Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / پیشہ ورانہ کورسس میں داخلے کے معاملے کو التواء میں رکھنے کا مشورہ

پیشہ ورانہ کورسس میں داخلے کے معاملے کو التواء میں رکھنے کا مشورہ

طلبہ کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ نہ کیا جائے، محمد علی شبیر ڈپٹی فلور لیڈر تلنگانہ کونسل کا بیان

طلبہ کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ نہ کیا جائے، محمد علی شبیر ڈپٹی فلور لیڈر تلنگانہ کونسل کا بیان
حیدرآباد /31 جولائی (سیاست نیوز) کانگریس کے ڈپٹی فلور لیڈر کونسل محمد علی شبیر نے کہا کہ آندھرا پردیش کونسل فار پارٹیز ایجوکیشن نے انجینئرنگ کونسلنگ کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے عجلت کا مظاہرہ کیا، جب کہ تلنگانہ کے وزیر تعلیم جگدیشور ریڈی نے کونسلنگ میں شرکت نہ کرنے تلنگانہ طلبہ سے اپیل کی ہے۔ آج سی ایل پی آفس اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ دونوں حکومتوں کے فیصلے غلط ہیں، جس سے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اور ان کے والدین و سرپرست پریشان ہیں، کیونکہ ان میں یہ خوف پیدا ہو گیا ہے کہ اگر تلنگانہ کے طلبہ کونسلنگ میں شریک نہ ہوئے تو وہ داخلوں سے محروم ہو سکتے ہیں، جب کہ وزیر تعلیم نے سال ضائع ہونے سے بچانے کے لئے کسی حکمت عملی کی وضاحت بھی نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ اقتدار حاصل ہوکر 60 دن مکمل ہوچکے ہیں، تاہم دونوں چیف منسٹرس ایک دوسرے کی صورت دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انھوں نے پاکستان اور چین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہیں، سرحد پر فائرنگ بھی ہو رہی ہے، اس کے باوجود نریندر مودی نے اپنی حلف برداری تقریب میں پاکستانی وزیر اعظم کو مدعو کیا اور وہ دہلی پہنچے۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے کئی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ایک دوسرے سے خوشگوار تعلقات استوار کرنے کی خواہش کی۔ اسی طرح ہندوستان اور چین کے تعلقات بھی ٹھیک نہیں ہیں، چین کی دراندازی بڑھ رہی ہے، پھر بھی برکس کانفرنس میں ہند۔ چین کے وزرائے اعظم نے ملاقات کی۔ مگر چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ اور چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو ایک دوسرے سے ملاقات کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اگر دونوں چیف منسٹرس ملاقات کریں تو فیس باز ادائیگی، برقی، پانی اور دیگر مسائل کا حل برآمد ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ملاقات نہیں کرتے تو سپریم کورٹ کے فیصلہ تک داخلوں کے عمل کو ملتوی کردیا جائے اور لوکل (مقامی) کے لئے 1956ء کو جو بنیاد بنایا گیا ہے، اس پر کانگریس پارٹی جائزہ لینے کے بعد اپنے ردعمل کا اظہار کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT