Saturday , May 26 2018
Home / Top Stories / پی این بی اسکام پر اپوزیشن کا ہنگامہ ، پارلیمنٹ اجلاس ملتوی

پی این بی اسکام پر اپوزیشن کا ہنگامہ ، پارلیمنٹ اجلاس ملتوی

بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلہ کا پہلا دن ، دونوں ایوانوں کی کارروائی نعرہ بازی اور احتجاج کی نذر
تحفظات کوٹہ میں اضافہ کیلئے
ٹی آر ایس کا مطالبہ
تلنگانہ راشٹرا سمیتی ( ٹی آر ایس ) کے ارکان نے ایوان کے وسط میں پہونچکر تلنگانہ میں تحفظات کے کوٹہ میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا جہاں تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کیلئے اسمبلی میں بل منظور کیا جاچکا ہے ۔

نئی دہلی ۔ 5 مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے ایک ماہ طویل وقفہ کے بعد دوسرے مرحلہ کے آغاز پر اپوزیشن جماعتوں نے پنجاب نیشنل بینک کو 12,700 کروڑ روپئے کی دھوکہ دہی کے اسکام آندھراپردیش کو خصوصی موقف اور کاویری آبی انتظامی بورڈ کی تشکیل جیسے مسائل پر حکومت کو سخت تنقید کانشانہ بنایا ۔ ان مسائل پر ارکان کی مسلسل نعرہ بازی اور شوروغل کے سبب دونوں ایوانوں کے پہلے دن کی کارروائی وقفہ وقفہ سے التواء کی نذر ہوگئی ۔ لوک سبھا میں آج صبح کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی کانگریس ، تلگودیشم ، ٹی آر ایس ، انا ڈی ایم کے اور دیگر جماعتوں کے ارکان ان مسائل پر نعرہ بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے تھے ۔ وقفہ سوالات میں شوروغل اور ہنگامہ آرائی سے مسلسل خلل ہوتا رہا جس کے نتیجہ میں اسپیکر سمترا مہاجن کو دوپہر 12 بجے تک اجلاس ملتی کرنا پڑا ۔ بعد ازاں جیسے ہی دوبارہ کارروائی شروع ہوئی کانگریس کے ارکان نے وزیراعظم نریندر مودی پر مفرور جوہری نیرو مودی کا اتہ پتہ بتانے اور اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ ایوان زیریں کے آغاز سے کچھ دیر قبل وزیراعظم نریندر مودی ایوان میں داخل ہوئے اور دونوں ہاتھ جوڑ کر ارکان کو نمستے کیا۔ دوسری طرف راجیہ سبھا کا اجلاس بھی 12,700 کروڑ روپئے کے پنجاب نیشنل بینک ( پی این بی ) اسکام اور دیگر مسائل پر اپوزیشن کے شوروغل اور ہنگامہ آرائی کے سبب آج دن بھر کے لئے ملتوی کردیا گیا ۔ حکمراں این ڈی اے کی حلیف تلگودیشم پارٹی نے آندھراپردیش کے لئے خصوصی پیکیج جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ پارلیمنٹ کے ایوان بالا کا اجلاس آج صبح آغاز کے بعد دو مرتبہ ملتوی کیا گیا تھا اور دوپہر 2 بجے جیسے ہی تیسری مرتبہ شروع ہوا اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پھر ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے ۔ انھوں نے مفرور جوہری نیرو مودی کی جانب سے پنجاب نیشنل بینک کو 12,700 کروڑ روپئے کی دھوکہ دہی کے علاوہ کاویری آبی انتظامی بورڈ کی تشکیل کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید نعرہ بازی کی ۔ ’’نیرو مودی کو واپس لاؤ‘‘ جیسے نعروں کی گونج کے درمیان نائب صدرنشین پی جے کُرین نے جو کرسی صدارت پر فائز تھے اپنی نشست سے اُٹھ گئے اور دونوں ہاتھ جوڑکر ارکان سے اپیل کی کہ ایوان کی کارروائی رکھنے میں مدد کی جائے ۔ تاہم برہم ارکان کا پُرشور احتجاج جاری رہا ۔ اس دوران کُرین نے ارکان سے کہاکہ ’’آپ سب الگ الگ مسائل پر احتجاج کررہے ہیں ۔ میں جانتا ہوں کہ ہر موضوع انتہائی اہم ہے ‘‘ ۔ کُرین نے کہا کہ ’’اگر ارکان تعاون کریں تو عوامی شعبہ کی بینکوں میں دھوکہ دہی کے مسئلہ پر مختصر بحث کی جاسکتی ہے ۔ جس کے بعد مختلف مسائل اُٹھائے جاسکتے ہیں‘‘ ۔ انھوں نے کہاکہ عوامی شعبہ کی بینکوں میں دھوکہ دہی کے مسئلہ پر انھوں نے آج مختصر بحث کی اجازت دی ہے لیکن مختلف جماعتوں کے ارکان پلے کارڈ لہراتے ہوئے ’’کاویری آبی انتظامی بورڈ فی الفور تشکیل دیا جائے ‘‘ ۔ ‘’’آپ اپنے وعددوں کے پابند رہیں‘‘ ۔ ’’آندھراپردیش تنظیم جدید قانون کے مطابق خصوصی زمرہ پر عمل آوری کی جائے ‘‘ ۔ جیسے نعرے لگارہے تھے ۔ کُرین نے اس طرز عمل کو ’’ڈسپلین شکنی‘‘ قرار دیتے ہوئے قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد سے دریافت کیا کہ اپوزیشن ارکان آج بحث جاری رکھنے کی اجازت دیں گے جس پر قائد کانگریس نے جواب دیا کہ اگر دیگر جماعتیں تیار ہیں تو انھیں بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ آزاد نے مزید کہا کہ حکومت اور وزیراعظم ناکام ہوگئے ہیں ۔ بینکوں میں رقومات نہیں ہیں جبکہ نیرومودی جیسے افراد فرار ہوگئے ہیں۔ بعد ازاں کُرین نے دن بھر کیلئے اجلاس ملتوی کردیا ۔ اس سے پہلے بھی شوروغل کے سبب دو مرتبہ ایوان کی کارروائی دو مرتبہ ملتوی کردی گئی تھی ۔ پہلی مرتبہ 10 منٹ اور دوسری مرتبہ دوپہر 2 بجے تک ملتوی کی گئی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT