Thursday , November 23 2017
Home / مضامین / پیرس دھماکے نہ تہذیبی تصادم نہ عقیدہ کی لڑائی

پیرس دھماکے نہ تہذیبی تصادم نہ عقیدہ کی لڑائی

غضنفر علی خان
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہوئے حملہ نے ساری دنیا میں الجھن پیدا کردی ہے ۔ تقریباً تمام یوروپی ممالک ان دھماکوں کے لئے شام کے حکمران طاقت آئی ایس آئی ایس (داعش) کے اس حملہ میں ملوث ہونے کا دعوی کررہے ہیں ۔ اس دعوی کو تقویت اس لئے بھی ملی ہے کہ خود آئی ایس آئی ایس نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ یہ حملے ایسے موقع پر کئے گئے جبکہ فرانس میں تفریحی پروگرام ہورہا تھا اور اس کنسرٹ میں ہزاروں افراد شریک تھے ۔ حملوں میں خودکش بمبار 8 افراد نے دھماکے کئے اور خود کار بندوقین چلائیں ، جملہ 129 بے گناہ اور معصوم شہری ہلاک ہوگئے ۔ آئی ایس آئی ایس کی اس حرکت سے کیا حاصل ہوا ؟ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب اس کے سوا کچھ اور نہیں ۔ معصوم اور بے تعلق افراد کا قتل عام کی کوئی تائید نہیں کرسکتا ۔ خواہ انکا عقیدہ کچھ بھی ہو ۔ انسانوں کو موت کے سوداگروں نے آناً فاناً مار ڈالا ۔ اس قتل عام کی ہر گوشہ سے مذمت ہونی چاہئے اور ہی بھی رہی ہے ۔ ظاہر بات ہے کہ آج کی متمدن دنیا میں انسانوں کی ہلاکت کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ۔ دنیا کے تمام ممالک بشمول ہندوستان نے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جو ان واقعات کی مذمت نہیں کرتا ہے وہ نہ تو انسان کہلانے کا مستحق ہے اور نہ اس کو مسلمان کہا جاسکتا ہے ۔ پیرس کی جامعہ مسجد نے آئمہ  مساجد سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعہ کے خلاف ہونے والے احتجاج میں حصہ لیں ۔ چنانچہ جمعہ کی نماز کے بعد فرانس کی مساجد میں فرانسیسی مسلمانوں نے ایسا کیا ۔

فرانس یوروپ کا وہ ملک ہے جہاں 50 تا 55 لاکھ مسلمان آباد ہیں  ۔انھوں نے اپنی تہذیبی شناخت بھی برقرار رکھی ہے ۔ برسوں سے وہاں آباد ہونے کے باوجود یہ سب اپنے اسلامی عقیدہ پر قائم ہیں ۔ ایک حالیہ واقعہ جو فرانسیسی حکومت کی رواداری کو ظاہر کرتا ہے کہ ایک مال کے چوکیدار کو ملازمت سے علحدہ کردیا گیا چونکہ اس نے حجاب لگائی ہوئی ایک مسلم خاتون کو داخلہ سے روک دیا تھا  ۔ فرانسیسی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس طرح کا سلوک خواہ کسی کے ساتھ ہو برداشت نہیں کرسکتی ۔ اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ فرانس میں بود و باش رکھنے والے مسلمان پرسکون زندگی گذار رہے ہیں ۔ لیکن پیرس دھماکوں کے بعد عام فرانسیسی شہری مسلمان کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھ رہا ہے ۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے ہلاکت خیز دھماکوں نے کیوں فرانسیسی مسلمان کے بارے میں نہیں سوچا ؟ کیوں اس بات کا خیال نہیں رکھا کہ دھماکوں میں ہلاک ہونے والے بے قصور افراد تو ختم ہوگئے لیکن وہاں کے لاکھوں مسلمان اس وجہ سے کتنے ناقابل بیان مشکلات کے شکار ہوگئے ہیں ۔ ان دھماکوں کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ یہ محض دہشت گردی ہے اور دہشت گردی مذہب اسلام میں کوئی جگہ نہیں رکھتی ۔ یہ سراسر خلاف اسلام عمل ہے ۔ آخر 129 شہریوں کو آن واحد میں ہلاک کرکے آئی ایس آئی ایس نے کیا حاصل کیا ؟ کیا ان دھماکوں کی وجہ فرانس پر اس کی دھاک بیٹھ گئی ؟کیا اسلام کا بول بالا ہوگیا ۔ یا یہ واقعہ اسلام کی رسوائی کا موجب بن گیا اور یوروپ کے کئی ممالک اب اس حملہ کے جواب میں ملک شام میں جہاں آئی ایس آئی ایس حکمران ہے جوابی حملے کررہے ہیں جن میں روس بھی شامل ہوگیا ہے ۔ شام کے حالات اتنے نازک ہیں کہ وہاں کے عرب نژاد عوام اپنا وطن چھوڑ کر یوروپی ممالک میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں  جن میں فرانس بھی شامل ہے ۔ امریکہ نے تو شاہی پناہ گزینوں کے لئے اپنے دروازے بند کردئے ہیں ۔

جرمنی میں بھی ان حملوں کے بعد اسلام مخالف عناصر آئی ایس آئی ایس کے تعلق سے سخت رویہ اختیار کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ پیرس پر حملہ نے یوروپی ممالک کو داعش کے خلاف متحدہ کردیا ہے ۔ جو پہلے ہی سے یکا و تنہا ہوگیا تھا ۔ سارے یوروپ میں اسلام رسوا ہوا ۔ جس دین نے نوع انسانی کو رنگ و نسل کی لعنت سے آزاد کردیا تھا اور انسانی مساوات کی اعلی ترین شکل پیش کی تھی وہ دین آئی ایس آئی ایس کے ہاتھوں میں پوری دنیا خاص طور پر براعظم یوروپ میں بدنام ہورہاہے لیکن آئی ایس آئی ایس کو عالمی سطح پر اسملا کا نمائندہ سمجھنا بھی یوروپی اور مغربی ممالک کی سخت غلطی فہمی ہے ۔ یہ مٹھی بھر لوگ عالم اسلام میں کوئی شناخت نہیں رکھتے ہیں ۔ وزیر خارجہ امریکہ کیری نے صحیح کہا ہے کہ یہ لڑائی ’’تہذیبوں کا تصادم نہیں‘‘ کیونکہ شام کا یہ گروہ نہ تو اسلامی تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے اور نہ اسلام کی بنیادی تعلقات سے واقف ہے ۔ یہ محض ایک منفی طاقت ہے جس نے شام اور عراق کے کچھ علاقوں پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے ۔ اس دور میں تہذیبی تصادم یا عقیدہ کی لڑائی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ کیونکہ انسانی تہذیب نئی ترقی کرچکی ہے ، مختلف علاقوں میں اپنا اپنا دائرہ اثر بناچکی ہے ۔ وہ دور ختم ہوچکا ہے جب دنیا میں جنگیں تمدنی غلبہ کے لئے بھی لڑی جاتی تھیں یا جب خون خرابہ عقیدہ کی برتری ثابت کرنے کے لئے ہوا کرتا تھا ۔ اس پس منظر میں پیرس میں ہوئے حملوں کو تہذیبی تصادم یا عقیدہ کی لڑائی کا نام نہیں دیا جاسکتا کیونکہ شام اور عراق میں برسراقتدار گروہ نہ تو تہذیبی اعتبار سے کسی مخصوص اسلامی تمدن کا نقیب ہے اور نہ اسلامی عقیدہ سے اسکا کوئی تعلق ہے ۔ یہ صرف دیوانگی اور مذہبی جنون ہے جس کو ختم کرنے کے لئے آج یوروپ متحد ہے اگر ایسی حرکت داعش نے پھر کی تو ساری دنیا ، عالم اسلام اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوگا ۔ یہ بات داعش یا آئی ایس آئی ایس کو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ کوئی باقاعدہ حکمران طبقہ نہیں ہے اور اپنے جور و ستم سے اگر آج عراق اور شام کے عوام کو باندھے ہوئے ہے تو مستقبل میں یہی ممالک کے عوام اس کے خلاف ہوجائیں گے ۔ ظلم کی عمر کم ہوتی ہے ۔ اس عرصہ میں وہ بہت جلد اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور ظلم کی انتہا ظالم کی موت بن کر نمودار ہوتی ہے ۔ فرانس اور روس نے تو آئی ایس آئی ایس (داعش) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے ۔ ’’مرے پر سو درّے‘‘ والی بات ہے شام کے عوام پہلے ہی سے داعش کی غیر انسانی کارروائی کی وجہ سے پریشان ہیں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہیں اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ پیرس میں کئے گئے بم دھماکوں کے بدلے میں آج انھیں ہر فرانسیسی اور روسی بھاری کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ زمین و آسمان سے ان پر قہر برس رہا ہے ، زمین ان پر تنگ ہوگئی ہے ، اب ان حملوں سے وہ مزید ہلاکت اور تباہی کے شکار ہورہے ہیں ۔ اس کی ذمہ داری آئی ایس آئی ایس پر عائد ہوتی ہے ۔ فرانس کو یہ کہنے کے مواقع بھی ان ہی ظالموں نے دیا کہ وہ جوابی کارروائی کررہا ہے ۔

لیکن مغربی میڈیا کا یہ کہنا غلط ہے کہ مسلم دنیا خاموش ہے ۔ کیونکہ تمام عرب ممالک اور خاص طور پر خلیجی تعاون کونسل نے فرانس کے ساتھ مکمل یگانگت کا ثبوت دیا ہے اور داعش کے خلاف کسی بھی کاروائی میں شریک ہونے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے ۔ سعودی عرب کے حکمران شاہ سلمان نے بھی ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے داعش کے تمام باطل دعوؤں کی نفی کی ہے ۔ عرب لیگ نے بھی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے آئندہ ان کے انسداد کی احتماعی کوشش کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے ۔ یوروپی ممالک اور خاص طور پر امریکہ کو یہ سوچنا ضرور چاہئے کہ کیوں مغڑبی ممالک میں اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں ۔ دہشت گردی کے شکار اور ممالک بھی ہیں ۔ کسی بھی مسئلہ کے ’’اسباب و علل‘‘ یعنی cause & effect کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے ۔ خاص طور پر امریکہ نے لیبیا ء، عراق اور افغانستان جیسے مضبوط مسلم ممالک کو ان پر مسلط کردہ جنگوں کے ذریعہ تباہ و تاراج کردیا ۔ اس کے ردعمل کا پیدا ہونا بھی لازمی تھا ۔ ان ہی لڑائیوں نے بعض ممالک میں جہادی گروپ پیدا کردئے ۔ اس بات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دہشت گردی کو جائز قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے بلکہ صاف مطلب یہ ہے کہ ’’دھواں بغیر آگ کے پیدا نہیں ہوتا‘‘ ۔ امریکہ کی زیادتیوں نے بھی اس صورتحال کو جنم دیا ہے ۔ خاص طور پر افغانستان میں طالبان تو امریکہ ہی کی پیداوار ہیں ۔ 1979 میں افغانستان پر روسی حملہ کے بعد طالبان کو امریکہ ہی نے مسلح کیا اور جب افغانستان کے مخصوص داخلی سیاسی حالات سازگار ہوگئے تو افغانستان پر امریکہ نے حملہ کردیا ۔ یہی طالبان جو کبھی روس کے خلاف امریکہ کی ایما پر لڑرہے تھے وہ اپنے وطن کی آزادی کے لئے امریکہ کے حلاف ہوگئے ۔ اسی طرح سے طالبان افغانستان میں امریکہ کی پیدا کردہ طاقت تھی جو رفتہ رفتہ پھیلتے ہوئے آج پاکستان اور کچھ مسلم ممالک میں بھی پروان چڑھ گئی ہے ۔ تاریخ لمحوں کی غلطیوں کی صدیوں سزا دیتی ہے ۔ امریکہ کا ساتھ دینے والے یوروپی ممالک بھی ان انتہا پسند طاقتوں کا نشانہ بن گئے ۔ ایک غلط رجحان ہے جو پروان چڑھتا گیا لیکن رجحان از حود غلط ہے ۔ دوسری بڑی غلطی مغربی ممالک کی یہ ہے کہ مسلم ممالک کے کسی ایک چھوٹے سے گروہ کی کارستانیوں کو اسلام سے وابستہ کردیتے ہیں ۔ نہ مسلمان دہشت گرد ہوسکتا ہے اور نہ دہشت گرد رہتے ہوئے مسلمان رہ سکتا ہے ۔ اس بنیادی حقیقت کو سمجھنے کے لئے مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ کو سنجیدگی سے کوشش کرنی چاہئے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT