Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / پینے کے پانی کی چوری ، واٹر بورڈ ویجلنس کے دھاوے

پینے کے پانی کی چوری ، واٹر بورڈ ویجلنس کے دھاوے

بیشتر غیر مجاز کنکشن کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات
حیدرآباد ۔ 14 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : واٹر بورڈ شہر میں پانی کی مقررہ سربراہی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اس بات کے لیے بھی کوشاں ہے کہ پانی کی چوری نہ ہو اس مقصد کے تحت شہر میں غیر مجاز آبرسانی کنکشن کا پتہ چلایا جارہا ہے اور اسے منقطع کیا جارہا ہے ۔ اکٹوبر 2005 سے اس سال مارچ تک حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے زائد از چار ہزار غیر مجاز کنکشن کا پتہ چلایا ان میں سے بیشتر نل کنکشن کو باقاعدہ بنانے کا عمل جاری ہے ۔ ویجلنس ٹیم نے غیر مجاز کنکشن کا پتہ چلایا ۔ چار ہزار 138 غیر مجاز کنکشن میں نصف تعداد کا تعلق پرانا شہر علاقہ سے ہے ۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ ایسے غیر مجاز کنکشن بہادر پورہ ، پتھر گٹی اور اس کے آس پاس کی بستیوں میں پائے گئے ۔ یہ تمام علاقے واٹر بورڈ کے ڈیویژن I تحت تھے واٹر بورڈ کے ایک سینئیر ویجلنس آفیسر نے کہا کہ فلک نما ، چندرائن گٹہ ، شاہین نگر اور بالاپور میں جو ڈیویژن II کے تحت ہیں ۔ تقریبا ایک ہزار غیر مجاز کنکشن پائے گئے ۔ عہدیدار نے کہا کہ چار ہزار 138 غیر مجاز کنکشن میں سے ایک ہزار 61 کیسیس میں افراد نے گھریلو کنکشن کمرشیل اداروں اور ہمہ منزلہ عمارتوں کے لیے حاصل کئے ہیں جو خلاف قانون ہے ۔ عہدیدار نے کہا کہ ا یک چالیس فلیٹس والے ٹاورس میں چند روز قبل پانی کا غیر قانونی کنکشن استعمال کیا جارہا تھا ۔ اس سلسلہ میں کیس درج کیا گیا ہے ۔ عہدیدار نے کہا کہ غیر قانونی طور پر پینے کے پانی کے حصول پر 6 ماہ تا 5 سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے ۔عمارت کے مالک اور کرایہ داروں کے خلاف کیس بک کیے گئے ہیں کیوں کہ غیر قانونی کنکشن معاملہ میں دونوں ملوث ہیں ۔ ویجلنس عہدیدار نے کہا کہ سلم بستیوں میں جہاں ہم جاتے ہیں اور غیر مجاز کنکشن والے مقامات پر وھاوے کرتے ہیں مقامی عوام مزاحمت کرتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT