپسی تک ان کے حافظہ پر نقش رہا کہ ’’تمہاری زندگی میں فیضان الٰہی کی جب وہ سحر طلوع ہو تو مجھے بھی فیروز بخت دعاؤں میں یاد رکھنا‘‘۔ (باقی آئندہ)

TOPPOPULARRECENT