Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / چارمینار شفاء خانہ یونانی کی حالت قابل رحم، بہتر بنانے فوری اقدامات کی ضرورت

چارمینار شفاء خانہ یونانی کی حالت قابل رحم، بہتر بنانے فوری اقدامات کی ضرورت

ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا وزیر صحت کے لکشما ریڈی کے ساتھ دورہ، مریضوں اور طبی عملہ سے بات چیت
حیدرآباد 11 مئی (سیاست نیوز) چارمینار شفاء خانہ یونانی کی حالت یقینا قابل رحم ہے۔ دواخانہ کو بہتر بنانے کے لئے فی الفور اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے۔ ریاستی حکومت شفاء خانہ یونانی چارمینار کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کرے گی اور نظامیہ طبی شفاء خانہ چارمینار کی موجودہ حالت کا ذمہ دار آندھرائی حکمراں طبقہ رہا ہے۔ علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد آج پہلی مرتبہ ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے وزیر صحت کے لکشما ریڈی کے ہمراہ یونانی دواخانہ کا معائنہ کیا اور مریضوں کے علاوہ ذمہ داران بالخصوص یونانی کالج کے عہدیداروں سے ملاقات کی۔ دونوں وزراء شفاء خانہ کی عمارت سے آیورویدک ہاسپٹل کی منتقلی کے متعلق کئے گئے سوال کا جواب دینے سے قاصر رہے۔ دورہ کے دوران وزراء کو اِس بات سے واقف کروایا گیا کہ گزشتہ تین برسوں سے اِس قدیم دواخانہ میں لیبر روم اور آپریشن تھیٹر کی خدمات مفلوج ہیں

جس کے سبب دواخانہ سے رجوع ہونے والوں کو خود دواخانہ کے انتظامیہ کی جانب سے دوسرے دواخانوں کو روانہ کیا جارہا ہے۔ اِس موقع پر وزراء کے ہمراہ مقامی رکن اسمبلی اور ضلع کلکٹر مسٹر راہول بوجا اور بڑی تعداد میں ٹی آر ایس کارکن موجود تھے۔ چارمینار یونانی دواخانہ کے علاوہ دونوں وزراء نے طبی ہاسپٹل دبیرپورہ اور بانو نگر (مادنا پیٹ) کے قریب اسکول کی تعمیر کے لئے مختص کردہ اراضی کا معائنہ کیا۔ شفاء خانہ یونانی کے دورہ کے موقع پر ٹی آر ایس کارکنوں کی بڑی تعداد وزراء کے ہمراہ داخل ہونے کے سبب ضلع کلکٹر مسٹر راہول بوجا کو دواخانہ کے باہر ہی رُکے رہنا پڑا اور وہ راست مریضوں کی شکایات کی سماعت سے محروم رہے۔ بعدازاں دواخانہ میں موجود آؤٹ پیشنٹ کی عمارت کے مخدوش ہونے کے سبب درپیش مشکلات سے آگہی حاصل کی گئی اور 400 گز پر آؤٹ پیشنٹ بلاک کے لئے نئی عمارت کی تعمیر کا اعلان کیا گیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہاکہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے یونانی دواخانہ کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے

اور مریضوں کو ہر طرح کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں جہاں جناب محمد محمود علی کے تین سالہ ترقیاتی فنڈس کے صرفہ سے اسکول کی تعمیر کا آغاز ہونے جارہا ہے، اُس مقام پر رکن اسمبلی یاقوت پورہ نے جونیر کالج و ڈگری کالج کے قیام کے لئے کی گئی نمائندگیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہاکہ اسکول کے ساتھ ساتھ اِس جگہ پر جونیر و ڈگری کالج برائے طالبات کے قیام کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔ اُنھوں نے اِس بات کی بھی شکایت کی کہ اسکول کی تعمیر کی منظوری کے عمل اور اراضی کی حوالگی کے عمل میں اُنھیں شریک نہیں رکھا گیا جبکہ وہ مقامی رکن اسمبلی ہیں۔ شفاء خانہ یونانی کے دورہ کے موقع پر سپرنٹنڈنٹ دواخانہ ڈاکٹر عابدہ سلطانہ، ڈاکٹر محمد سلیم، ڈاکٹر اے اے خان، ڈاکٹر میر یوسف علی، پرنسپل یونانی کالج ڈاکٹر شہزادی سلطانہ، ڈاکٹر سراج الحق کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ دواخانہ کے ملازمین کی اسوسی ایشن کی جانب سے ڈپٹی چیف منسٹر کو ایک یادداشت حوالہ کرتے ہوئے خواہش کی گئی کہ جزوقتی ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے ساتھ مخلوعہ جائیدادوں پر فی الفور تقررات کو یقینی بنایا جائے۔ دبیرپورہ ٹی بی ہاسپٹل کے عقب میں واقع وسیع و عریض اراضی کا معائنہ کرتے ہوئے ریاستی وزیر صحت نے کہاکہ اِس اراضی کے بہتر استعمال کے لئے یہاں ملٹی اسپیشالیٹی و سوپر اسپیشالیٹی دواخانہ کی تعمیر ممکن ہوسکتی ہے۔ اِس سلسلہ میں ریاستی وزارت صحت اور حکومت کی جانب سے غور و غوض کے بعد قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT