Tuesday , April 24 2018
Home / شہر کی خبریں / چارمینار عنقریب منہدم ہوجائے گا؟

چارمینار عنقریب منہدم ہوجائے گا؟

تاریخی عمارت کے دامن میں تعمیراتی کاموں پرمحکمہ آثار قدیمہ کو گہری تشویش
حیدرآباد۔13اپریل(سیاست نیوز) حیدرآباد کی شناخت425 سالہ قدیم تاریخی یادگار چارمینار سے ہے لیکن اب اس تاریخی عمارت کو موجودہ ایک خطرہ کا سامنا ہے ۔ اس کے قریب میں زیر زمین پائپ لائنزسے چارمینار کو خطرہ لاحق ہے ۔محکمہ آثار قدیمہ (ایس ایس آئی) نے ایک خطرہ کی نشان دہی کی ہے اور یہ خطرہ وہ پائپ لائن کا کام جو تاریخی عمارت سے صرف 20 میٹر کے حدود میں زیر تعمیر ہے۔ سپرنٹنڈنگ آثار قدیمہ ملن کمار چاؤلی نے طویل مدتی نقصان کے بارے میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کمشنر سے اس ضمن میں نمائندگی کی ہے جو موجودہ کام کی وجہ سے چار مینار کو خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ تاریخی عمارت کے لئے پائپ لائن کا کام بہت خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ ماضی میں یہ پائپ لائین 1 فٹ گہرا ہوا کرتاتھا لیکن موجودہ کام چار مینار سے 20 میٹر کے فاصلے میں دو 3 فٹ قطر پائپ لائنوں کو 6۔7 فیٹ کی گہرائی سے گزرا گیا ہے۔ مسٹر چاؤلی نے کہا کہ پائپ لائنوں سے اخراج کا خدشہ رہتا ہے اور یہ چارمینار کے لئے مستقبل میں شدید نقصان کا باعث ہے۔مسٹر چاؤلی نے قدیم یادگاروں اور آثار قدیمہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یادگار عمارت ایک چونا، پتھر اور مارٹر کی ساخت ہے اور زمین کے نیچے پانی کی کھدائی کا نتیجہ یہ ہو گاکہ مستقبل میں اس تاریخی عمارت کو اندرونی طور پر نقصانات کا سامنا ہوگا۔ پائپ لائن کا کام انتہائی سست روی سے جاری چارمینار پیدل راہ گیر پرجیکٹ کا حصہ ہے۔ جس کے تحت دو 0.9 میٹر پائپ لائنز بچھائے جارہے ہیں اور اس میں ایک پائپ لائین بارش کے پانی کی نکاسی کیلئے استعمال ہوگی جبکہ دوسری لائین عوامی ضروریات کے لئے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی ) کے ایک عہدیدار نے کہا فائبر آپٹک کیبلز کا کام تقریبا 80 فیصد مکمل ہوچکا ہے اور باقی کام اس مہینے کے اختتام تک مکمل ہونے کا امکان ہے ۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ نے چارمینار کے قریبی قربت میں ہونے والے تعمیراتی کاموں پر خدشات ظاہر کئے ہوں محکمہ آثار قدیمہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ میں نے اپنے ہیڈ آفس کو کئی خطوط تحریر کئے جس میں چارمینار کے اطراف ہونے والے تعمیراتی کاموں سے تاریخی عمارت کو موجود خدشات سے واقف کروایا اور ساتھ ہی اس جانب بھی توجہ مبذول کروائی کے جی ایچ ایم سی سابق سڑک کی پرت کھودنے کے لئے نیومیٹک مشین کا استعمال کر رہا ہے اور سڑک کھودنے کے دوران زمین کا ارتعاش چارمینارکی عمارت کو شدید نقصان پہنچاسکتا ہے۔چارمینار سائٹ کے اے ایس آئی عہدیدارگوپال راؤ نے کہا سٹرک کے کھدائی کے لئے جی ایچ ایم سی عملہ مشن سے زمین میں سوراخ ڈال رہے ہیں اس سے جو ارتعاش پیدا ہورہا ہے وہ چارمینار کیلئے زلزلہ کی مانند ہوگا اور زلزلہ سے عمارتوں کو جو نقصان ہوتاہے ویسے ہی نقصان کا چارمینار کو بھی خدشہ ہے لیکن میرے خطوط کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT