Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / پی دیاکر کی امیدواری پر ٹی آر ایس میں اختلافات

پی دیاکر کی امیدواری پر ٹی آر ایس میں اختلافات

کے سری ہری‘ ہریش راؤ اور ٹے ٹی آر بھی ناخوش
حیدرآباد ۔ 2 ۔ نومبر (سیاست  نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ورنگل لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں پارٹی کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے وزراء اور قائدین کو متحدہ طور پر کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔ امیدوار کے انتخاب کے مسئلہ پر پارٹی میں اختلافات کی اطلاعات کے بعد چیف منسٹر نے انتخابی مہم میں مصروف وزراء سے ربط قائم کیا اور انہیں ہدایت دی کہ وہ انفرادی بات چیت میں بھی کسی سے پارٹی امیدوار کے مسئلہ پر اختلاف رائے کا اظہار نہ کریں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری کے علاوہ ہریش راؤ  اور کے ٹی راما راؤ کی جانب سے پی دیاکر کی امیدواری کی مخالفت کرنے کی اطلاعات پارٹی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔ چیف منسٹر نے ان اطلاعات کا سختی سے نوٹ لیتے ہوئے وزراء کو ہدایت دی کہ وہ اپنی ساری توجہ انتخابی مہم اور امیدوار کی کامیابی پر صرف کریں۔ چیف منسٹر نے واضح کیا کہ ورنگل کی موجودہ سیاسی صورتحال اور کامیابی کے امکانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے دیاکر کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پی دیاکر ضلع میں کوئی خاص مقبولیت نہیں رکھتے۔ تاہم وہ تلگو تلی مجسمہ تیار کرنے والے فنکار کی حیثیت سے پارٹی حلقوں میں جانے جاتے ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ امیدوار کے انتخاب کے مسئلہ پر  منعقدہ جائزہ اجلاس میں ورنگل سے تعلق رکھنے والے وزراء اور عوامی نمائندوں نے مختلف نام پیش کئے تھے لیکن چیف منسٹر نے اپنے طور پر دیاکر کے نام کو منظوری دیدی۔ بتایا جاتا ہے کہ امیدوار کے انتخاب کے سلسلہ میں مقامی قائدین اور کارکنوں کو نظرانداز کئے جانے کی شکایات مل رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیاکر کی انتخابی مہم سے ورنگل کے کئی قائدین دوری اختیار کئے ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے ورنگل لوک سبھا حلقہ کے ضمنی چناؤ کو پارٹی کے وقار کا مسئلہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی دیڑھ سالہ کارکردگی کی بنیاد پر اس حلقہ کا نتیجہ منحصر ہے۔

TOPPOPULARRECENT