Saturday , January 20 2018
Home / مضامین / پی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط حکومت ملی قیادت کی موقع پرستی کا شاہکار

پی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط حکومت ملی قیادت کی موقع پرستی کا شاہکار

سید محمد عبدالقدیر عزمؔ

سید محمد عبدالقدیر عزمؔ
ریاست جموں و کشمیرکے حالیہ اسمبلی انتخابات کئی وجوہات کی بناء پر آزاد ہندوستان کی سیاسی تاریخ کا ایک نیا موڑ، ایک سنگ میل ثابت ہوں گے۔ ریاست جموں و کشمیر میں جب بھی اسمبلی انتخابات ہوئے تو کئی بار معلق اسمبلی وجود میں آنے کے باوجود علاقائی اور مذہبی بنیادوں پر کبھی رائے دہی نہیں ہوئی۔ کانگریس ، پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے امیدوار ان تمام علاقوں سے کم یا زیادہ تعداد میں منتخب ہوا کرتے تھے ، چاہے وہ علاقہ جموں کا ہو ، وادی کشمیرکا یا پھر لداخ کا۔ جموں میں ہندو، وادی کشمیر میں مسلم اور لداخ میں بدھ مت کے پیرو اکثریت میں ہیں۔ تاہم مذکورہ بالا تینوں پارٹیوں کے امیدوار کم تعداد میں سہی لیکن تینوں علاقوں سے برابر منتخب ہوا کرتے تھے۔ کبھی بھی علاقائی یا مذہبی بنیادوں پر رائے دہی نہیں ہوئی۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات کے نتیجہ میں بھی معلق اسمبلی وجود میں آئی جو کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن اس بار رائے دہی کے دوران ایک نیا رجحان دیکھا گیا جو ملک کے سیکولر تانے بانے کیلئے بھی انتہائی خطرناک ہے، جہاں جموں سے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا کوئی امیدوار منتخب نہیں ہوا اور صرف دائیں بازو کی انتہا پسند بی جے پی کے امیدوار اکثریت میں آئے، وہیں وادی کشمیر میں بی جے پی کا کوئی اثر نہیں دیکھا گیا ، حالانکہ بی جے پی نے وادی کشمیر سے مسلم امیدواروں کو ہی مقابلے میں اتارا تھا۔ اس طرح گویا اس نے رائے دہندوں کو اشارہ دے دیا تھا کہ اس بار اسمبلی انتخابات مذہبی بنیادوں پر ہوں گے۔ حالانکہ بی جے پی وادی کشمیر سے ایک بھی نشست حاصل نہیں کرسکی لیکن بی جے پی اپنے اس مقصد میں ضرور کامیاب رہی کہ اس نے کشمیر میں مذہبی بنیادوں پر رائے دہی کروائی۔ چنانچہ وادی کشمیر سے کامیاب ہونے والے تمام امیدوار پی ڈی پی کے تھے۔

طویل عرصہ تک مخلوط حکومت کے قیام کیلئے سودے بازی جاری رہی۔ حالانکہ کانگریس اور نیشنل کانفرنس دونوں نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو تشکیل حکومت کیلئے بیرونی تائید غیر مشروط بنیادوں پر فراہم کرنے کا پیشکش کیا تھااور واضح طور پر کہا تھا کہ حالانکہ انہیں پی ڈی پی کی آئیڈیالوجی سے اختلاف ہے لیکن وہ فرقہ پرست قوتوں کو وادی کشمیر میں قدم جمانے کا موقع نہیں دینا چاہتے اس لئے پی ڈی پی حکومت کو باہر سے تائید فراہم کریں گے لیکن گرگ باراں دیدہ مفتی محمد سعید غالباً اس بات سے خوفزدہ تھے کہ ان کی دیرینہ حریف یہ دونوں پارٹیاں کسی بھی وقت پی ڈی پی حکومت کی تائید سے دستبردار ہوکر اسے زوال پذیر کرسکتی ہیں۔ اس لئے انہوں نے کانگریس اور نیشنل کانفرنس کی تائید کی پیشکش مسترد کردی اور فرقہ پرست بی جے پی کی پیشکش پر سودے بازی میں مصروف ہوگئی۔ یہاںتک کہ ریاست میں گورنر راج نافذ کردیا گیا۔ انتخابات کے دوران اپنی انتخابی مہم میں پی ڈی پی نے دستورکی دفعہ 370 کو ناقابل تنسیخ ، یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کو ناممکن قرار دیا تھا جبکہ بی جے پی کے یہی انتخابی موضوعات تھے۔ ان کے علاوہ بی جے پی کا ایک انتخابی موضوع ایودھیا میں ایک شاندار رام مندر کی تعمیر کا بھی تھا۔ حالانکہ لوک سبھا میں بی جے پی کو قطعی اکثریت حاصل ہے اور وہ کوئی بھی مسودہ قانون لوک سبھا میں منظور کرواسکتی ہے لیکن ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں جہاں اپوزیشن کو اکثریت حاصل ہے، وہ کوئی بھی مسودہ قانون منظور کروانے سے قاصر ہے۔ چنانچہ اسی بہانہ سے اس نے تمام متنازعہ مسودات قانون مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کردیئے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اپنے ایک بیان میں واضح کردیا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے قانون کی منطوری ، بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی موجودہ میعاد میں ناممکن ہے کیونکہ راجیہ سبھا میں بی جے پی کو اکثریت حاصل نہیں ہے، اس پر انتہا پسند دائیں بازو کی تنظیموں اور سنتوں اور سادھوؤں نے شدید اظہار ناراضگی کیا ہے کیونکہ بی جے پی رام مندر کے تعمیر کے تیقن پر ہی مرکز میں برسر اقتدار آئی ہے۔

آخر کار پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے طویل سودے بازی کے بعد بی جے پی کے ساتھ جموں و کشمیر میں مخلوط حکومت قائم کرنے سے اتفاق کرلیا ۔ جہاں بی جے پی بھی مخلوط حکومت کی شراکت دار ہے چنانچہ چیف منسٹر پی ڈی پی کا اور ڈپٹی چیف منسٹر بی جے پی کا ہے، اس طرح پی ڈی پی ۔ بی جے پی جموں وکشمیر مخلوط حکومت ایک اجتماع ضدین ہے جو کسی بھی وقت منتشر ہوسکتا ہے۔ بشرطیکہ مخلوط حکومت میں شریک دونوں پارٹیوں کی موجودہ مجبوریاں ختم ہوجائیں لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ مفتی محمد سعید نے ایسے تمام علحدگی پسندوں اور انتہا پسندوں کو رہا کردیتے کا اعلان کیا تھا جن کے خلاف کوئی بھی فوجداری جرم ثابت نہیں ہوسکا۔ چنانچہ علحدگی پسند قائد مسرت عالم کو رہا بھی کردیا گیا۔ اس پر بی جے پی نے کافی شور و غل مچایا ۔ اصولی اعتبار سے بی جے پی کو مخلوط حکومت سے دستبرداری اختیار کرلینی چاہئے تھی۔ کیونکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے نظریات اور بی جے پی کے نظریات قطعی متضاد ہیں لیکن بی جے پی نے صرف حکومت مخالف بیان بازی پر اکتفا کیا۔ مفتی محمد سعید کا مسرت عالم کی رہائی کا اقدام بھی غالباً کشمیری عوام کے آنسو پونچھنے کی ایک کوشش تھا کیونکہ چند ہی دن بعد مسرت عالم کو سید علی شاہ گیلانی کے جلسہ عام میں پاکستانی پرچم لہرانے کے الزام میں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ حالانکہ پاکستانی پرچم لہرانا وادی کشمیر کیلئے کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن مسرت عالم نے ایسا کرنے کے الزام کی واضح طور پر تردید کردی اور کہا کہ چند مایوس جذباتی نوجوانوں نے ایسا کیا ہے۔ تاہم حکومت نے ان کے کسی بھی ادعاء پر توجہ نہیں دی اور انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی حالانکہ بی جے پی کے ساتھ نظریاتی اختلافات رکھتی ہے لیکن چاہتی ہے کہ پانچ سال تک برسر اقتدار رہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف شعلہ بیانی اور نمائشی اقدامات پر اکتفا کررہی ہے ۔ بی جے پی سے ترک تعلق کرنے کی ہمت نہیں کرسکتی۔ دوسری طرف بی جے پی کیلئے بھی ریاست جموں و کشمیر میں اپنے قدم جمانے کا یہ ایک سنہری موقع ہے۔ چنانچہ وہ بھی مخلوط حکومت سے دستبردار ہونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ اسی لئے وہ بھی پی ڈی پی حکومت کے خلاف احتجاجی بیانات تو دے سکتی ہے لیکن اس سے ترک تعلق کا کوئی عملی اقدام نہیں کرسکتی۔
پی ڈی پی جموں و کشمیر میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے درحقیقت ملک گیر سطح پر مسلم قیادت کے رجحان کی نمائندگی کر رہی ہے۔ اس نے اقتدار اور وقتی مفادات کے لئے انتہا پسند فرقہ پرست سیاسی پارٹی کو ریاست جموں و کشمیر میں اپنے قدم جمانے کا موقع دیا ہے۔ جہاں کے عوام کا مزاج بنیادی طور پر تصوف کا ہے۔ چنانچہ سخت گیر علحدگی پسند سید علی شاہ گیلانی نے بھی کشمیری پنڈتوں کی ریاست میں واپسی اور ان کی بازآبادکاری کے مفتی محمد سعید کے فیصلہ کی مخالفت نہیںکی کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بلا لحاظ مذہب و ملت تمام کشمیری عوام تصوف کا مزاج رکھتے ہیں اور کشمیری پنڈت بھی بہرحال کشمیری ہی ہیں لیکن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے دائیں بازوکی انتہا پسند پارٹی سے اتحاد کر کے ریاستی عوام کے صوفیانہ مزاج کو ہی نہیں بلکہ ملک کے سیکولر تانے بانے کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور وہ بھی صرف اپنے وقتی مفادات کی خاطر ۔ لیکن یہی ملک گیر سطح پر مسلم قیادت کا رجحان ہے جو وقتی مفادات کیلئے ملی مفادات کو قربان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ ملک کے مسلمانوں کے حالِ زار کا یہ بھی ایک سبب ہے۔

TOPPOPULARRECENT