Wednesday , December 19 2018

پیرس میں بہادر مسلمان نے 15 یہودیوں کی جان بچائی

لندن۔12جنوری( سیاست ڈاٹ کام) پیرس میںجریدے چارلی ایبڈو پر حملے اور پھر مختلف مقامات پر لوگوں کو یرغمال بناکر ہلاک کرنے کے واقعات میں مسلح انتہا پسندوں کے ملوث ہونے کے بعد یورپ بھر میں مسلمانوں کے خلاف جذبات زور پکڑ رہے ہیں ۔ بعض مسلمانوں نے اپنے کردار سے یہ بات ثابت کردی ہے کہ ان کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ ایک پُرامن مذہب کے پیروکار ہیں ۔ پیرس میں جب رسول اکرمؐ کے خاکے شائع کرنے والے رسالے چارلی ایبڈو پر حملہ کیا گیا تو فرائض کی انجام دہی کرتے ہوئے ایک مسلمان پولیس آفیسربھی ہلاک ہوا ۔ اسی طرح جب جمعہ کے روز پیرس کی ایک کوشر سوپر مارکٹ پرامادی کولیبیائی نے حملہ کر کے متعدد افراد کو یرغمال بنالیا اور چار افراد کو ہلاک بھی کردیا تو اس وقت سوپرمارکٹ میں کام کرنے والے مسلمان شاپ اسسٹنٹ لسانا باتھلی نے اپنی جان بچانے کی بجائے کمال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے 15 یہودیوں کی جان بچائی ۔ لسانا باتھلی کے جرات مندانہ اقدام کو جہاں برطانیہ میں مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں نے خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ فرانس میں بھی اس کی زبردست پذیرائی کی جارہی ہے ۔ مختلف رہنماؤں کا کہنا تھا کہ لسانا باتھلی نے ثابت کردیا کہ تمام مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ وہ انسانیت پر یقین رکھنے اور مشکل وقت میں دوسروں کے کام آنے والے لوگ ہیں ۔امادی کو لیبیائی نے جب کوثر سوپرمارکٹ میں گھس کر لوگوں کو یرغمال بنایا تو لساناباتھلی نے 15خوفزدہ افراد کو اسٹور کے تہہ خانے میں کولڈ اسٹور میں چھپا لیا‘ جن 15افراد کو انہوں نے پناہ دی ان میں دو بچے بھی شامل تھے ۔

TOPPOPULARRECENT