Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / چار اہم اوقافی اراضیات کو وقف بورڈ فنڈ سے ڈیولپ کرنے کا فیصلہ

چار اہم اوقافی اراضیات کو وقف بورڈ فنڈ سے ڈیولپ کرنے کا فیصلہ

وقف بورڈ کی ڈیولپمنٹ و فینانس کمیٹی کا اجلاس، الحاج محمد سلیم چیرمین بورڈ کا خطاب

حیدرآباد۔ 19 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے شہر کے اہم مقامات پر واقع چار اوقافی اراضیات کو اپنے فنڈ سے ڈیولپ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں بورڈ کی ڈیولپمنٹ کمیٹی کے اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی۔ وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کے مقصد سے درکار وسائل کے ذریعہ چار اہم مقامات پر موجود اراضیات پر ہمہ منزلہ کامپلیکس تعمیر کئے جائیں گے جبکہ دیگر چھ اراضیات کو حکومت کے احکامات کے مطابق 30 سالہ لیز پر دیئے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں ای۔ ٹنڈرس طلب کئے جاسکتے ہیں۔ وقف بورڈ کی ڈیولپمنٹ اور فینانس کمیٹی کا اجلاس صدرنشین محمد سلیم کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان مولانا اکبر نظام الدین، مرزا انور بیگ، ملک معتصم خاں، صوفیہ بیگم، وحید احمد ، نثار حسین حیدر آقا، ذاکر حسین جاوید اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی نے شرکت کی۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدرنشین محمد سلیم نے بتایا کہ بیگم پیٹ میں واقع سابق ٹاسک فورس آفس کی 1000 مربع گز اراضی جو عاشور خانہ نعل مبارک کے تحت وقف ہے، اسے وقف بورڈ ڈیولپ کرے گا۔ اس کے علاوہ خیریت آباد میں واقع بشیرالنساء وقف کی 500 مربع گز اراضی، دودھ باؤلی میں واقع عاشور خانہ کے تحت 239 مربع گز اراضی اور درگاہ ثابت علی شاہ مہدی پٹنم کے تحت 480 مربع گز اراضی کو ڈیولپ کرتے ہوئے اسے وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے پاس فی الحال ان اراضیات کو ڈیولپ کرنے کیلئے وسائل اور فنڈس دستیاب ہیں، اگر کچھ کمی درپیش ہو تو سنٹرل وقف کونسل سے فنڈس حاصل کئے جائیں گے۔ ڈیولپمنٹ کمیٹی نے دیگر اہم اراضیات کی 30 سالہ لیز کے مسئلہ کا بھی جائزہ لیا تاہم اس سلسلے میں قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ حج ہاؤز سے متصل 3,800 مربع گز کھلی اراضی، چوکھنڈی شیخ پیٹ میں 1300 مربع گز اور درگاہ حضرت بابا شرف الدینؒ کے تحت مامڑپلی میں موجود 50 ایکر اراضی کے ڈیولپمنٹ کا مسئلہ بھی زیرغور رہا۔ واضح رہے کہ حکومت نے وقف بورڈ کو 11 اراضیات لیز پر دینے کی اجازت دی ہے، تاہم وقف بورڈ نے 30 سالہ لیز پر دینے کے بجائے چھوٹی اراضیات کو اپنے فنڈس سے ڈیولپ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محمد سلیم نے بتایا کہ آمدنی میں اضافہ کے ذریعہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی اسکیمات پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ ڈیولپمنٹ کمیٹی نے 30 سالہ لیز پر دینے کیلئے ای۔ٹنڈرس سسٹم کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں ایک ماہر ایجنسی کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ نے بتایا کہ حج ہاؤز سے متصل زیرتعمیر کامپلیکس کو بھی لیز پر دیا جائے گا تاکہ اس ہمہ منزلہ عمارت کی تکمیل ہوسکے۔ ذیلی کمیٹیوں نے زیرتعمیر کامپلیکس کے بلڈر کے زیرالتواء بلس کی بھی منظوری دے دی ہے۔ وقف بورڈ اور بلڈر نے رقم کے بارے میں تنازعات کی عدالت کے باہر یکسوئی کا فیصلہ کیا ہے۔ مقررہ وقت پر عدم تکمیل کے باعث بورڈ نے بلڈر پر جرمانہ عائد کیا تھا جبکہ بلڈر نے رقم کی ادائیگی میں تاخیر پر اضافی فیس عائد کی۔ اس طرح بلڈر نے 3 کروڑ 20 لاکھ 25 ہزار 345 روپئے کا مطالبہ کیا، تاہم باہمی مصالحت کے بعد ایک کروڑ 35 لاکھ 51 ہزار 325 روپئے کی ادائیگی سے اتفاق کیا گیا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے بتایا کہ ذیلی کمیٹی نے درگاہ حضرات یوسفینؒ کے عرس کے انتظامات کا جائزہ لیا اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ متولی کی عدم موجودگی میں وقف بورڈ راست طور پر انتطامات کرے۔ عرس تقاریب کے تمام انتظامات اور مراسم وقف بورڈ کی جانب سے ادا کئے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اجلاس میں بعض ارکان نے مشائخین پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل کی سفارش کی، تاہم اسے قطعیت نہیں دی گئی۔

TOPPOPULARRECENT