Monday , May 28 2018
Home / سیاسیات / چائے بیچنے کیلئے تیار ہوں لیکن ملک کا سودا نہیں کروں گا :مودی

چائے بیچنے کیلئے تیار ہوں لیکن ملک کا سودا نہیں کروں گا :مودی

ترقی پر اعتماد اور خاندانی سیاست کے مابین اصل مقابلہ ، گجرات میں وزیراعظم کا انتخابی ریالیوں سے خطاب
جزدن ؍ بُھج (گجرات ) ۔27 نومبر ۔( سیاست ڈاٹ کام) گجرات میں بی جے پی کی انتخابی مہم میں نیا جوش پیدا کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہاکہ وہ چائے بیچنے کیلئے تیار ہیں لیکن کبھی ملک کا سودا نہیں کریں گے۔ انھوں نے راہول گاندھی سے یہ جاننا چاہا کہ لشکر طیبہ سربراہ حافظ سعید کی رہائی کی انھوں نے ستائش کیوں کی؟ نریندر مودی نے آج گجرات کے کُچھ ، راجکوٹ اور سورت کے قریب کئی ریالیوں سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کانگریس کو چین ، لشکر طبیہ سربراہ حافظ سعید ، سرجیکل حملے اور کرپشن کے مسئلے پر تنقید کانشانہ بنایا ۔ مودی نے کہا کہ ’’آپ چینی سفیر سے بغلگیر ہوکر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ حافظ سعید کی رہائی پر تالیاں بجاتے ہیں۔ آپ ہندوستانی فوج کے سرجیکل حملوں کا احترام نہیں کرتے ۔ تو پھر اس کے بارے میں بولتے کیوں ہیں۔ آپ کو بس خاموش رہنا چاہئے ‘‘ ۔ راہول گاندھی نے حال ہی میں ٹوئیٹر پر لکھا تھا کہ ’’نریندر بھائی بات نہیں بنی ۔ دہشت گرد ماسٹر مائنڈ آزاد ہوگیا ۔ صدر ٹرمپ نے پاکستانی فوج کیلئے کی جانے والی فنڈنگ کو لشکر طیبہ سے غیرمربوط کردیا۔ ’ہگپلومیسی‘ (بغلگیری پر مبنی سفارت کاری) ناکام ہوگئی ہے اور مزید بغلگیری کی فوری ضرورت ہے ‘‘ ۔ لشکر طبیہ کے بانی اور ممبئی دہشت گرد حملوں کے اصل سازشی سرغنہ حافظ سعید کی پاکستانی عدالت کی جانب سے رہائی کے فوری بعد راہول نے یہ ٹوئیٹ کیا تھا ۔ مودی نے مزید کہاکہ ’’پاکستانی عدالت حال ہی میں ایک دہشت گرد کو رہاء کی ہے ۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کانگریس کے لوگ اس (رہائی) پر تالیاں کیوں بجارہے ہیں‘‘ ۔ مودی نے ممبئی کے 26/11 دہشت گرد حملوں اور اُڑی حملوں کا حوالہ دیا اور دریافت کیا کہ ایک حکومت اور دوسری حکومت اور ایک لیڈر اور دوسرے لیڈر کے درمیان فرق کیا ہوتا ہے اس کے جواب سے کسی ملک کیلئے جینے اور مرنے کے معنی مل سکتے ہیں۔ مودی نے کہاکہ ’’انھوں نے اُڑی میں ہمارے سپاہیوں کو ہلاک کیا ۔ ہمارے سپاہی اُن کے علاقہ میں گئے اور سرجیکل حملے کئے اور واپس آگئے ۔ دوسرے دن اخبارات نے کہا کہ وہ (پاکستان میں) نعشوں کو ٹرکوں کے ذریعہ لے گئے ‘‘۔ مودی نے الزام عائد کیا کہ کانگریس قائدین ستمبر 2016 ء میں کئے گئے سرجیکل حملوں پر سوال اُٹھارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ان حملوں میں ہمارا کوئی سپاہی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا اور پوچھ رہے ہیں کہ ’’آیا اس کا کسی تصویر یا فلم پر مبنی کوئی ثبوت ہے ؟ ،میں پوچھتا ہوں کہ آیا وہ ( ہندوستانی سپاہی ) پاکستان میں کوئی فلم بنانے گئے تھے ؟ ‘‘۔ مودی نے مزید کہا کہ ’’آپ (راہول) جب کسی غریب کے گھر روٹی کھاتے ہیں تو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ آپ کی فلم بنائی جارہی ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سرجیکل حملوں کی بھی فلم بنائی جائے ‘‘۔ مودی نے انتخابات کا سامنا کرنے والی ریاست گجرات میں کانگریس کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مجوزہ اسمبلی انتخابات خاندانی سیاست اور ترقی پر اعتماد کے درمیان لڑائی ہیں۔ مودی نے کانگریس کی جانب سے اُن کے ماضی میں ’’چائے والا ‘‘ ہونے پر تنقیدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعت اس لئے ایسا کررہی ہے کیوں کہ وہ ایک غریب ماں کی گود میں پلے ہیں۔ اُن کا پس منظر کسی دولتمند گھرانے سے نہیں رہا ۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرپارہے ہیں کہ ایک چائے والا وزیراعظم بن گیا ہے۔ ہم کتابوں میں پڑھا کرتے تھے کہ کس طرح غریب اور محروم طبقہ کو دولتمند طبقہ کی ہراسانی کا شکار ہونا پڑتا ہے لیکن میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا کہ وہ اس قدر پستی کا مظاہرہ کریں گے ۔ مودی نے کہاکہ وہ واضح طورپر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ چائے فروخت کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن سارے ملک کو فروخت کرنے کا گناہ اُن سے کبھی نہیں ہوگا ۔ اُن کا اشارہ کانگریس زیرقیادت یو پی اے دور کے اسکامس کی طرف تھا۔ اُنھوں نے کانگریس سے سوال کیا کہ غربت کا مذاق کیوں اُڑایا جارہا ہے ؟ آپ ایک غریب ماں کی توہین کیوں کررہے ہیں ؟ انھوں نے کہا کہ گجرات کے انتخابات ترقی پر اعتماد اور خاندانی سیاست کے مابین ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT