Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / پیاز کی قیمتوں پر عدم کنٹرول سے صارفین پریشان حال

پیاز کی قیمتوں پر عدم کنٹرول سے صارفین پریشان حال

70 روپئے فی کیلو فروختگی ، آئندہ ماہ بیرون ممالک سے درآمدات ممکن
حیدرآباد ۔ 14 ستمبر ۔ ( سیاست نیوز ) پیاز کی بڑھتی قیمتوں پر کنٹرول کیلئے کسی قسم کے اقدامات نہ کئے جانے کے سبب عوام میں شدید بے چینی و برہمی پائی جاتی ہے ۔ پیاز شہر حیدرآباد کے علاوہ اطراف کے علاقوں میں آج بھی 70 روپئے فی کیلو فروخت کی جارہی ہے اور عوام بحالت مجبوری پیاز اس قیمت پر خرید رہے ہیں جبکہ دیگر ریاستوں میں پیاز کی قیمت میں کمی واقع ہونے لگی ہے لیکن اس کے اثرات ریاست آندھراپردیش و تلنگانہ پر نظر نہیں آرہے ہیں چونکہ دونوں ریاستوں میں پڑوسی ریاستوں سے پیاز کی درآمدات کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے ۔ مرکزی حکومت کے ذرائع کے بموجب آئندہ ماہ کے ابتدائی ایام میں 1000 میٹرک ٹن پیاز کے درآمدات کو یقینی بنایا جارہا ہے جبکہ ماہ اکٹوبر کے دوسرے اور تیسرے ہفتہ میں مزید 1000 میٹرک ٹن پیاز کی درآمدات یقینی بنائی جائیں گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت نے پیاز کے علاوہ دالوں کی قیمتوں میں کمی واقع کرنے کیلئے متعدد اقدامات کا آغاز کیا ہے جس میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول کیلئے فوری طورپر توجہ مرکوز کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے ۔ ذرائع کے بموجب 2500 میٹرک ٹن تور کی دال بذریعہ چینائی پورٹ منگوانے کے تمام تر اقدامات مکمل کرلئے گئے ہیں اور جاریہ ماہ کے اواخر میں یہ تور کی دال ہندوستان پہونچ جائے گی ۔ اسی طرح مزید 5000 میٹرک ٹن تور کی دال دو علحدہ علحدہ بندرگاہوں کے ذریعہ 20 اکٹوبر تک ہندوستان پہونچے گی ۔ 5000 میٹرک ٹن اُرد کی دال میانمار سے چینائی بندرگاہ پہونچے گی جو کہ 20 اکٹوبر تک پہونچنے کی توقع ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں پیاز کی قیمتوں میں کسی قسم کی کمی واقع نہ ہونے کے سبب عوام میں جو بے چینی پائی جارہی ہے اُسے دور کرنے کیلئے سرکاری سطح پر عوامی نظام تقسیم کے ذریعہ پیاز کی فروخت کے متعلق غور کیا جارہا ہے تاکہ عوام کو مناسب قیمتوں میں پیاز کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے ۔ شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ رنگاریڈی کے علاقوں میں بھی معیاری پیاز 70 روپئے کیلو سے کم قیمت پر فروخت نہیں ہورہی ہے جبکہ غیرمعیاری پیاز کی قیمتیں 50 تا 65 روپئے کے درمیان ہیں۔ اسی طرح غذائی اجناس کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوتا جارہاہے لیکن اس پر کنٹرول کرنے کیلئے کوئی میکانزم نہ ہونے کے باعث عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ فوری طورپر غذائی اجناس کی قیمتوں پر کنٹرول کیلئے اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے محکمہ سیول سپلائیز و ضلع انتظامیہ کو متحرک کرے تاکہ کالا بازاری کے ذریعہ جو مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اُسے روکا جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT