چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے کاموں میں تیزی،قریبی علاقوں میں تجارتی بازار ، رہائشی علاقے تجارتی علاقوں میں تبدیل

حیدرآباد۔7مارچ(سیاست نیوز) چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے ترقیاتی کاموں میں تیزی کے بعد اب لاڑ بازار‘خلوت ‘ کوٹلہ عالیجاہ ‘ پنجہ شاہ ‘ مٹی کا شیر‘ چوک کے علاقوں میں تجارتی بازار پھیل رہے ہیں اور ان علاقوں کے رہائشی علاقہ بھی تیزی سے تجارتی علاقوں میں تبدیل ہونے لگے ہیں۔ چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے سلسلہ میں جاری تعمیراتی کاموں اور پراجکٹ پر عمل آوری کے سلسلہ میں ٹریفک کا راستہ مسدود کر دیئے جانے کے بعد اطراف کے علاقو ںمیں جہاں رہائشی مکانات ہوا کرتے تھے ان علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہونے لگا ہے اور چارمینار کے دامن میں تجارت کرنے والوں کی دلچسپیاں ان علاقوں میں بڑھتی جا رہی ہیں۔ پیدل راہرو پراجکٹ کے متعلق تجارتی برادری کا کہناہے کہ اس کے پر من و عن عمل آوری سے تجارت پر اثر پڑے گا اور شہریان حیدرآباد سہولت دیکھتے ہوئے ان علاقوں تک ہی پہنچیں گے جہاں انہیں گاڑی لیجانے اور پارک کرنے کی سہولت موجود ہے اسی لئے اطراف کے علاقوں میں تجارتی کامپلکسوں کی تعمیر کے علاوہ جائیدادوں کی خرید و فرخت میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ چارمینار کے دامن میں اب تک تجارت کرنے والے تاجرین اطراف کے علاقو ںمیں اپنی تجارت منتقل کرنے کے سلسلہ میں کوشش کر رہے ہیں کیونکہ بیشتر ایسی دکانات جو کہ اب سنسان ہوتی جا رہی ہیں وہ دکاندار اپنے مقام تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو موصولہ اطلاعات کے مطابق اطراف کے رہائشی علاقوں میں تجارتی بازارکھولے جانے سے عوام کو مسائل پیش آسکتے ہیں اسی لئے اس مسئلہ کے حل کے لئے متعدد امور پر غور کیا جا رہاہے۔چارمینار کے دامن میں موجود ہوٹل ‘ پان کی دکان کے علاوہ اور دیگر کے کاروبار بری طرح سے متاثر ہوچکے ہیں ۔ عہدیداروں کا کہناہے کہ شہر میں چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے تعمیری و ترقیاتی کاموں کے سبب ٹریفک کے کوئی مسائل کی شکایات موصول نہیں ہو رہی ہیں لیکن بعض مقامات پر راستوں کی تبدیلی سے ہونے والی مشکلات کا جائزہ لیا جا رہاہے اور عنقریب ان مسائل کو حل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔چارمینار کے اطراف کے رہائشی علاقوں کے مالکین جائیداد اپنی جائیدادوں کو تجارتی مراکز میں تبدیلی کے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔مالکین جائیداد اور ماہرین کا کہناہے کہ آئندہ برس تک جب پراجکٹ مکمل ہوگا اس وقت تک اطراف کے علاقو ں میں تجارتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہوں گی اور مقامی گاہک کے علاوہ سیاح بھی ان علاقو ںکا رخ کرنے لگیں گے۔

TOPPOPULARRECENT