Monday , November 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / پینے کے پانی کی رقم رشوت خوری کی نذر

پینے کے پانی کی رقم رشوت خوری کی نذر

بنگلورو۔20اپریل: (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز )ریاستی عوام کو درپیش پینے کے پانی کی قلت سے نمٹنے کیلئے حکومت کی طرف سے جاری کی جانے والی ہزاروں کروڑ روپیوں کی رقم رشوت خوروں کی جیبوں میں جارہی ہے۔ یہ بات سابق لوک آیوکتہ جسٹس نتوش ہیگڈے نے کہی۔ شہر کے یوانیکا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہو ںنے کہا کہ شمالی کرناٹک میں پینے کا پانی حاصل کرنے کیلئے 5 تا 6 کلو میٹر پیدل جانا پڑتا ہے۔ ایسی پانی کی قلت سے نمٹنے کیلئے حکومت ہزاروں کروڑ روپئے کی رقم فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 56 ہزار کروڑ روپئے کی رقم پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے جاری ہوئی جسے رشوت خوروں نے بٹور لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی اس بات کی ہے کہ لوگ بھی ایسے ہی بدعنوانوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1952 میں جیپ گھپلہ پہلی بار منظر عام پر آیا تو ملک کے سرکاری خزانہ میں 52 لاکھ روپئے کی کمی تھی۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے گھپلے سامنے آنے شروع ہوئے۔ ردرا، بوفورس گھپلے بعد میں سامنے آئے بوفورس گھپلے کی رقم 64 کروڑ روپئے کی رہی۔ 2010 میں دولت مشترکہ کھیلوں کے گھپلے 70 ہزار کروڑ کا رہا تو 2G گھپلہ 1.70 لاکھ کروڑ روپئے کا رہا۔ جبکہ امسال ریاست کے سالانہ بجٹ کا حجم 1.50 لاکھ کروڑ روپئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تین اہم ستون مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ پہلے ہی ناکام ہوچکے ہیں۔ اب اس صورتحال کے خلاف آواز اٹھانے میں جمہوریت کا چوتھا ستون میڈیا بھی ناکام ہوچکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT