Monday , December 18 2017
Home / ہندوستان / پے کمیشن رپورٹ کیخلاف ٹریڈ یونینوں کا اظہارناراضگی

پے کمیشن رپورٹ کیخلاف ٹریڈ یونینوں کا اظہارناراضگی

تنخواہوں میں اضافہ کی تجویز مسترد، اس دہے کی سب سے کم اجرت ، بھارتیہ مزدور سنگھ
نئی دہلی ۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی سرکاری ملازمین اور وظیفہ یابوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیلئے ساتویں پے کمیشن کی سفارشات کے خلاف مشترکہ صف بندی کرتے ہوئے قومی ٹریڈ یونینوں نے جو بی جے پی اور دائیں بازو پارٹیوں سے وابستہ ہیں، آج کہا کہ مجوزہ اضافہ کی تجویز کئی دہوں میں سب سے کم ہے۔ موجودہ افراط زر کے پیش نظر یہ اضافہ کچھ نہیں ہے۔ آر ایس ایس سے ملحق بھارتیہ مزدور سنگھ کے جنرل سکریٹری وریش اپادھیائے نے کہا کہ پے کمیشن کی تجاویز مایوس کن ہے۔ ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ مجوزہ 23.55 فیصد اضافہ کے برعکس خالص تنخواہ میں صرف 26 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اقل ترین اور اعظم ترین تنخواہ میں بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک اور نکتہ کا نوٹ لیتے ہوئے کہ گریجویٹی کی حد کو 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ کردیا گیا ہے اس کا فائدہ صرف سینئر عہدیداروں کو ہوگا۔ سی پی آئی کی حمایت والی اے ٹی ٹی یو سی (آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس) کے جنرل سکریٹری گروداس داس گپتا نے کہا کہ یہ تجویز سراسر مایوس کن ہے۔

 

گذشتہ 30 سال کے دوران بہت ہی معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔ مہنگائی اور مدنظر رکھ کر یہ اضافہ نہیں کیا گیا۔ پے کمیشن کی سفارشات غیراطمینان بخش ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن نے قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کو نظرانداز کردیا ہے۔ ایچ آر اے اور دیگر الاونسیس میں بھی قابل لحاظ نظرثانی نہیں کی گئی ۔ اضافہ کے بجائے کمیشن نے ایچ آر کو 20 فیصد سے گھٹاکر 24 فیصد کردیا ہے۔ بڑے شہروں میں اے کلاس کی حد تک بنیادی یافت اور دیگر شہروں میں ایچ آر کیلئے جو تجاویز پیش کی گئی ہیں وہ نامناسب ہیں۔ جسٹس اے کے ماتھر کی زیریادت ساتویں پے کمیشن کی 900 صفحات پر مشتمل رپورٹ کو کل ہی وزیرفینانس ارون جیٹلی کو پیش کیا گیا ہے۔ نئی تنخواہوں پر یکم ؍ جنوری سے عمل آوری ہوگی۔ پیانل نے بنیادی یافت میں 14.27 فیصد اضافہ کی سفارش کی ہے جو 70 سال کے دوران سب سے کم ترین اضافہ ہے۔ سابق چھٹویں پے کمیشن میں 20 فیصد اضافہ کی تجویز پیش کی گئی تھی جس میں حکومت نے 2008ء میں دگنا کیا تھا ۔ انڈین ٹریڈ یونین کے صدر اے کے پدمنابھم نے کہاکہ یہ سفارشات مرکز کیلئے غیرمنصفانہ ہیں۔ اقل ترین تنخواہ موجودہ مہنگائی کے مطابق نہیں ہے۔

 

پے کمیشن کی سفارشات پر
AITUC کا اظہار مایوسی
نئی دہلی۔/20نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) اپنی ناراضگی کیلئے مشہور آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس نے آج کہا کہ ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کی وہ شدیدمخالف ہے اور بتایا کہ گزشتہ  30سال میں مہنگائی کے باوجود مرکزی حکومت کے ملازمین کیلئے بہت کم اضافہ کیا گیا ہے۔ اے آئی ٹی یو سی جنرل سکریٹری گروداس گپتا نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافہ کی سفارش انتہائی مایوس کن ہے گزشتہ 30سال کے دوران افراط زر کو پیش نظر رکھتے ہوئے اضافہ کیا جانا چاہیئے تھا۔ پے کمیشن کے صدر نشین جسٹس اے کے ماتھر نے 900صفحات پر مشتمل رپورٹ کل وزیر فینانس ارون جیٹلی کو پیش کی تھی جس کی سفارشات پر آئندہ سال یکم جنوری سے عمل آوری کی جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT