Monday , December 11 2017
Home / مضامین / پہلے راجستھان، پھر ہندوستان جیتنے کا موقع اپوزیشن کا طاقتور اتحاد ناگزیر

پہلے راجستھان، پھر ہندوستان جیتنے کا موقع اپوزیشن کا طاقتور اتحاد ناگزیر

 

سمیتا گپتا
سچن پائلٹ جب سے صدر راجستھان کانگریس بنائے گئے اور خاص طور پر اُن کی پارٹی مرکز میں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد سے وہ شاذونادر ہی قومی دارالحکومت میں دکھائی دیتے ہیں۔ راجستھان ایسے کلیدی انتخابی مقابلے والی ریاست ہے جہاں کانگریس کو 2018ء اسمبلی انتخابات میں اقتدار واپس چھین لینے کی امید ہے۔ اِس ماہ دہلی کے دورے کے دوران اپنے دفتر میں جہاں اُن کے والد راجیش پائلٹ کا پورٹریٹ دیوار پر بہت نمایاں دکھائی دیتا ہے اور اُن کے والد کی ایک دیگر بڑی تصویر جو راجیو گاندھی کے ساتھ ہے دیگر دیوار پر نظر آتی ہے، انھوں نے خود کو اور اپنی پارٹی کو درپیش چیلنجوں کے تعلق سے لب کشائی کی۔ اقتباسات پیش ہیں:
راجستھان میں آئندہ سال کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کے امکانات کیا ہیں اور آپ کی حکمت عملی کیا ہے؟
m گزشتہ چار سال کے دوران پچھلے ریاستی انتخابات (2013ء میں) 200 کے منجملہ 21 نشستیں اور پارلیمنٹ میں بی جے پی سے 26% پیچھے رہنا ہو ۔ میں تمام پارٹی ورکرز اور قائدین کی محنت کو تسلیم کروں گا اور ہم راجستھان میں پُرجوش متبادل قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ کانگریس نہ صرف بڑے انتخابات بلکہ نسبتاً چھوٹے چناؤ بھی جیتنے کیلئے استقلال کے ساتھ کام کررہی ہے۔ چھوٹے چناؤ میں پنچایتیں یا کارپوریشنس، کواپریٹیو سیکٹر، اگریکلچرل بینکس وغیرہ شامل ہیں، جہاں سے بنیادی ماحول اور روش قائم ہوتے ہیں کہ وسیع سیاسی منظر کس طرح اُبھرے گا۔
دوسری طرف وسندھراجی (چیف منسٹر وسندھرا راجے) اپنی ’سوراج سنکلپ یاترا‘ پر نکل پڑیں اور بڑے بڑے وعدے کئے، جن میں سے 90% محض کاغذ پر ہیں۔ لوگ سوالات اٹھانے لگے ہیں۔ وہ 15 لاکھ نوکریوں کی بات کرتی ہیں، لیکن سرکاری ریکارڈز اسے صرف ہزاروں میں دِکھاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ زراعت کو کسانوں کیلئے محنت کا انعام بنائیں گی، مگر گزرے دو سال میں 80 خودکشیاں ہوچکی ہیں۔
کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ ماضی میں کوئی خودکشیاں پیش نہیں آئیں؟
m ماضی میں جب فصل ناکام ہوئی، ریاستی حکومت مداخلت کرتی، قرض معاف کیا جاتا، کچھ مالی مدد دی جاتی رہی۔ لوگوں کو بھروسہ تھا کہ ’’اگر ہم مشکل پڑجائیں تو حکومت ہماری زندگیاں بچائے گی‘‘۔ چونکہ جئے پور میں موجودہ سیاسی نظام اور کاشت کار برادری کے درمیان بے ربطگی پائی جاتی ہے، اس لئے ہم اِس صورتحال کو پہنچ چکے ہیں۔ دس لاکھ کسانوں کو معاوضہ کا انتظار ہے جو گزشتہ سال شدید ژالہ باریوں کے سبب فصلوں کو نقصان کے سلسلے میں دیا جانا ہے۔ یہ اعداد و شمار سرکاری ریکارڈز کے مطابق ہیں، اور یہی بات متعلقہ وزیر نے اسمبلی میں بیان کی ہے۔
ہم زرعی بدحالی، کرپشن، بے روزگاری، اور ریاستی ادارہ جات کی مکمل طور پر پرائیویٹ بینکوں کو حوالگی کے مسائل اٹھاتے رہے ہیں ۔ میں خانگی سرمایہ کاری کے خلاف نہیں ہوں، لیکن پی پی پی (پبلک۔پرائیویٹ پارٹنرشپ) کی آڑ میں آپ کا ریاستی حکومت کے قیمتی وسائل اور اثاثہ جات کو شفاف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کے بغیر خانگی ہاتھوں میں سونپ دینا درست نہیں ہوسکتا۔
بی جے پی نے کرپشن کا مسئلہ کانگریس کے خلاف مؤثر طور پر استعمال کیا ہے، لیکن کانگریس راجستھان میں یا کہیں اور اس کا جواب دینے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔
m میں دہلی کے تعلق سے لب کشائی نہیں کرسکتا، مگر راجستھان میں عوام حقائق جانتے ہیں۔ ایک لاکھ بیگھا اراضی غیرقانونی طور پر 600 افراد کو ایک دن میں دی گئی۔ اسے منظرعام پر لایا گیا۔ ہم نے سی بی آئی (سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن) تحقیقات کا مطالبہ کیا، ہم سی وی سی (سنٹرل ویجلنس کمیشن) سے رجوع ہوئے۔ حکومت نے وہ کاموں کو منسوخ کیا اور انکوائری لوک آیوکت کے سپرد کی اور دفتر وزیراعلیٰ اس کے دائرۂ کار میں نہیں آتا ہے۔ لوک آیوکت رپورٹ آنے سے قبل ہی متعلقہ سکریٹری کی معطلی منسوخ کردی گئی ہے۔ ایسی کئی مثالیں ہیں جہاں حکومت راجستھان نے قبول کیا کہ مجرمانہ غفلتیں، کرپشن ہیں۔ ہماری پیام رسانی، دو بہ دو رابطوں کے ذریعے لوگوں کو اس کا علم ہے۔
آپ یہ الیکشن نامزد وزارتِ اعلیٰ امیدوار کے بغیر لڑیں گے؟
m روایت کے مطابق تو ہم ایسا نہیں کرتے ہیں (کسی کو نامزد کرنا)، ماسوائے کہیں کسی ریاست میں ہوسکتا ہے ایسا کیا گیا۔ لیکن بی جے پی جس نے اپنے وزارتِ اعلیٰ چہروں کا اعلان مدھیہ پردیش میں، چھتیس گڑھ میں کیا جہاں اس کا اقتدار ہے، اور کرناٹک میں جہاں وہ برسراقتدار نہیں تھی کیوں اس نے یہی کام راجستھان میں نہیں کیا ہے؟
کیا راہول گاندھی ختم اکٹوبر تک صدر کانگریس بن جائیں گے؟
m میں (بالعموم) انتخابی نتائج پر (بھی) رائے زنی میں جلدبازی کرنا نہیں چاہتا، لیکن تمام تر آثار ہیں کہ وہ صدر (کانگریس) ہوجائیں گے۔
یا ایسا امکان ہے کہ سونیا گاندھی برقرار رہیں گی؟
m اب آپ قیاس آرائی کرنے لگے ہو۔ مسزگاندھی 19 سال سے صدر کانگریس ہیں اور اُن کا نہ صرف کانگریس کی سیاست بلکہ قومی سیاست میں بھی اپنا خاص مقام ہے۔ وہ پارٹی کی رہنمائی تو کرتی رہیں گی اور بڑھتی انتشارپسند قوتوں کے خلاف طاقت ہوں گی۔
پارٹی میں پرانی پیڑھی اور نوجوان قیادت کے درمیان ٹکراؤ ، نیز بڑھتی مایوسی کے تعلق سے بہت کچھ باتیں ہورہی ہیں۔
m میں اخلاقی درس دینا یا نصیحت کرنا نہیں چاہتا، لیکن لفظ مایوسی کا استعمال واقعی نہیں ہونا چاہئے۔ اب کوئی فلاں، فلاں یا فلاں کا معاملہ نہیں ہے۔ اپوزیشن میں صرف ایک مقصد ہونا چاہئے کہ وہ کس طرح عوام کی آواز بنیں تاکہ ہم بی جے پی کا 2019ء میں مقابلہ کرسکیں۔ نوجوان اور معمر کے تعلق سے بحث خیالی ہے۔ جن باتوں کا آپ نے ذکر کیا اس میں حقیقت سے بعید باتیں ہیں۔ میڈیا میں بہت کچھ لکھا گیا، لیکن ہم سب مل کر کام کرتے ہیں۔ میں بہ عمر 26 سال ایم پی بنا، بہ عمر 30 وزیر بنا، اور 36 سال کی عمر میں اسٹیٹ پارٹی پریسیڈنٹ بنا۔ میں 10 سال ایم پی رہا ہوں، تین انتخابات لڑے۔ اب اگر کوئی کہے کہ مجھے پارٹی سے مزید کچھ حاصل ہونا چاہئے تھا تو وہ بکواس ہے۔
