Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / چارمینار شفا خانہ کی قدیم ریلنگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار

چارمینار شفا خانہ کی قدیم ریلنگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار

انتظامیہ کی لاپرواہی اور کمرشیل بورڈ سے تاریخی آثار کا بتدریج خاتمہ

انتظامیہ کی لاپرواہی اور کمرشیل بورڈ سے تاریخی آثار کا بتدریج خاتمہ
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اگست : ( نمائندہ خصوصی ) : سلطنت آصفیہ کے خاتمہ کے ساتھ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت مسلم حکمرانوں کے دور میں تعمیر کردہ تاریخی عمارتوں کی شناخت بدلنے کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع کیا گیا ۔ سب سے پہلے دنیا کی پہلی اردو یونیورسٹی عثمانیہ یونیورسٹی کی شناخت مٹانے کی ناپاک کوشش کرتے ہوئے اردو ذریعہ تعلیم کو ختم کردیا گیا ۔ متعصب عناصر نے یونیورسٹی کے Emblem کی شکل بدل ڈالی جس پر کلمہ طیبہ اور حضور نظام کا تاج کندہ کیا گیا تھا ۔ اسی طرح آندھرا پردیش ہائی کورٹ سے لے کر سکریٹریٹ تک ہر مقام کی شناخت کو مٹانے کی کوشش کی گئی اور مسلمان بڑی بے بسی سے دیکھتے رہے ۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ قوموں کے نام و نشان مٹانے سے قبل اس کے تاریخی آثار کو تباہ کیا جاتا ہے ۔ آئیے آج ہم آپ کو پرانے شہر کی ایک ایسی ہی تاریخی عمارت اور ریاست کا سب سے بڑا یونانی دواخانہ ، نظامیہ طبی کالج و نظامیہ شفا خانہ المعروف چارمینار دواخانہ کے بارے میں بتاتے ہیں جہاں دھیرے دھیرے تاریخی آثار کو جانے انجانے میں ختم کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ اسی تاریخی عمارت کے بارے میں شہر کے معزز افراد نے ہماری توجہ مبذول کرائی کہ اس تاریخی دواخانے کے اطراف جو ریلنگ موجود ہے وہ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے ۔ اس تاریخی فولادی ریلنگ جس کی اونچائی 4 فٹ ہے کی ریلنگ میں ہر دس فٹ کے فاصلے پر گول دائرے ہیں اردو میں ’ آصف جاہی عثمان علی خاں ‘ تحریر ہے ۔ لیکن جب ہم نے اس کا تفصیلی جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ کئی جگہ سے ریلنگ ٹوٹی ہوئی ہے ۔ کئی ایک جگہ مذکورہ گول دائرہ میں تحریر کردہ آصف جاہی عثمان علی خاں مکمل طور پر غائب ہے ۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ یہاں پچھلے 30 برسوں کے دوران سڑکوں کی دوبارہ توسیع کی گئی ہے جس کی وجہ سے ریلنگ کو نقصان پہنچا اور جو محفوظ رہ گئے تھے اسے دواخانہ انتظامیہ نے اور دکانداروں کی لاپرواہی نے تباہ کردیا ۔ دکانداروں کی جانب سے بورڈ آویزاں کرنے سے یا تو مذکورہ دائرہ چھپ گیا ہے یا پھر ٹوٹ گیا ہے ۔ اس معاملے میں غیروں سے کیا شکوہ کیا جائے ، سچ تو یہ ہے کہ ان تاریخی آثار کو مٹانے میں جہاں غیروں کا ہاتھ ہے وہیں اپنوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اگر ہم تاریخی اعتبار سے اس تاریخی دواخانہ کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ اس کی تعمیر سے قبل چارمینار سے متصل تقریبا 3 لاکھ روپیہ ادا کر کے مذکورہ اراضی حاصل کی گئی تھی اور بعد ازاں 5 لاکھ روپئے کی لاگت سے اس عمارت کی تعمیر کی گئی ۔ جس کا سنگ بنیاد خود اعلیٰ حضرت عثمان علی خاں نے 14 ربیع الثانی 1345 ھ کو رکھا تھا ۔ بعد ازاں اس میں مزید دو لاکھ روپئے خرچ کئے گئے ۔ اور اس طرح اس دور میں جملہ 10 لاکھ کی لاگت سے اس تاریخی عمارت کا وجود عمل میں آیا ۔ جس میں کالج اور شفا خانہ کی تمام ضروریات ، مثلا تعلیم ، معالجہ کا فیاضانہ طور پر لحاظ رکھا گیا ۔ طب یونانی ایسا عظیم دواخانہ اور ایسی بے نظیر عمارت کی ہندوستان میں شاید ہی کوئی مثال موجود ہو ۔ سچ تو یہ ہے کہ ریاست کے تقریبا تمام بڑی اور تاریخی عمارتیں آصف جاہی حکمرانوں کی دین ہے اسی طرح آر ٹی سی ، ریلویز ، سڑکیں ، بجلی وغیرہ بھی آصف جاہی حکمرانوں کے کارناموں کا نتیجہ ہے ۔ مگر افسوس کہ مسلمانوں کی خاموشی کے نتیجہ میں تمام تاریخی عمارتوں کی شناخت مٹائی جارہی ہے ۔ ایک بزرگ مگر برہم شہری نے بتایا کہ ہمارے شہریوں خاص کر مسلمانوں میں اپنی شناخت کے تحفظ کا جذبہ ہی باقی نہیں رہا وہ ہر نا انصافی کو مسکرا کر سہہ لیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان تاریخی عمارتوں اور اس کی شناخت کی حفاظت کے لیے ہم صرف حکومت پر تکیہ نہیں کرسکتے بلکہ ان آثار اور شناخت کی حفاظت کے لیے شہریوں کو ہی آگے آنا پڑے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT