Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / پیلٹ بندوقوں کا استعمال بند کریں، حریت کا مطالبہ

پیلٹ بندوقوں کا استعمال بند کریں، حریت کا مطالبہ

سری نگر 14ستمبر (سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں میرواعظ مولوی عمر فاروق کی قیادت والی حریت کانفرنس نے حقوق بشر کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جموں کشمیر میں پیلٹ گن کی قہر انگیزیوں سے متعلق رپورٹ کو حقائق پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حقوق بشر کے عالمی اداروں اور انصاف پسند اقوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کے خلاف پیلٹ گن جیسے مہلک اور انسان کش ہتھیار پر پابندی اور کشمیر میں ہر طرح کی انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لئے حکومت ہندوستان پراپنا اثر رسوخ استعمال کریں۔حریت نے کہا کہ کشمیر میں پر امن جلوسوں پر اندھا دنداور راست فائرنگ اور مہلک پیلٹ گن کے استعمال سے نہتے شہریوں کو شدید زخمی اور ان کی آنکھوں کی بینائی چھینی جا رہی ہے ۔ پیلٹ گن زیادہ مہلک اور خطرناک ہتھیارہے جس سے اب تک ہمارے سینکڑوں نوجوان شدید زخمی اور ناکارہ بنادیے گئے ہیں اور بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔حریت کے ایک ترجمان نے بتایا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کی ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس جمعرات کو یہاں حریت صدر دفتر پر چیئرمین میرواعظ کی صدارت میں منعقد ہوا۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں حریت ایگزیکٹو اراکین پروفیسر عبد الغنی بٹ ، بلال غنی لون، محمد مصدق عادل اور مختار احمد وازہ نے شرکت کی۔ ترجمان کے مطابق اجلاس میں موجودہ سیاسی، تحریکی و تنظیمی صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل کے ساتھ غور و خوض کیا گیا ۔ترجمان کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر بنیادی طور ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو سیاسی طور ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔ اجلاس میں کہا گیاکہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پورے جنوبی ایشائی خطے میں بد امنی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے اوراس خطے کی دو جوہری مملکتیں اسی مسئلے کی وجہ سے گذشتہ کئی دہائیوں سے مخاصمت اور محاذ آرائی کی راہ پر گامزن ہیں لہٰذا مسئلہ کشمیر کو اس خطے کے کروڑوں عوام کے محفوظ مستقبل کی خاطر حل کئے بغیر کوئی چارہ نہیں اور یہ ہندوستان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دیرینہ تنازعہ کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کیلئے ٹھوس اور بامعنی اقدامات اٹھائیں۔اجلاس میں وادی کے اطراف و اکناف میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کی آڑ میں عوام پر تشدد ڈھانے ، ظلم و زیادتیوں ، گرفتاریوں ، ہراسانیوں اور قتل و غارت گری پر مبنی سرکاری پالیسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک مبنی برحق جد وجہد میں مصروف عوام کے خلاف ہر غیر جمہوری اور غیر انسانی ہتھکنڈے بروئے کار لاکر یہاں کے حریت پسند عوام کوپشت بہ دیوار کیا جارہا ہے ۔ اجلاس میں جانچ ایجنسیوں این آئی اے اور ای ڈی کی جانب سے بقول حریت ترجمان مزاحمتی قائدین، کارکنوں، وکلاء اور تجارت پیشہ افراد کو ہراساں کرنے کو انتقام گیرانہ پالیسی سے عبارت کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرح کے حربوں سے یہاں کی حق و انصاف پر مبنی عوامی تحریک کو دبایا نہیں جاسکتا۔

TOPPOPULARRECENT