Tuesday , January 16 2018
Home / Top Stories / پیغمبر اسلام ؐکی شان میں گستاخی ناقابل برداشت: ترکی

پیغمبر اسلام ؐکی شان میں گستاخی ناقابل برداشت: ترکی

انقرہ۔ 15 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ترکی نے آج پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اہانت انگیز کارٹونوں کی دوبارہ اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’کھلی اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیا اور انتباہ دیا کہ وہ پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کرے گا۔ ’’شارلی ہیبدو‘‘ پر حملوں کے بعد تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ وزیراع

انقرہ۔ 15 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ترکی نے آج پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اہانت انگیز کارٹونوں کی دوبارہ اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’کھلی اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیا اور انتباہ دیا کہ وہ پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کرے گا۔ ’’شارلی ہیبدو‘‘ پر حملوں کے بعد تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ وزیراعظم ترکی احمت دعوت اوگلو نے کہا کہ آزادیٔ صحافت کا مطلب توہین کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ وہ بروسیلز میں یوروپی یونین کے قائدین کے ساتھ بات چیت کیلئے روانہ ہونے سے قبل انقرہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ ان کا تبصرہ کثیرالاشاعت ترکی روزنامہ ’’کم حریت‘‘ کے اور ترکی ویب سائیٹس پر شائع شدہ کارٹونس پر تبصرے کے ایک دن بعد منظر عام پر آیا۔ ’’شارلی ہیبدو‘‘ نے پیغمبر اسلامؐ کے اہانت انگیز کارٹونس شائع کئے تھے جس کے بعد 7 جنوری کو اس پر دہشت گرد حملہ ہوا تھا۔ رسالہ کی اشاعت کا آزادیٔ تقریر پر تنازعہ کے بعد احیاء عمل میں آیا، لیکن تازہ شمارہ میں بھی رسالہ نے ایک بار پھر پیغمبر اسلامؐ کے اہانت انگیز کارٹونس شائع کئے۔ ترکی سرکاری طور پر سکیولر جمہوریہ ہے، لیکن گزشتہ 10 سال سے زیادہ مدت سے حکومت کا جھکاؤ اسلام کی طرف ہے۔ رجب طیب اردگان پہلے وزیراعظم ترکی اور اب صدر ترکی ہیں جنہیں راسخ العقیدہ مسلمان سمجھا جاتا ہے۔ احمت دعوت اوگلو نے کہا کہ ہم پیغمبرؐ کی کسی اہانت کو برداشت نہیں کریں گے۔ حکومت میں ہونے کے باوجود ہم آزادیٔ صحافت اور اہانت کی پست ترین سطح کو ساتھ ساتھ جاری رہنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اپنے مذہب کے بارے میں حساس ہیں اور ترکی غالب مسلم آبادی والا ملک ہے۔ اس سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ پیغمبر اسلامؐ کی اہانت پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے گا۔ اگر پیغمبر اسلامؐ کے اہانت انگیز کارٹونس شائع کئے جائیں تو ترکی کا احساس ہے کہ کھلی اشتعال انگیزی ہے۔ ترکی نے پیرس میں حملوں کی بے شک مذمت کی ہے جس میں 17 افراد ہلاک ہوئے لیکن پیغمبر اسلامؐ کی اہانت کو بھی برداشت نہیں کریں گے۔

ہم پیغمبرؐ کے احترام اور وقار کا ہر طرح تحفظ کرنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ ہمارا پیرس میں دہشت گردی کے بارے میں موقف میں بالکل واضح ہے لیکن اس طرح کی آزادیٔ صحافت کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی۔ آج پورے فرانس میں ’’شارلی ہیبدو‘‘ کا نیا ایڈیشن جس میں تازہ اہانت انگیز کارٹون شائع کیا گیا ہے، ہاتھوں ہاتھ بگ گیا۔ اخبار کے ملازمین نے کہا کہ ٹیلیفون کی گھنٹی دن بھر بجتی رہی اور انہیں جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جاتی رہیں۔ اسلام کے تحت پیغمبر اسلام ہی نہیں بلکہ کسی کی بھی تصویر شائع کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ’’شارلی ہیبدو‘‘ کا نیا شمارہ عالم اسلام میں ایک نیا تنازعہ پیدا کرنے کا سبب بن گیا۔ کئی مسلمانوں نے استنبول میں رسالہ کے خلاف برہمی کے عالم میں مظاہرہ کیا اور نعرہ بازی کی۔ برلنگٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب بدنام زمانہ مصنف سلمان رشدی جو برسوں سے موت کی دھمکیوں کے نتیجہ میں خوف کے سایہ تلے زندگی گزار رہا ہے، کہا کہ وہ کمزور نہیں پڑا ہے اور اس کی تائید فرانسیسی طنزیہ رسالہ کے ساتھ ہے۔

TOPPOPULARRECENT