آپ کا ’کریئر گراف‘ بھلے ہی غیرمعمولی ہے۔ لیکن ہم کسی جنرل سکریٹری کی بات کرتے ہیں جو نہیں جانتا کہ آیا اسے کل بدل دیا جائے گا۔ وہ کیا کارگزاری پیش کرپائے گا؟
m کوئی بھی فرد جو کانگریس کا صحیح معنی میں وفادار ہے، جب تک وہ کسی عہدہ پر فائز رہے، اسے وہ ذمہ داری پوری دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ ضرور نبھانا چاہئے۔ اب وقت ترقیوں یا تنزلیوں کا سوچنے کا نہیں، بلکہ سب کچھ پارٹی کو دینے کا وقت ہے کیونکہ آج صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ بدتر ہے۔ ہم نے پہلے ہی بی جے پی اور غیرکانگریسی حکومتیں دیکھی ہیں، مگر آج جو کچھ پیش آرہا ہے وہ بدتر ہے۔ یوں سمجھئے کہ ایک حد تک گلا گھونٹا جارہا ہے، سسٹمس اور ادارہ جات کی پرواہ نہیں ، جن کی تشکیل اور ترقی کیلئے ہم نے بہت محنت کی ہے۔ میرے خیال میں عوام کو کسی حکومت سے یہ توقع رہتی ہے کہ وہ صاف ستھری اور منصفانہ اور شفاف ہونا چاہئے، دو طرفہ رابطہ رکھے، اور عوام کی امیدوں اور امنگوں پر حساسیت کا مظاہرہ کرے۔ پروپگنڈہ کرنے والے تمام لوگ ریڈیو، ٹی وی، انٹرنٹ، اور اخبارات کے ذریعے ماحول پر چھانے کوشاں ہیں، لیکن اِس ملک کے بڑے مسائل کا کیا حال ہے؟
ہمیں گزشتہ تین سال میں بدترین معاشی رپورٹ حاصل ہوئی ہے، جی ڈی پی کا بُرا حال ہے، برآمدات گھٹ رہی ہیں، نوکریاں ختم ہورہی ہیں، زرعی بدحالی پائی جاتی ہے۔ اور گزشتہ ہفتے سارے بحث مباحثے یکایک آر بی آئی رپورٹ (برائے نوٹ بندی) سے کابینی ردوبدل کی طرف منتقل ہوگئے۔ اس کی اہمیت ہے، لیکن اس میں تین دن کا اچھا وقت صَرف کردیا گیا اور آئی ٹی، میوفیکچرنگ، اکسپورٹ شعبوں میں جاب کٹوتیوں کا حقیقی مسئلہ پس پشت ڈال دیا گیا۔ نوٹ بندی کس قدر کامیاب ہوئی؟ اب تو آر بی آئی تک اسے ناقص پالیسی بتارہا ہے۔ کسی کو تو حکومت سے سوالات پوچھنے کے قابل ہونا پڑے گا۔ لیکن ماحول اس طرح کا ہے کہ سوالات پوچھنے والوں پر دھاوے کئے جارہے ہیں۔ نئی پالیسی اختیار کرلی گئی ہے: بدنام کرو، الزام لگاؤ اور برباد کرو۔
وزیراعظم نریندر مودی جب کبھی اپنی حکومت کی کچھ ناکامی ہوئی تو ڈگر بدلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ لیکن آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ مسٹر مودی 24×7 دستیاب وزیراعظم ہیں۔ اس طرح کی حرکیاتی توانائی اپوزیشن میں دکھائی نہیں دیتی ہے۔ کیا راہول گاندھی کو مسٹر مودی کے مقابل مؤثر متبادل سمجھ سکتے ہیں؟
m یہ بات درست ہے کہ ہم تمام کو چاہے کانگریس میں ہو کہ اپوزیشن میں دیکھیں، پہلے سے کہیں زیادہ فیصلہ کن انداز میں اور سرعت کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ابھی تک تو مشکل سفر گزرا ہے اور مختلف پس منظر والے لوگوں کی پارٹیاں یکجا ہوں تو ایسا ہوتا ہے۔ اور ہاں، بی جے پی گندا کھیل بھی کھیلتی ہے لیکن دیکھئے کہ بہار میں انھوں نے کیا کیا ہے۔جب اپوزیشن کو اس طرح توڑیں تو بلاشبہ اتحاد کو نقصان ہوتا ہے۔ سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے طور پر کانگریس پر لازم ہے کہ اپوزیشن قائدین کی بھروسہ مند ٹیم بنائے اور پھر چیلنج پیش کیا جائے، اور یہی کچھ ہم کرنے جارہے ہیں۔
آپ نے ہنوز جواب نہیں کہ آیا مسٹر گاندھی کو مسٹر مودی کے مقابل مؤثر متبادل سمجھ سکتے ہیں؟
m یہ تقابل ہمیشہ ہوتا رہتا ہے اور ایسا کرنا ٹھیک ہی ہے۔ لیکن کانگریس نظریات کا مجموعہ ہے اور انتخابات میں ایک واضح مقصد کے ساتھ حصہ لینے جارہے ہیں کہ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کیا جائے۔ میڈیا تقابل کرسکتا ہے، لیکن ہم پارٹی کی حیثیت سے چناؤ لڑرہے ہیں۔ مسٹر گاندھی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ بطور نائب صدر اور مسز گاندھی بطور صدر ، کانگریس کے پس منظر، اخلاص کے عکاس ہیں اور یہ کہ پارٹی کس طرح بی جے پی کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ ہم یہ کام مؤثر طور پر کریں گے۔
ہر اپوزیشن پارٹی نے سمجھ لیا ہے کہ بی جے پی کو چیلنج کرنے کیلئے طاقتور، متحد، کارکرد اپوزیشن درکار ہے۔ اندرون این ڈی اے، جے ڈی (یو) کا شمولیت کے بعد کیا حشر ہوا؟ انھیں کابینی توسیع سے باہر رکھا گیا۔ شیوسینا خوش نہیں ہے، یعنی این ڈی اے میں سب کچھ خوش و خرم نہیں ہیں۔ ہم 2019ء میں طاقتور چیلنج یقینی بنائیں گے۔
جب کبھی کانگریس کرپشن کا مسئلہ اٹھائے، بی جے پی موضوع کو اپنے فرقہ پرستانہ ایجنڈا سے بدل دیتی ہے۔ بی جے پی باتوں کو بدلنے میں بہت مشاق ہے۔ کیوں کانگریس ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہے؟
m مسائل کسی معاملہ کی تشریح کرتے ہیں، سیاسی جماعتوں کی نہیں۔ عوام ہوسکتا ہے ان باتوں کو کھلے طور پر اِظہار نہ کریں، لیکن میں آپ سے کہہ سکتا ہوں کہ حقیقت ِ حال دیکھیں تو دلتوں، کسانوں خودکشی کے واقعات میں کمی نہ آنے، گیس کی قیمتیں بڑھنے، چھوٹے کرانہ شاپس پر جی ایس ٹی کے اثرات سے بڑی ناراضگی ہے۔ کسی حد تک فریب ِ نظر تو دور ہوچکا ہے۔
کیا آپ کا مطلب ہے کہ یہ معاشی گراوٹ فیصلہ کن موڑ ہوسکتی ہے؟
m یقینا۔
یہ عنصر نوٹ بندی کے بعد یو پی میں بی جے پی کے خلاف کام کیوں نہیں کیا؟
m یو پی میں الیکشن جلد ہوگیا۔ اور دوسرے، مسٹر مودی نے نوٹ بندی کو امیر بمقابلہ غریب ایجنڈے کے طور پر پیش کیا تھا جو حقیقت نہیں ہے۔ بیان کردہ مقصد نکسل ازم، دہشت گردی، کالادھن سے نمٹنا رہا لیکن یہ تمام بالائے طاق رکھ دیئے گئے۔ عوام حقیقی ایجنڈا سمجھ گئے ہیں۔ اگر آپ حقیقی کارگزاریوں جیسے اسٹارٹپ انڈیا ، اسٹانڈپ انڈیا، ڈیجیٹل انڈیا وغیرہ کے خاکے پر نظر ڈالیں تو تمام نعروں میں اب 2022ء ہے، 2019ء نہیں۔
آپ دوسری نسل کے نمائندہ سیاستدان ہو اور بی جے پی نے ہمیشہ کانگریس میں وراثتی سیاست کے تعلق سے اعتراض ہے۔
m مجھے اس کو رد کرنے کی ضرورت نہیں۔ راجستھان کی چیف منسٹر کی مثال لیجئے: اُن کی ماں نمایاں بی جے پی لیڈر تھیں، اُن کی بہن مدھیہ پردیش میں بی جے پی حکومت کی وزیر ہیں۔ بی جے پی وراثتی سیاست کی بات کرتی ہے لیکن چیف منسٹر چھتیس گڑھ رمن سنگھ کا بیٹا ایم پی ہے۔ یہ معاملہ تو سابق چیف منسٹر ہماچل پردیش کے ساتھ بھی ایسا ہی تھا۔ میں اسی طرح کئی مثالیں دے سکتا ہوں۔

TOPPOPULARRECENT