Thursday , November 15 2018
Home / شہر کی خبریں / پیشہ وارانہ کالجس کے طلبہ نشہ کی لعنت کا شکار

پیشہ وارانہ کالجس کے طلبہ نشہ کی لعنت کا شکار

پولیس کیلئے چیالنج بھرا مسئلہ ، نشیلی اشیاء کی سربراہی پر سوالیہ نشان
حیدرآباد /11 جولائی ( سیاست نیوز ) شہر کی نوجوان نسل بالخصوص تعلیم یافتہ طبقہ نشہ کی لعنت کا شکار ہوتا جارہا ہے ۔ کل تک سگریٹ میں گانجہ استعمال کرنے والے اب کارروائی سے بچنے کیلئے مارکیٹ میں دستیاب او سی پی سلیپ استعمال کر رہے ہیں ۔ شہر اور نواحی علاقوں کے انجینئیرنگ و دیگر مہارت والے کالجس کے طلبہ اس لعنت کا شکار ہیں اور بڑی تیزی سے نشہ کی یہ لعنت نوجوانوں نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔ پولیس کی کارروائیوں کیلئے ایک چیالنج بنتی جارہی ہے ۔ گانجہ کی سپلائی پولیس کارروائیوں پر سوالیہ نشان لگارہی ہے ۔ حالیہ دنوں ایکسائز انفورسمنٹ کی ایک رپورٹ میں خوفناک انکشافات کئے گئے ایکسائز انفورسمنٹ کی اس سروے رپورٹ کے مطابق شہر کی نوجوان نسل میں یہ گانجہ ا ستعمال کرنے کے رحجان میں اضافہ ہوا ہے ۔ فیشن اور پارٹی و میٹنگس اور ساتھیوں کے کالج میٹ میں گانجہ استعمال کرنے والے ان کے عادی بنتے جارہے ہیں ۔ پولیس کارروائیوں کے باوجود گانجہ سپلائی کرنے والے افراد نئے طریقہ کار کو اپنا رہے ہیں ۔شہر کے ہر بڑے علاقہ میں باضابطہ طور پر چنندہ مراکز بھی چلائے جارہے ہیں ۔ اس رپورٹ کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ ٹولی چوکی ، گولکنڈہ ، لنگر حوض ، عطاپور ، نانل نگر اور آرام گھر کے علاقوں میں تقریباً 20 مراکز پائے جاتے ہیں ۔ جبکہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گانجہ سربراہی کے اہم مراکز دھول پیٹ میں 20 شمس آباد آرم گھر ، عطاپور میں 12 لنگر حوض ٹولی چوکی گولکنڈہ نانل نگر میں 8 گچی باؤلی مادھاپور نانک رام گوڑہ میں 6 فتح نگر بالانگر میں 5 منگل ہاٹ میں 2 سیتاپھل منڈل میں 4 کومپلی میں 4 ناگول میں 4 ابراہیم پٹنم میں 6 مراکز پائے جاتے ہیں ۔ گانجہ کی سربراہی کیلئے گانجہ مافیا کورئیر طرز پر کام کر رہا ہے اور باضابطہ ڈیلرس کے ذریعہ اس گانجہ کو سیلنگ پوائنٹ تک پہونچایا جاتا ہے اور ایک ایک ڈیلرز کے یہاں تقریباً 15 تا 20 افراد پائے جاتے ہیں ۔ جنہیں ماہانہ تنخواہ اور چند کو فروخت کرنے پر کمیشن دیا جاتا ہے ۔ ایکسائز انفورسمنٹ کی رپورٹ میں چند ڈیلروں کے ناموں کو بھی جاری کیا گیا ہے جن میں منموہن سنگھ ، انگوری بائی ، شیواچاری اور دھرم سنگھ کے ساتھ ساتھ 6 دیگر اثر و رسوخات رکھنے والے افراد کے ملوث ہونے کی رپورٹ پیش کی گئی ہے ۔ جہاں تک نوجوان نسل کے گانجہ کے استعمال کا سوال ہے ہر 100 گانجہ استعمال کرنے والے نوجوانوں میں 70 فیصد طلبہ ہیں ۔ اس کے بعد 10 فیصد سافٹ ویر ملازم ان کے بعد آٹو چلانے و الوں کا نمبر آتا ہے ۔ تعمیری مزدور طبقہ ، جونئیر آرٹسٹ پائے جاتے ہیں ۔ محلہ کے چند نوجوان اس لعنت کا شکار ہونے پر بہ آسانی دیگر نوجوان بھی اس لعنت میں مبتلا ہورہے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق گریٹر حیدرآباد کے حدود میں انفورسمنٹ رپورٹ کے مطابق 150 کیلو گانجہ ہر روز فروخت ہوتا ہے اور 10 گرام گانجہ 300 تا 700 روپئے میں فروخت ہوگا ہے ۔ ہوٹلوں ، پارک ، چوراہوں ، کالجس کے میدان ، چبوتروں پر سگریٹ خالی کرنے اور اس میں گانجہ بھرنے کے دوران نظر میں آنے سے بچنے کیلئے اب نوجوان نسل او سی بی سلیپ کا استعمال کر رہی ہے ۔ جس کو جوائنٹ کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ اکثر یہ سلیپ اسٹیشنری و پان کی دوکانات پر دستیاب ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر کے گانجہ مافیا بڑے پیمانے پر گانجہ کو وشاکھاپٹنم ، عادل آباد اور نارائن کھیڑ علاقہ سے شہر منتقل کر رہے ہیں ۔ اس رپورٹ کی اجرائی کے بعد خود محکمہ آبکاری کے علاوہ پولیس محکمہ کیلئے چیالنج بڑھ گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT