Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / پیاز کی بڑھتی قیمت عوام پریشان ، حکومت انجان

پیاز کی بڑھتی قیمت عوام پریشان ، حکومت انجان

پرمود بھارگوا
پیاز کے گرم ہوتے مزاج نے حکومت اور عوام کو ایک بار پھر سے پیاز کے آنسو رُلانا شروع کردیا ہے ۔ ملک کے کئی حصوں میں دو ہفتہ قبل تک 20 روپے فی کیلو کے اردگرد رہی پیاز کی قیمتیں یکایک اچھل کر 70 سے 80 روپے فی کیلو ہوگئی ہیں ۔ ان بڑھتی قیمتوں کو لے کر عوام نے مرکزی حکومت کو کوسنا شروع کردیا ہے ۔ فی الحال قیمتیں کم ہونے کی امید بھی نہیں ہے ۔ ناسک کے قومی ادارہ برائے ریسرچ و فروغ زرعی پیداوار نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پیاز کی قیمت میں ستمبر کے اواخر تک کمی آنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے ہیں ۔ دوسری طرف محکمہ موسمیات کے ذریعہ مانسون کی دی جارہی بالکل صحیح اطلاعات بھی فصل و سبزیوں کی قیمتیں بڑھانے کا سبب بن رہی ہیں ۔ محکمہ موسمیات نے اوسط سے کم بارش ہونے کی پیش قیاسی کی تھی اس کی وجہ سے پیاز کے کاروباریوں نے بڑی تعداد میں پیاز کا بھنڈار گوداموں میں جمع کرلیا ۔ اب وہ قیمت بڑھا کر موٹا منافع کمانے میں مصروف ہوگئے ہیں ۔ ان جمع خوروں کے گوداموں میں ہاتھ ڈالنے کی مرکزی اور ریاستی حکومتیں ووٹ کی سیاست کے باعث ہمت نہیں جٹاپارہی ہیں  ۔گویا قیمتوں پر لگام لگانا مشکل ہی ہے ۔ ناسک کے قومی ادارہ برائے ریسرچ و فروغ زرعی پیداوار نے کہا ہے کہ اس سال جولائی میں 40 لاکھ ٹن پیاز کا ذخیرہ کیا گیا تھا جس میں 50 فیصد ختم بھی ہوچکا ہے ۔ تقریباً 20 لاکھ ٹن پیاز باقی بچی ہوئی ہے  ۔
دلی میں پیاز 80 روپے فی کیلو فروخت ہورہی ہے جبکہ ایک ماہ قبل 20 روپے کیلو تھا ۔ چنڈی گڑھ اور شملہ کے علاقوں میں یہی پیاز 70 روپے سے 80 روپے کیلو تک ہے ۔ کئی ڈھابوں میں گراہکوں کو مفت میں ملنے والی سلاد میں پیاز پروسا جانا بند کردیا گیا ہے یا پیاز والے سلاد کی اضافی قیمت 30 روپے وصول کی جانے لگی ہے ۔ اب تشویش بھی ظاہر کی جارہی ہے کہ آنے والے دو ماہ ستمبر اور اکتوبر بڑے تہواروں کے مہینے ہیں تو پیاز کی قیمت میں اچھال 100 روپے فی کیلو تک پہنچ سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹرا کے لاسل گاؤں میں ملک کی جو سب سے بڑی پیاز کی منڈی ہے وہاں کی پیاز کی تھوک قیمت میں پچھلے مہینے کے مقابلہ میں 65 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے  ۔ دلی میں یہ قیمت 52 فیصد بڑھی ہے ۔ ظاہر ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے لئے پیاز کی بڑھتی قیمتیں ایک چیلنج بن کر ابھری ہے ۔ مرکزی حکومت کے لئے یہ خطرہ اس لئے بھی زیادہ ہے کہ جن ستمبر ۔ اکتوبر ماہ میں پیاز کی قیمتیں اچھل کر 100 روپے فی کیلو تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے ، انہی دنوں بہار اسمبلی حلقوں کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ گویا نتیش ، لالو اور راہول کا عظیم اتحاد اگر مہنگے ہوتے پیاز کو انتخابی ایشو بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو مودی حکومت کو پیاز کے آنسو رونا بھی پڑسکتا ہے ۔ ویسے بھی پیاز کسان مزدور کی روٹی میں سبزی کا کام کرتی ہے اور بہار میں اس طبقے کے رائے دہندگان کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ پہلے بھی مہنگی ہوتی پیاز حکومتوں کو گرانے اور ہرانے کا کام بااثر انداز سے کرچکی ہے  ۔اس لئے بہار میں پیاز کا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔ اب یہ الگ بات ہے کہ پیاز کے آنسو رونا کس سیاسی جماعت یا کس اتحادی سیاسی جماعت کو پڑے گا ۔ حالانکہ ہمارے ملک میں پیاز کی پیداوار بڑے پیمانے پر ہوتی ہے ۔ لیکن اس کا بڑی مقدار میں برآمدات اور ملک میں جمع خوری بحران بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ گزشتہ سال ملک میں ایک کروڑ 87 لاکھ ٹن پیاز کی پیداوار ہوئی تھی ۔ مہاراشٹرا اور کرناٹک ملک کے بڑی پیاز پیدا کرنے والی ریاستیں ہیں۔ تیسرے نمبر پر مدھیہ پردیش ہے ۔ پیاز کی فصل سال میں تین بار بوئی اور کاٹی جاتی ہے ۔ اس وجہ سے اس کی آمد بہرحال بنی رہتی ہے ۔ پچھلے سال مہاراشٹرا اور کرناٹک میں کم بارش کے باعث پیاز کی پیداوار کم ہوئی ۔ وہیں دوسری طرف وسطی اور شمالی ہند میں اولے پڑنے اور موسم کی خرابی کے باعث پیاز کی فصل متاثر ہوئی ۔ اس وجہ سے پیاز کی پیداوار تھوڑی کم ہوئی ۔

اب مہاراشٹرا اور کرناٹک میں اس سال پھر سے کم بارش ہوئی ہے ۔ اس لئے زیادہ پیاز پیدا ہونے کی امید کم ہوگئی ہے ۔ اسی وجہ سے پیاز کی قیمت کم ہونے کی امید پر بریک لگ گئی ہے ۔ دراصل ہم پیاز کھانے میں سرفہرست ہیں ۔ اس لئے پیاز کی کھپت بھی سب سے زیادہ ہمارے ملک میں ہوتی ہے ۔ لہذا پیاز کی پیداوار اور برآمدات کا معاملہ جو بھی ہو ، عوام کو سستی پیاز نہیں ملتی ہے تو وہ واقعی پریشان ہوں گے اور فطری طور پر اس کا خمیازہ برسراقتدار حکومت کو ہی بھگتنا پڑے گا ۔ اس لئے موجودہ وقت میں دلی کی اروند کیجریوال کی قیادت والی حکومت نے سبسیڈی دے کر پیاز کی قیمت معمول پر لانے کے لئے پوری کوشش کی ہے ۔ ہندوستان ایک بہت بڑا زراعتی ملک ہے اور ملک کی 70 فیصد آبادی آج بھی زراعت اور زراعت سے متعلق کاموں سے روزی روٹی کا انتظام کرتی ہے زیادہ تر سرکاری تدابیر اور پالیسیوں کے باوجود جنہیں زراعت اور کسان کے لئے فلاحی بتا کر زمین پر اتارا جاتا ہے ۔ آخر کار وہ صنعتی اور صنعت کاروں کے ہی مفاد میں ثابت ہوتے ہیں ۔ اس لئے 40 فیصد کسانوں کو متبادل روزگار مل جائے تو کھیتی کرنی چھوڑ کر وہ اس کاروبار میں لگ جائیں گے ۔ محکمہ موسمیات نے جیسے ہی مانسون کے معمول پر رہنے کی پیش قیاسی کی ، ویسے ہی جمع خوروں کے کان کھڑے ہوگئے اور انھوں نے بڑے پیمانے پر گوداموں میں پیاز کی جمع آوری کرلی ۔ یہ وہی گودام ہیں جن کی تعمیر میں 50 فیصد سبسڈی دے کر فصل سیکورٹی کا دعوی کیا جاتا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں فصلیں سڑنے سے بچانے کی بجائے قیمتیں بڑھانے کے لئے جمع کی جارہی ہیں ۔ اگر واقعی فصل کی سیکورٹی کا ہدف گودام مالکوں اور ریاستی حکومت کا رہا ہوتا تو ملک کے کسانوں کو آلو مفت میں نہ بانٹنے پڑتے اور ٹماٹر سڑکوں پر پھینکنے نہیں پڑتے ۔
ان دنوں فصلوں کی قیمت جب پیداوار کی لاگت سے نیچے چلی جاتی ہے تو لاچار کسان یہی کرتا ہے ۔ اب ایسے میں حکومت کے پاس مشکل یہ ہے کہ وہ قیمت کنٹرول کے لئے پیاز درآمد کرے یا گوداموں پر چھاپے ڈال کر جمع کردہ پیاز باہر نکلوائے؟
درآمدات کی ایک طویل جد وجہد ہوتی ہے یعنی اس عمل کو انجام دینے میں کافی وقت لگتا ہے اور کئی طرح کی تدابیر اپنائی جاتی ہے ۔ اس کی شروعات ہوتی بھی ہے تو پیاز ملک  میں آنے میں وقت لگے گا ۔ اندرا گاندھی کے دور اقتدار میں جمع خوروں کے خلاف مہم چلا کر اشیاء پر قیمت کنٹرول کرکے متوسط اور نچلا طبقہ آمدنی سے جڑے لوگوں کے حق کی بات کی جاتی تھی لیکن اب مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں تاجرین کے حق مارنے سے کتراتی ہیں لہذا جمع خوری اور قیمتیں بڑھتے رہنے کا چلن بے لگام گھوڑے کی طرح دوڑ رہا ہے ۔ پیاز کی بڑھتی قیمت اسی جمع خوری کا نتیجہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT