Wednesday , December 19 2018

چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے کاموں میں تیزی ، ٹھیلہ بنڈی راں پریشان حال

پراجکٹ کی تکمیل کے بعد مخصوص تجارت کی اجازت ، جی ایچ ایم سی کے فیصلہ پر عوام میں تشویش
حیدرآباد۔21فروری(سیاست نیوز) تاریخی چارمینار کے دامن میں جاری ترقیاتی و تعمیری کاموں کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے اور چامینار سے مکہ مسجد جانے والی سڑک پر فرش اندازی کا کام تیزی سے جاری ہے لیکن جیسے جیسے چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے کاموں میں تیزی آتی جا رہی ہے اسی رفتار سے چارمینار کے دامن میں لگائے جانے والی ٹھیلہ بنڈیوں کے مالکین کی تشویش میں اضافہ ہونے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ان میں سے چنندہ ٹھیلہ بنڈی رانوں کو لائسنس کی اجرائی کے ذریعہ انہیں چارمینار کے دامن میں تجارت کی اجازت حاصل رہے گی۔ بتایاجاتاہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے آغاز سے قبل چارمینار کے اطراف کے علاقہ کی فضائی تصویر کشی کر رکھی ہے اور ان تصاویر میں موجود ٹھیلہ بنڈی رانوں کو پراجکٹ کی تکمیل کے بعد بھی رکھا جائے گا جبکہ چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے سلسلہ میں راستہ مسدود کئے جانے کے بعد جن ٹھیلہ بنڈیوں کا اضافہ ہوا ہے انہیں ہٹانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔جی ایچ ایم سی عہدیداروں نے بتایا کہ چارمینار کے اطراف ٹھیلہ بنڈی پر کاروبار کرنے والوں کو پراجکٹ کے آغاز سے قبل ہی کاروبار سے بے دخل نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تعمیری و ترقیاتی کاموں کی شروعات کی گئی تھی لیکن جیسے جیسے ترقیاتی کاموں میں تیزی آتی جا رہی ہے ویسے ہی ٹھیلہ بنڈیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہاہے اور بعض لوگ اس اضافہ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے چارمینار پیدل راہروں پراجکٹ میں ٹھیلہ بنڈی رانوں کے مستقبل کا بھی جائزہ لیا ہے اور ان کی تجارت کو نقصان نہ ہواس کے لئے مخصوص ٹھیلہ بنڈیوں کے لگائے جانے کا فیصلہ بھی کیا جا چکا ہے لیکن ان ٹھیلہ بنڈیوں کی اجازت صرف ان ٹھیلہ بنڈی رانوں کو دی جائے گی جو خود اپنی تجارت کرتے ہیں اور پراجکٹ کے کاموں کے آغاز سے قبل چارمینار کے دامن میں کاروبار کر رہے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ اور چارمینار کے دامن میں کاروبار کر رہے ٹھیلہ بنڈی رانوں سے متعلق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں نے قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے عہدیداروں سے بھی مشاورت کی ہے اور کہا جا رہاہے کہ 80 کی دہائی میں ٹھیلہ بنڈی رانوں کو فراہم کی گئی کاروبار کی جگہ کے ریکارڈس کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے تاکہ کاروبار کے لئے جگہ حاصل کرنے کے باوجود ٹھیلہ بنڈی برقرار رکھنے والوں کے خلاف کاروائی کی جاسکے اور مستحقین کو چارمینار کے دامن میں ٹھیلہ بنڈی پر تجارتی سرگرمیوں کی انجام دہی کی اجازت فراہم کی جائے ۔بتایاجاتاہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے آئندہ ماہ اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے اور اگلے تین ماہ کے دوران پراجکٹ کے آغاز سے قبل لی گئی فضائی تصاویر کی بنیاد پر ٹھیلہ بنڈی رانوں کی نشاندہی کے عمل کو مکمل کرتے ہوئے انہیں لائسنس کی اجرائی کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔اس سلسلہ میں محکمہ پولیس اور ٹریفک پولیس کے علاوہ علاقہ کے منتخبہ عوامی نمائندوں سے بھی مشاورت کئے لئے آئندہ دنوں کے دوران اجلاس منعقد کئے جائیں گے تاکہ تمام امور کو قطعیت دی جا سکے۔

TOPPOPULARRECENT