Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / چارمینار کی تعمیر میںکئی حقائق پوشیدہ اور ہندسہ 4 کی اہمیت

چارمینار کی تعمیر میںکئی حقائق پوشیدہ اور ہندسہ 4 کی اہمیت

حیدرآباد ۔ 29 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : چارمینار کی تعمیر ایک تاریخ ہے اور اس تاریخ کے کئی پہلو ہیں ۔ ’ چار ‘ کے ہندسہ کے استعمال اور اس سے تعمیر کیے گئے دیوار اور ستون کی فنی جادوئی حیثیت ہے جس سے عوام واقف نہیں ۔ چارمینار میں 4 کے ہندسہ کے ساتھ 22 چھوٹے میناروں کی تعداد کو بھی ملاحظہ کیا جائے تو 2 اور 2 چار ہوجائے گا ۔ اس طرح بادشاہ وقت ن

حیدرآباد ۔ 29 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : چارمینار کی تعمیر ایک تاریخ ہے اور اس تاریخ کے کئی پہلو ہیں ۔ ’ چار ‘ کے ہندسہ کے استعمال اور اس سے تعمیر کیے گئے دیوار اور ستون کی فنی جادوئی حیثیت ہے جس سے عوام واقف نہیں ۔ چارمینار میں 4 کے ہندسہ کے ساتھ 22 چھوٹے میناروں کی تعداد کو بھی ملاحظہ کیا جائے تو 2 اور 2 چار ہوجائے گا ۔ اس طرح بادشاہ وقت نے جب چارمینار کی تعمیر اور اس کے ڈیزائن کو بنایا تو اس کے پیچھے کئی باتیں پوشیدہ تھیں ان خیالات کا اظہار ماہر آثار قدیمہ جناب ایم اے قیوم نے یہاں اپنی جانب سے مرتب کردہ کتاب ’ چارمینار ‘ کی رسم اجرائی تقریب میں کیا ۔ اس کی صدارت مولانا عبدالرحیم قریشی صدر مجلس تعمیر ملت نے کی اور اپنی صدارتی تقریر میں جناب رحیم قریشی نے کہا کہ آثار قدیمہ قوم کی وراثت ہوتے ہیں ان کو کسی مذہب سے نہیں جوڑنا چاہئے ۔ حکومتیں بدلنے کے بعد کئی تاریخی عمارتوں اور قومی یادگاروں کی تاریخ اور حقیقت کو مسخ کردیا جارہا ہے ۔ نئی نسل کو تاریخ کی حقیقت سے واقف نہیں کروایا جارہا ہے ۔

مسٹر پانڈو رنگاریڈی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور اپنی تقریر میں تاریخ کے حوالہ سے چارمینار کو حیدرآباد کی علامت اور سارے ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں حیدرآباد کی پہچان بتایا ۔ مسٹر کے ایم عارف الدین سکریٹری مدینہ ایجوکیشن اینڈ ویلفیر سوسائٹی نے سرسید کانفرنس ہال میں منعقدہ اس تقریب میں مہمانان کا استقبال کیا ۔ اور کہا کہ ایسے پروگرام کے انعقاد کے ذریعہ نہ صرف ملنے کا موقع ملتا ہے بلکہ اپنے خیالات کا تبادلہ کرسکتے ہیں ۔ پروفیسر انور نے مباحث میںحصہ لیتے ہوئے چارمینار کی بدلی ہوئی حالت اور موجودہ شکل کو مذہبی تنازعہ کے بجائے حقیقت اور مذہبی تقدس سے دیکھنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ آج سے 40 سال قبل کا چارمینار الگ تھا ۔ آج اس کی شکل مختلف ہے ۔ جناب عبدالرحیم کمال ، ضیا الدین نیر ، انعام الحق ظہور ، ڈاکٹر عبدالرحمن ، خلیق الرحمن ، شمیم الدین ، امجد اللہ خاں خالد اور دیگر سرکردہ شخصیات اس جلسہ میں شریک تھیں ۔ آخر میں جناب کے ایم عارف الدین نے شکریہ ادا کیا

TOPPOPULARRECENT