Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / چارمختلف اوقافی اداروں کے متولی معطل

چارمختلف اوقافی اداروں کے متولی معطل

اداروں کو وقف بورڈ نے تحویل میں لے لیا ، اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال کی پریس کانفرنس

اداروں کو وقف بورڈ نے تحویل میں لے لیا ، اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/20مارچ، ( سیاست نیوز) ریاست میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف بورڈ نے اپنی کارروائیوں کو جاری رکھتے ہوئے چار مختلف اوقافی اداروں کے متولیوں کو معطل کردیا ہے۔ ریاست کے چار اوقافی اداروں کو وقف بورڈ نے اپنی راست تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ کوہِ امام ضامن پر لیز پر دی گئی اراضی کے 5 معاملات کو منسوخ کردیا ہے۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال ( آئی پی ایس ) نے آج پریس کانفرنس میں بورڈ کی ان کارروائیوں کی تفصیلات بیان کیں۔ حیدرآباد کے اہم تجارتی مرکز چراغ علی لین میں واقع مسرز شرف الدین چیاریٹبل ٹرسٹ وقف جو بنڈی بالیا کمپاونڈ کی حیثیت سے شہرت رکھتا ہے اس کے متولی کو بے قاعدگیوں اور وقف قواعد کی خلاف ورزی پر معطل کردیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ متولی شجاع الدین خاں نے وقف بورڈ کی منظوری کے بغیر ہی 1100مربع فیٹ اراضی پر تعمیرکے سلسلہ میں مہیشوری بلڈرس سے معاہدہ کرلیا۔ انہوں نے بتایا کہ تعمیر کے سلسلہ میں متولی نے 2001ء میں بورڈ سے اجازت کی درخواست کی۔ اس وقت کے بورڈ نے اس معاملہ کا جائزہ لیتے ہوئے قانونی رائے حاصل کی لیکن متولی نے وقف بورڈ کی قرارداد کی کاپی حاصل کرتے ہوئے مہیشوری بلڈرس سے معاہدہ کرلیا اور لیز معاہدہ کو قطعیت دی گئی۔ اسپیشل آفیسر نے بتایا کہ وقف بورڈ کی اجازت کے بغیر ہی یہ معاملت کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ متولی نے عمارت کی چھت کو ٹاٹا سیلولر سرویسس سے 180ماہ کیلئے لیز پر دے دیا ہے۔ اس طرح کی بے قاعدگیوں اور وقف فنڈ کی عدم ادائیگی کے سبب متولی کو فوری اثر کے ساتھ معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو تحقیقات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں وقف ایکٹ کے علاوہ آئی پی سی دفعات کے تحت بھی مقدمات درج کئے جائیں گے۔ شیخ محمد اقبال نے بتایا کہ معین منزل وقف واقع کنگ کوٹھی جس کا رقبہ 2000 مربع گز ہے اسے متولی نے مسرز لیجنٹ اسٹیٹس پرائیویٹ لمیٹیڈ کو فروخت کردیا اور یہ وقف بورڈ سے حاصل کردہ جعلی این او سی کی بنیاد پر فروخت کیا گیا جس کے خلاف عابڈز پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کی گئی ہے۔ وقف بورڈ نے اس جائیداد کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے

اور ڈسٹرکٹ رجسٹرار سے خواہش کی گئی کہ وہ رجسٹریشن منسوخ کردیں۔ کاچی گوڑہ میں واقع سرائے جوبلی ( تریوینی لاج ) کو وقف بورڈ نے اپنی راست نگرانی میں لے لیا کیونکہ کمیٹی کی مدت 25مئی 2007ء کو ختم ہوچکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ انجمن اسلامیہ کرنول کے تحت حیدرآباد میں کئی جائیدادیں ہیں۔ اس ادارہ نے بہلول خاں گوڑہ سنجیوا ریڈی نگر میں غیر مجاز طور پر وقف اراضی کو فروخت کیا۔ بورڈ نے متولی کو معطل کرتے ہوئے اسے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ مدینہ منشن نارائن گوڑہ میں واقع 5139.22 مربع گز اراضی سر نظامت جنگ زینت النساء وقف ( انجمن علم و عمل ) کے تحت ہے، اس کا کرایہ نامہ ختم ہوچکا ہے۔ وقف بورڈ نے کرایہ دار نشاط ایس بیگ کو 11مارچ 2014ء کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اندرون پندرہ یوم یہ جائیداد وقف بورڈ کے حوالے کرنے کی ہدایت دی ہے۔درگاہ حضرت قادر لنگایت موضع کوتالم ضلع کرنول کے متولی کو معطل کردیا گیا ہے جو گذشتہ کئی برسوں سے وقف بورڈ کو صرف 126روپئے وقف فنڈ ادا کررہے تھے۔ انہوں نے 2011-12ء میں 5ہزار روپئے وقف فنڈ ادا کیا۔ متولی سید صاحب پیر چشتی کو معطل کردیا گیا ہے۔درگاہ حضرت شیخ شاہ ولی ؒ و حضرت شاہ ولی ؒ موضع ایلارتی ضلع کرنول کے تحت 22ایکر45گنٹے اراضی ہے اور اس کی سالانہ آمدنی 40 تا 50لاکھ ہے تاہم متولی وقف بورڈ کو اکاؤنٹس اور دیگر تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہے۔1962سے متولی نے وقف بورڈ کو ایک پیسہ بھی فنڈ ادا نہیں کیا۔

وقف قواعد کی خلاف ورزی پر بورڈ نے متولی کو معطل کرتے ہوئے چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ عبدالحمید کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا ہے۔شیخ محمد اقبال نے بتایا کہ کوہِ امام ضامن کے تحت ایک سال کی مدت کیلئے دیئے گئے پانچ لیز معاہدات کو منسوخ کردیا گیا جن میں منہاج اللہ300مربع گز، عبدالحسان 200مربع گز، عبدل لائق 300مربع گز، عبدل رئیس 300مربع گز اور محمد منہاج 0.37 گنٹہ شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اننت پور کے تاڑ پتڑی میں واقع درگاہ حاجی ولی ؒ کو ابھی تک درج اوقاف نہیں کیا گیا جس کی سالانہ آمدنی کم از کم 5لاکھ روپئے بتائی جاتی ہے۔ وقف بورڈ نے درگاہ کو اپنی راست نگرانی میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وجئے واڑہ میں واقع امداد گھر کے تحت 45ملگیاں اور سات منزلہ عمارت ہے اور یہ عدالت کی زیر نگرانی ہے۔ وقف بورڈ نے اسے اپنی تحویل میں لینے کی کارروائی شروع کردی ہے۔ ذاکر حسین کالج وجئے واڑہ کے تحت 20ایکر اراضی لیز پر دی گئی جس میں صرف 5ایکر اراضی پر ہی تعمیرات ہیں۔ وقف بورڈ مابقی اراضی کو ترقی دینے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ کرنول میں بڈھا بڈھی مسجد کے تحت 200ایکر اراضی کو وقف گزٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT