Sunday , November 19 2017
Home / سیاسیات / پی ڈی پی کا بی جے پی پر غداری کا الزام

پی ڈی پی کا بی جے پی پر غداری کا الزام

حالات اب بھی قابل اصلاح ‘ محبوبہ مفتی کی دہلی سے واپسی پر سینئر پارٹی قائدین کا تاثر
سرینگر۔20مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے مبینہ طور پر اقل ترین مشترکہ پروگرام کے سلسلہ میں بی جے پی کو الجھن زدہ موقف میں ڈال دیا ہے ۔ پی ڈی پی کے قائد اور رکن پارلیمنٹ مظفر حسین بیگ نے کہا کہ اب بھی صورتحال قابل اصلاح ہے ۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نئی دہلی سے برہمی کے عالم میں سرینگر واپس آچکی ہیں ۔ انہوں نے نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی ۔ پی ڈی پی قائدین نے مخلوط حکومت کی شریک پارٹی بی جے پی پر غداری اور تیقن سے انحراف کررہی ہے ۔ پی ڈی پی کے ایک سینئر قائد نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتاہے کہ محبوبہ مفتی بی جے پی کے موقف پر الجھن کا شکار ہیں اور مخلوط حکومت کے ایجنڈہ میں جن مسائل کے حل کے بارے میں اتفاق ہوچکا ہے اُن کے نفاد میں تاخیر کی جارہی ہے ۔ دونوں سیاسی پارٹیوں کے درمیان اقل ترین مشترکہ پروگرام پر اتفاق ہوا تھا ۔ محبوبہ مفتی جو سرینگر میں اپنی قیامگاہ فیرویو میں دن پر مقیم رہیں تھیں کسی سے ملاقات نہیں کی ‘انہوں نے صدر بی جے پی امیت شاہ سے جاریہ ہفتہ کے اوائل میں نئی دہلی میں ملاقات کی تھی اور اُس ملاقات کو اپنے پارٹی قائدین کے سامنے ’’مثبت ملاقات ‘‘ ظاہر کیا تھا لیکن تشکیل حکومت کی کارروائی ہفتہ کے دن تعطل کا شکار ہوگئی

جب کہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کی تجویز پر اعتراض کیا کہ بی جے پی نے مودی سے ملاقات سے قبل اپنا یہ موقف ظاہر نہیں کیا تھا ۔ پی ڈی پی کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ بی جے پی کی جانب سے جو پیشگی شرائط عائد کی جارہی ہیں محبوبہ مفتی کیلئے مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں ۔ دریں اثناء بی جے پی کے سینئر قائد مظفر حسین بیگ نے جو رکن پارلیمنٹ بھی ہیں ہفتہ کے دن کہا تھا کہ پی ڈی پی ۔ بی جے پی مخلوط اتحاد اب بھی ناقابل اصلاح نہیںہوا ہے ۔ محبوبہ مفتی کو مرکز پر یقین رکھنا چاہیئے ‘ اگر حکومت کے اعلیٰ ترین قائد نے کوئی تیقنات دیئے ہیں تو وہ ان پر عمل آوری بھی کریں گے ۔ نئی دہلی میں مرزا مظفر حسین بیگ نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ترسیل کے المیہ کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہورہی ہے جن کی وجہ سے تعطل پیدا ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ محبوبہ مفتی سے ایک دن قبل بات کرچکے ہیں اور انہیں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ وہ بااختیار سرکاری اتھاریٹی سے بعض مسائل کے بارے میں تیقن چاہتی ہیں جو مخلوط اتحاد کا ایجنڈہ ہے اور چاہتی ہیں کہ اس پر عاجلانہ عمل آوری کی جائے ۔ انہوں نے اس بات پر اصرار نہیں کیا کہ تشکیل حکومت سے پہلے تمام مطالبات کی تکمیل کی جائے ۔

TOPPOPULARRECENT