Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / پہلے گجرات ‘ اب مدھیہ پردیش مسلمانوںکو خوفزدہ کرنے کی کوشش ؟

پہلے گجرات ‘ اب مدھیہ پردیش مسلمانوںکو خوفزدہ کرنے کی کوشش ؟

خلیل قادری
مدھیہ پردیش میں سیمی سے تعلق رکھنے والے 8 زیر دریافت افراد کو ایک انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا گیا ۔ یہ انکاؤنٹر بجائے خود مشکوک ہوگیا ہے ۔ جس طرح کے ویڈیو فوٹیج اور پھر بات چیت کے کلپ منظر عام پر آئے ہیں ان سے اس انکاؤنٹر کی حقیقت پر کئی سوال پیدا ہوگئے ہیں اور مرکزی حکومت اور مدھیہ پردیش حکومت کی بی جے پی حکومت کو ان سوالوں کا جواب دینا چاہئے ۔ یہ ان کی دستوری اور قانونی ذمہ داری ہے ۔ وہ ملک اور ریاست کے عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنے کے پابند ہیں اور ان کی نگرانی میں آٹھ افراد کو اس طرح انکاؤنٹر کے نام پر ہلاک کردیا جانا ایسا عمل ہے جس کا جواب دیا جانا چاہئے ۔ اس انکاؤنٹر کے تعلق سے جو پہلو سامنے آ رہے ہیں ان پر بہت کچھ کہا اور کیا جا رہا ہے ۔ ملک کے مختلف گوشوں میں اس تعلق سے احتجاج بھی ہو رہا ہے ۔ لوگ اس کے خلاف حکومتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے ۔ آخری اطلاعات ملنے تک چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان نے عدالتی تحقیقات کا اعلان بھی کردیا ہے ۔ یہ تحقیقات ہائیکورٹ کے ایک سبکدوش جج کے ذریعہ کروانے کا اعلان ہوا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت سپریم کورٹ کے کسی برسر خدمت جج کے ذریعہ اس کی تحقیقات کرواتی اور یہ پتہ چلانے کی کوشش کی جاتی کہ آیا یہ انکاؤنٹر ہی ہے ؟ یا پھر بیدردی اور منصوبہ بندی سے کیا گیا قتل ہے ؟ ۔ جو تفصیلات اس واقعہ کے تعلق سے سامنے آ رہی ہیںاس سے تو یہی شبہات تقویت پاتے ہیں کہ ان نوجوانوں کو بھی عدالت سے بری ہونے کے اندیشوں کو دیکھتے ہوئے قتل کردیا گیا ہے ۔ یہ ایسا عمل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس واقعہ پر خود قومی میڈیا میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ صرف مسلمان نہیں ہیں جو اس واقعہ کو انکاؤنٹر کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں بلکہ قومی میڈیا کے وہ حلقے بھی اس کو انکاؤنٹر تسلیم نہیں کر رہے ہیں جو اکثر و بیشتر مسلم نوجوانوں اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے میں شہرت رکھتے ہیں۔ وہ ٹی وی اینکرس بھی اس پر شبہات ظاہر کر رہے ہیں جن کے تعلق سے سارے ملک کو پتہ ہے کہ وہ کس مکتب فکر سے متاثر ہیں اور اپنے فرائض کو بھی اسی انداز میں ڈھال کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کروانے سے چیف منسٹر مدھیہ پردیش نے اتفاق کیا ہے اور ایک ریٹائرڈ ہائیکورٹ جج کو اس کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ اب یہ تحقیقات کس طرح کی ہونی چاہئیں اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ نہ صرف یہ پتہ چلایا جانا چاہئے کہ واقعتا یہ انکاؤنٹر ہے یا قتل ہے بلکہ یہ بھی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ جیل کے گارڈ کو کس نے قتل کیا اور پھر ان آٹھ نوجوانوں کو گولی ماردینے کا حکم کس نے دیا جبکہ جو ویڈیو سامنے آئے ہیں ان میں دکھایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ خود سپردگی اختیار کرنے کا ارادہ ظاہر کر رہے تھے اور ان کے ہاتھ اوپر اٹھے ہوئے تھے ۔ یہ ادعا انتہائی مضحکہ خیز دکھائی دیتا ہے کہ ان نوجوانوں کے پاس چمچے اور برتن کے بنے ہوئے ہتھیار تھے ۔ شائد ہی کوئی صحیح العقل فرد اس بات کو تسلیم کریگا ۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ان کے پاس کوئی ہلاکت خیز یا آتشیں ہتھیار نہیں تھے اور اگر واقعی یہ فرار ہوئے نوجوان تھے تو مدھیہ پردیش کی پولیس انہیں بآسانی گرفتار بھی کرسکتی تھی ۔
انکاؤنٹر کے نام پر ایسی کارروائیاں ہندوستان میں اکثر و بیشتر ہوتی رہی ہیں۔ ان کی تاریخ کوئی نئی نہیں ہے ۔ اس میں نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی نشانہ بنے ہیں لیکن یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ ایسے واقعات میں جتنے مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے اتنے اعدادو شمار کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے نہیں ہیں۔ اب جو واقعہ مدھیہ پردیش میں پیش آیا ہے اس کا ایک پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکومتیں در اصل ملک کے مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہی ہیں ؟ ۔ جس وقت سے نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے مرکز میں اقتدار سنبھالا ہے اس وقت سے مسلمانوں کے خلاف مختلف گوشوں سے زہر افشانی کی جا رہی ہے ۔ کوئی انہیں ہندوستان سے چلے جانے کی بات کر رہا ہے کوئی پاکستان جانے کا مشورہ دے رہا ہے کوئی مسلمانوں کے گوشت کھانے پر اعتراض کر رہا ہے تو کوئی لو جہاد کے نام پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہا ہے ۔ کوئی گھر واپسی کے نام پر مسلمانوں کی صفوں میں بے چینی پیدا کر رہا ہے تو کوئی ملک کو مسلمانوں سے پاک بنانے کی بات کر رہا ہے ۔ یہ سب کچھ مودی کے اقتدار میں بہت شدت کے ساتھ ہو رہا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ فرقہ پرستوں کے عزائم اب واضح طور پر آشکار ہونے لگے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو خود امریکہ کے مختلف اداروں کے سروے میں بھی کہی گئی ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ مودی کے راج میں فرقہ پرستی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ملک کی ترقی اتنی نہیں ہو پا رہی ہے جتنی توقع کی جا رہی تھی ۔ اب جبکہ اترپردیش ‘ گجرات ‘ پنجاب وغیرہ میں انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے منظم انداز میں مسلمانوں میں خوف پیدا کرنے کی کوششیں اور بھی تیز ہوگئی ہیں۔ خود حکومت ایسے مسائل کو چھیڑ رہی ہے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے ۔ تین طلاق کے نام پر شریعت میں مداخلت کی کوشش کی جا رہی ہے تو یکساں سیول کوڈ کے تعلق سے لا کمیشن رائے عامہ حاصل کرنے لگا ہے ۔ اس کا مقصد بھی مسلمانوں میں بے چینی اور احساس کمتری پیدا کرنا ہی ہوسکتا ہے ۔ مودی حکومت کی یہ کوشش دستوری فرائض کے مغائر ہے ۔ محض سیاسی فائدہ حاصل کرنے اور پھر اتر پردیش میں اگر کامیابی مل جائے تو مابقی ایجنڈہ کو پایہ تکمیل تک پہونچانے کیلئے سب کچھ کیا جا رہا ہے ۔ حکومت کو یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ اگر مسلمان اتر پردیش میں سیاسی شعور کا مظاہرہ کریںاور جذباتی نعروں کا شکار ہوئے بغیر سیاسی سوجھ بوجھ اور شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کرینگے تو بی جے پی کا یہاں اقتدار حاصل کرنے کا خواب چکنا چور ہوجائیگا ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت مسلمانوں کی صفوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑانا چاہتی ہے ۔ اس کی یہ کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ اس ملک میں مسلمان کسی کا تابعدار نہیں ہوسکتا ۔ مسلمان بھی اس ملک میں برابر کا شہری ہے اور اسے خوفزدہ کرنے کے عزائم پورے نہیں ہوسکتے ۔
تین طلاق اور یکساں سیول کوڈ جیسے مسائل پر حکومت نے مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد کی ایک لہر دیکھی تو اسے اپنے عزائم کے بکھرنے کے اندیشے اور بھی شدت سے لاحق ہوگئے ۔ جب اس نے دیکھا کہ شریعت میں مداخلت کی کوششوں کو روکنے کیلئے مسلمانوں کے تمام مسالک کے ماننے والے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو رہے ہیں تو حکومت کو یہ ضرور محسوس ہوا کہ مسلمانوں کا یہ اتحاد اس کے عزائم کی تکمیل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے تو اس نے مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کا عمل شروع کردیا ہے ۔ سیمی سے تعلق رکھنے والے ان نوجوانوں کو ایسے وقت میں موت کے گھاٹ اتارا گیا جبکہ یہ امیدیں بندھ رہی تھیں کہ ان کا مقدمہ جلد فیصلے کے مرحلے تک پہونچ جائیگا اور آثار و قرائن سے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ نوجوان عدالت سے براء ت پالیں گے ۔ بالفرض محال اگر یہ نوجوان عدالتوں سے سزا پاتے تب بھی پولیس کو یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتی ۔ جو حکم عدالت دیتی اس پر عمل کیا جاتا ۔ عدالتوں میں زیر تصفیہ ملزمین کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ ناقابل قبول ہے ۔ یہ غیر قانونی ہے ۔ ایک سال قبل ہی تلنگانہ میں ایسا واقعہ پیش آیا تھا جہاں پانچ نوجوانوں کو انکاؤنٹر کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جبکہ بعد میں عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں الزامات منسوبہ سے بری کردیا ۔ یہی صورتحال سیمی کے آٹھ متوفی نوجوانوں کے تعلق سے بھی تھی اور انہیں بھی عدالت کے فیصلے سے قبل ہی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ ایک اور پہلو یہ ہے کہ میڈیا میں اور خود حکومت کے حلقوں میں ان نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے ۔ یہ بھی غیر قانونی عمل ہے کیونکہ ان نوجوانوں کو عدالت نے ابھی تک مجرم قرار نہیں دیا تھا ۔ یہ حقیقت ہے کہ ان کے خلاف الزامات تھے لیکن ابھی یہ الزامات ثابت نہیں ہوئے تھے ۔ جب تک کسی پر الزام ثابت نہیں ہوجاتا اسے مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ ان نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دینا بھی مسلمانوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کا ہی ایک حصہ ہوسکتا ہے ۔ حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرلینا چاہئے کہ ایسی بزدلانہ حرکتوں سے مسلمانوں کو خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا ۔ مسلمان اس ملک کے پابند قانون اور پابند آئین شہری ہیں ۔ وہ قانون کی پابندی کرتے ہیں اور ساتھ ہی وہ اپنے اور اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے بھی اسی قانون اور دستور کے دائرہ میں جدوجہد سے گریز نہیں کرینگے ۔

TOPPOPULARRECENT