Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / پیشہ وارانہ کالجس کے طلبہ تعلیمی مستقبل کیلئے فکرمند

پیشہ وارانہ کالجس کے طلبہ تعلیمی مستقبل کیلئے فکرمند

حکومت کی جانب سے بازادائیگی کی عدم اجرائی سے شدید مشکلات ‘ کئی کالجس بحران کا شکار

حکومت کی جانب سے بازادائیگی کی عدم اجرائی سے شدید مشکلات ‘ کئی کالجس بحران کا شکار
حیدرآباد ۔ 2 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ کے انجنیئرنگ ، فارمیسی اور دیگر پیشہ ورانہ کالجس کے طلبہ کو حکومت کی جانب سے فیس باز ادائیگی نہ کئے جانے کے سبب مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف کالجس معاشی بحران کا شکار ہیں تو دوسری طرف فیس کی ادائیگی کے دباؤ کے تحت طلبہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔ طلبہ اور کالجس کے علاوہ پیشہ ورانہ کالجس کے ملازمین بھی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے سبب دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ دو برسوں سے پیشہ ورانہ کالجس کے طلبہ کو تعلیمی فیس جاری نہیں کی گئی۔ اقلیتی پیشہ ورانہ کالجس کی تعداد تقریباً 174 بتائی گئی ہے جو انجیئرنگ اور فارمیسی کورسس سے متعلق ہے۔ تاہم حکومت نے ان میں صرف چار کالجس کو فیس باز ادائیگی اسکیم کے تحت شامل کیا ہے جس کے سبب دیگر کالجس اس اسکیم کے دائرہ کار سے عملاً باہر ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ زیادہ تر کالجس بینکوں سے بھاری قرض حاصل کرتے ہوئے ادارے چلا رہے ہیں اور فیس باز ادائیگی اسکیم پر عمل آوری روک دیئے جانے کے سبب وہ طلبہ کی فیس اپنی جانب سے ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ بیشتر کالجس طلبہ پر دباؤ بنارہے ہیں کہ وہ فیس ادا کریں بصورت دیگر ان کے ہال ٹکٹس روکنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔ ہال ٹکٹس کی عدم اجرائی کی صورت میں طلبہ کا تعلیمی مستقبل خطرہ میں پڑسکتا ہے۔ گزشتہ دو برسوں سے فیس باز ادائیگی اسکیم پر عمل آوری نہیں کی گئی اور جاریہ سال حکومت نے ابھی تک اسکیم کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط جاری نہیں کئے۔ حال ہی میں چیف منسٹر نے فیس باز ادائیگی کے بقایہ جات کے طور پر 862 کروڑ روپئے جاری کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بتایا جاتاہے کہ اقلیتی کالجس کے لئے ابھی تک بقایہ جات کی اجرائی کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔ 174 پیشہ ورانہ کالجس کو ویب کونسلنگ کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کا سہارا لینا پڑا ۔ جواہر لال نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی نے بعض تکنیکی وجوہات کی بناء پر ان کالجس کو کونسلنگ کی فہرست میں شامل نہیں کیا تھا ۔ 29 اکتوبر 2014 ء کو سپریم کورٹ نے اسٹیٹ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن کو کونسلنگ کے انعقاد کی ہدایت دی اور 5 تا 7 نومبر ان کالجس میں کونسلنگ مکمل ہوگئی ۔ تاہم ابھی تک طلبہ کو حکومت کی جانب سے تعلیمی فیس جاری نہیں کی گئی ہے۔ معاشی بحران شکار کالجس اپنے اسٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کے موقف میں نہیں اور بتایا جاتا ہے کہ نان ٹیچنگ اسٹاف کو گزشتہ 6 ماہ سے تنخواہیں جاری نہیں کی گئی ۔ اگر جاریہ سال بھی تعلیمی فیس ادا نہیں کی گئی تو اندیشہ ہے کہ ہزاروں اقلیتی طلبہ کا تعلیمی مستقبل تاریک ہوجائے گا اور کئی کالجس بند ہوجائیں گے۔ اب جبکہ جاریہ مالیاتی سال کا اختتام ہونے کو ہے لہذا حکومت کو چاہئے کہ اختتام سے قبل تعلیمی فیس کے بقایہ جات جاری کرتے ہوئے کالجس اور اقلیتی طلبہ کا تحفظ کرے۔

TOPPOPULARRECENT