Friday , September 21 2018
Home / اداریہ / پیراڈائز پیپرس انکشافات

پیراڈائز پیپرس انکشافات

کس لئے پھر بے وفائی میں کمی ہونے لگی
آج کیا میری وفا کو آزمایا جائے گا
پیراڈائز پیپرس انکشافات
پناما پیپرس افشاء کے تقریباً 18 ماہ بعد ایک اور بڑے پیمانہ پر ٹیکس چوری کے واقعات اور خفیہ مالیاتی ڈاٹا کو انٹرنیشنل کنزوریٹم آف انوسٹی گیشن جرنلسٹس (icij) نے انکشافات کئے ہیں جن میں عالمی سطح سے لیکر ہندوستان کے بڑے بڑے سیاسی، سماجی اور فلمی دنیا سے وابستہ افراد کے نام شامل بتائے جارہے ہیں۔ اس مالیاتی ڈاٹا میں بتایا گیا ہیکہ کس طرح بڑے کارپوریٹس اور امیر لوگوں نے اپنی دولت کو ٹیکس سے بچا کر سرمایہ کاری کی ہے۔ ان ٹیکس دھاندلیوں کا انکشاف کرنے والے کو پیراڈائیز پیپرس کا نام دیا گیا ہے جو آف شاور فینانس میں دو سرکردہ فرمس سے حاصل ہونے والے 13.4 ملین دستاویزات پر مشتمل ہے۔ پناما پیپرس انکشاف کے بعد پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو حکومت سے بیدخل کردیا گیا تھا اور اب ہندوستان میں پیراڈائز پیپرس میں شامل سیاستدانوں اور بڑے شخصیتوں کے بارے میں کیا اقدامات ہوں گے اس پر عوام کی توجہ مرکوز ہے۔ اس ٹیکس چوری میں جن ہندوستانی ناموں کو ظاہر کیا گیا ہے ان میں بی جے پی کے جنیت سنہا کے علاوہ پارٹی کے ایک اور رکن پارلیمنٹ روندر کشور سنہا کا بھی نام ظاہر کیا گیا ہے۔ سابق صحافی روندر کشور سنہا نے خانگی سیکوریٹی سرویس ایس آئی ایس اور ایک انٹلیجنس سرویس قائم کی۔ اس گروپ کی دو غیرملکی کمپنیاں ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ دیگر سیاستدانوں میں اشوک گہلوٹ، سچن پائلیٹ ویلار روی ، وائی ایس جگن موہن ریڈی، وجئے مالیا، ویرپا موئیلی اور ان کے فرزند کا نام شامل ہے۔ بالی ووڈ اداکاروں میں امیتابھ بچن اور سنجے دت کی بیوی دلنشین عرف مانیتا کا نام ظاہر کیا گیا ہے جنہوں نے برمودا نامی کمیٹی میں سرمایہ کاری کی ہے۔ دہلی کے جی ایم آر گروپ نے بھی انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو دھوکہ دیا ہے۔ اس فہرست میں ہندوستان کی جن بڑی کمپنیوں کے نام آئے ہیں، ان کے خلاف کیا کارروائی ہوگی اس پر ابھی تک محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے واضح اقدامات سامنے نہیں آئے ہیں۔ ہندوستان سے ہٹ کر عالمی سطح کی بڑی شخصیتوں میں برطانیہ کی ملکہ کی جانب سے ایک کروڑ برطانوی پاونڈ کی بیرونی ملک سرمایہ کاری کیلئے استعمال کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ہندوستان میں صرف عام آدمی کو ہی تمام قوانین کا پابند دیکھا جاتا ہے۔ ماباقی دیگر بڑی شخصیتوں کو ہندوستانی قوانین کی اطاعت کرتے ہوئے ہرگز نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ ایک شرمناک بات ہے کہ ملک کی دولت کے ذریعہ ہی اپنی دولت کو دوگنا کرنے والی شخصیتوں نے ٹیکس چوری کے ذریعہ سرمایہ کو سہ گنا چار گنا کرلیا۔ مرکز کی نریندر مودی زیرقیادت بی جے پی حکومت نے گذشتہ سال نوٹ بندی کا اعلان کرکے ہندوستان سے رشوت ستانی کے خاتمہ کا عہد کیا تھا لیکن تازہ پیراڈیز پیپرس انکشاف کے بعد مودی حکومت کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے۔ آیاسوال یہ اٹھتا ہے کہ رشوت کے خاتمہ اور کالے دھن کو واپس لانے کی باتیں صرف اس ملک کے غریب عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے ہی تھیں؟۔ حکومت نے نوٹ بندی کے ذریعہ عام آدمی کو ہی پریشان کیا۔ یاد کیجئے وہ دن جب غریب آدمی اپنی ہی محنت کی رقم کو بینکوں سے نکالنے دن بھر بینکوں کے باہر قطار میں کھڑا رہا۔ اے ٹی ایمس پر طویل قطاریں دیکھی گئی ہیں۔ عوام نے یہ سب مصیبتیں اس لئے برداشت کی کہ وہ خوش تھے کہ ان کی حکومت اپنے وعدہ کے مطابق اس ملک سے بدعنوانیوں کا خاتمہ کرے گی اور ان کے لئے راحت فراہم کرے گی لیکن نوٹ بندی کی مصیبت جھیل کر بھی غریب آدمی کو کوئی راحت و سہولت حاصل نہیں ہوئی۔ نوٹ بندی کے تعلق سے حکومت کے فیصلہ کو ملک کے مفاد میں بہتر ہونے کی امید کے ساتھ عوام نے مودی حکومت پر بھروسہ کیا مگر آج جن ٹیکس چوروں کے نام ظاہر ہورہے ہیں اس سے صاف ہوجاتا ہیکہ یہ حکومت صرف ٹیکس چوروں کو بچانے کیلئے یہ غریبوں پر پابندیوں کی ضرب لگا رہی ہے۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ وہ اس ملک سے رشوت کا خاتمہ کریں گے اور اپنے وعدہ کو پورا کرتے دکھانے کیلئے کچھ اقدامات بھی کئے مگر افسوس کہ سسٹم نے بڑے شارکوں کو چھوڑ کر صرف غریبوں کا ہی تعاقب کیا۔ سیاستداں، بڑے کارپوریٹس گھرانے، فلمی شخصیتیں سب محفوظ رہے اور ٹیکس چوری کے ذریعہ اپنا سرمایہ بیرون ملک کمپنیوں میں لگادیا۔ کرپشن کے اس سانحہ سے عوام کو محفوظ رکھنے کے بجائے ان کو دن بہ دن کئی نئے سانحات سے دوچار کیا جارہا ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT